دیار غیر میں ملکی سالمیت کی خاطر پاکستانیوں کو اکٹھا رہنے کی ضرورت

دیار غیر میں ملکی سالمیت کی خاطر پاکستانیوں کو اکٹھا رہنے کی ضرورت
دیار غیر میں ملکی سالمیت کی خاطر پاکستانیوں کو اکٹھا رہنے کی ضرورت

  

جوہانسبرگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ندیم شبیرسے:

کب ہم ایک ہوں گے،کب ہم لوگوں کے دکھ درد بانٹنے کیلئے ایک ہوں گے۔کب ہم لوگ ایک پلیٹ فارم پر بیٹھیں گے۔ کب ہم ایک دوسرے پاکستانی بھائی کا اچھا کاروبار دیکھ کر اسے اپنا بنانے کے خواب دیکھنا بند کریں گے؟ نہ جانے پوری دنیا میں دیار غیر میں رہنے والے کتنے پاکستانی اپنے ہی بھا ئیوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہو رہے ہیں۔ نہ جانے کتنے پاکستانی اپنے پاکستانی بھائیوں کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔آکر کب ہم لوگوں کو سمجھ آئے گی ہم دیار غیر میں رہ کر بھی ایسی حرکتوں سے باز نہیں آتے جس سے ہمارے ملک کی ساکھ خراب ہوتی ہے حالیہ دنوں میں سوازی لینڈ میں ایک پاکستانی نعیم گل خان کے ساتھ صرف اسکا کاروبار حاصل کرنے کے لئے درندگی کی انتہا کر دی گئی ہمارے اپنے ہی پاکستانی بھائی نے تین اور پاکستانیوں کی مدد سے نعیم گل خان کو جان سے مارنے کی کوشش کی کیا ہمارا مذہب ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے؟ کہ ہم دوسرے بھائی کی جان لینے کی کوشش کریں اور وہ بھی ایک دکان کی خاطر۔ ان درندوں نے نعیم گل کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو بھی نہ دیکھا کہ وہ دیار غیر میں اپنی ماں کے ساتھ کدھر جائیں گے اگر ان کے ابو کو کچھ ہو گیا،اللہ رب العزت نے نعیم گل خان کو دوسری زندگی بخشی ان درندوں نے تو کوئی کسر نہ چھوڑی اسے مارنے کی،آخر اس بے چارے کا قصور کیا تھا جو اس بے دردی سے اسے مارا پیٹا گیا شاید اس طرح تو کوئی قصائی بھی جانور کو نہ کا ٹتا ہو جس طرح گل خان کے ساتھ کیا گیا۔پتہ نہیں ہمارا لالچ کب ختم ہو گا اور کب ہماری ہوس پوری ہو گی اور ہم لوگ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس کام میں ہماری ہی بدنامی ہو گی اور یہ لوگ ہم پر ہنسیں گے کہ کس طرح سے ہم لوگ آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں۔ ایسے شرپسند عناصر کو ان ملکوں کی حکومت چاہئے کہ فی الفور ایسے لوگوں کو اپنے ملک سے نکال دیں جن کی وجہ سے دوسرے لوگوں کا چین خراب ہو رہا ہو۔اللہ تعالیٰ نعیم گل خان کو جلد سے جلد صحت اور تندرستی عطافرمائے اور اسکا سایہ ہمیشہ اس کے بیوی بچوں کے سر پر سلامت رکھے اور ہم لوگوں کو بھی اللہ کی ذات سیدھا راستہ دکھائے جس پر عمل کر کے ہم اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کریں۔

مزید : عالمی منظر