فیصل آباد‘اقبال سٹیڈیم کوجلد بین الاقوامی معیار کا بنایاجائے گا: ڈی سی او

فیصل آباد‘اقبال سٹیڈیم کوجلد بین الاقوامی معیار کا بنایاجائے گا: ڈی سی او

فیصل آباد (بیورورپورٹ) فیصل آباد کو کھیلوں کا عالمی مرکز بنانے کیلئے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے اور اس سلسلہ میں بہت جلد اقبال سٹیڈیم کو بین الاقوامی معیار کے سٹیڈیم میں تبدیل کر دیا جائیگا۔ یہ بات فیصل آباد کے ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن آفیسر کنور اعجاز خالق رزاقی نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کرکٹ کپ 2016 میں شرکت کرنے والی ٹیموں کے اعزاز میں دیئے جانے والے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اقبال سٹیڈیم کی تعمیر و آرائش کا کام پہلے ہی جاری ہے جبکہ اس میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ ، پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ مل کر اس کو بین الاقوامی معیار کا سٹیڈیم بنائے گی تا کہ یہاں انٹرنیشنل میچ بھی منعقدکئے جا سکیں۔ کھیلوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں زبردست ٹیلنٹ موجود ہے یہی وجہ ہے کہ پچھلے سال قومی سطح کی سب سے زیادہ 17 چیمئن شپس فیصل آباد میں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مختلف ملکوں میں ہونے والے کھیلوں کے 70 مقابلوں میں شرکت کی جبکہ ان ٹیموں کے زیادہ تر کھیلاڑیوں کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ضلعی حکومت کے زیر اہتمام سکوائش کمپلیکس اور ٹیبل ٹینس کے منصوبے زیر تکمیل ہیں جبکہ ملک کی پہلی ٹارٹن ٹریک بھی فیصل آباد میں بچھائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کھیلوں کے فروغ کے سلسلہ میں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انتظامیہ شہریوں اور با الخصوص تاجروں کے تعاون سے کھیلوں کی ترقی کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ ڈی سی او نے کہا کہ کرکٹر وسیم حیدر چناب کلب کا ممبر ہے ۔ اس نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ اس کی خدمات کے اعتراف میں بہت جلد ایک شایان شان تقریب ہوگی جس میں اسے گولڈ میڈل پیش کیا جائیگا۔اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائمقام صدر سید ضیاء علمدار حسین نے نوجوان کرکٹرز کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ اور ڈی سی او کا شکریہ ادا کیا جن کی وجہ سے فیصل آباد کے باسیوں کو طویل عرصہ بعد اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد بنیاد ی طور پر زرعی ، صنعتی اور کاروباری شہر ہے۔ مرکزی اور صوبائی دارالخلافہ نہ ہونے کے باوجود اس شہر نے محض اس مردم خیز خطے کے محنت کشوں، تاجروں ، صنعتکاروں اور باالخصوص برآمد کنندگان کی انتھک جدوجہد کی وجہ سے دنیا میں نام کمایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی کل 13 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل برآمدات میں صرف اس شہر کا حصہ 60 فیصد ہے۔ کراچی کے بعد سرکاری محاصل کی ادائیگی میں بھی اس کا دوسرا نمبر ہے۔ ملک کی سب سے بڑی زرعی یونیورسٹی اور سب سے بڑا کیمیکل پلانٹ بھی اسی شہر میں واقع ہے جبکہ عالمی اداروں کے اعدادوشمار کے مطابق اس شہر کا شمار تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض ڈویژن لیول کا شہر ہونے کی وجہ سے اس پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کا یہ شہر حقدار ہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح کے ہونے والے کرکٹ مقابلوں میں بھی اس شہر کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں کھیل ایک صنعت کا درجہ اختیار کرچکی ہے ان کے ذریعے جہاں کاروبار اور باالخصوص سیاحت کی صنعت کو ترقی دی جاسکتی ہے وہاں ملکوں کے مثبت تشخیص کی تشہیر کیلئے بھی کھیلوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم نے کھیلوں کو اس حوالے سے نہ تو دیکھا اور نہ ہی اس کے اچھے اور پیداواری اہداف حاصل کرنے پر توجہ دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے حکومت پاکستان اور وطن عزیز کی مسلح افواج کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔سیدضیا ء علمدار حسین نے بتایا کہ چند ماہ قبل فیصل آباد میں سارک وویمن ہینڈ بال چیمئن کا انعقاد ہوا اس میں 5 ملکوں کی خواتین کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ اس ایونٹ کی سرپرستی میں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بھی اپنا حصہ ڈالااور اس ایونٹ کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ پاکستان کاروبار ی طور پر انتہائی محفوظ اور پر امن شہر ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے سے کوئی بھی خریدار بلا خوف و خطر یہاں آسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ موجودہ پاکستان کرکٹ کپ 2016 سے جہاں یہاں کے لوگوں کو تفریح کی سہولتیں مہیا کی جاسکتی ہیں وہاں اس کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کے سافٹ امیج کو بھی ابھار ا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں حالات بہت جلد معمول پر آجائیں گے جس کے بعد غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کے آنے کا سلسلہ بھی شروع ہو جائیگا۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے گزارش کی کہ وہ آئندہ کے ان حالات کی منصوبہ بندی کرتے وقت فیصل آباد کو نظر انداز نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر آف کامرس آئندہ سال بھی اس ایونٹ کی میزبانی کیلئے تیار ہے اور اس حوالے سے تعاون کا سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سینئر جنرل منیجر علی ضیاء نے بھی پاکستان کپ 2016 کیلئے بہترین انتظامات کرنے پر ضلعی انتظامیہ اور فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا شکریہ اد اکیا اور بتایا کہ نجم سیٹھی نے اس تقریب میں خود شرکت کرنی تھی مگر وہ بعض مصروفیات کی وجہ سے نہ آسکے۔ انہوں نے فیصل آباد کے لوگوں کے کرکٹ سے لگاؤ اور میزبانی پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب سے سیکرٹری ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن اعجاز فاروق نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ 80 لاکھ کی آبادی کے اس شہر میں اقبال سٹیڈیم کی طرز پر مزید 4-5 سٹیڈیم ہونے چاہیءں تا کہ سعید اجمل ، طلحہ اور اعجاز نذیر جیسے تاریخ ساز کرکٹر پیدا کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقبال سٹیڈیم کی سیٹنگ کپیسٹی 16 ہزار ہے جو بہت کم ہے لہٰذا بین الاقوامی معیار کا ایک نیا سٹیڈیم فوری طور پر تعمیر کیا جانا چاہیئے جس کی سیٹنگ کپیسٹی کم از کم ساٹھ ہزار ہو۔ استقبالیہ کے دوران سید ضیاء علمدار حسین نے ڈی سی او کو چیمبر کی اعزازی شیلڈ پیش کی جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے بھی منتظمین کو کرکٹ کے بیٹ دیئے گئے۔ اس تقریب میں چناب کلب کے سیکرٹری شکیل انور ، پاکستان کی ون ڈے ٹیم کے کپتال اطہر علی، ٹی ٹونٹی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد،ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری محسن علی اور سیکرٹری اعجاز فاروق کے علاوہ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سنٹر ل چیئرمین ڈاکٹر خرم طارق، مزمل سلطان ، انجینئر رضوان اشرف، یاسر شاہ، شعیب ملک ، سکندر اعظم ، ندیم سندھو اور ندیم اللہ والا نے بھی شرکت کی جبکہ آخر میں نائب صدر جمیل احمد نے معزز مہمانوں اور کرکٹرزکا شکریہ ادا کیا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...