ہلاکتوں میں اضافہ، یمن میں قبروں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں

ہلاکتوں میں اضافہ، یمن میں قبروں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں

صنعاء(اے پی پی) یمن میں پچھلے ایک سال کے دوران ملک کے بڑے شہروں بالخصوص دارالحکومت صنعاء میں حالیہ ایام کے دوران لڑائی میں باغیوں کی صفوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے باعث قبرستان بھی تنگ پڑگئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق دارالحکومت صنعاء کے معروف قبرستانوں میں قبر کے حصول کے لیے جگہ ملنا مشکل ہوگیا ہے اور ایک قبر کی قیمت چار گنا تک بڑھ چکی ہے۔ دارالحکومت کے معرف قبرستانوں میں ایک قبر کے لیے جگہ بہ مشکل ایک لاکھ یمنی ریال میں دستیاب ہوتی ہے۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 400 ڈالر کے برابر ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران صنعاء میں سرگرم باغیوں کو بڑی تعداد میں اپنے جنگجوؤں کی ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے نتیجے میں قبروں کا بھی بحران پیدا ہوگیا ہے۔رپورٹ کے مطابق عام شہری جو قبرستان میں اپنی میتوں کو دفنانے کے لیے قبر کے حصول میں ناکام رہتے ہیں تو وہ دور دراز کے ویران علاقوں میں اپنے مْردوں کو دفن کرنے پر مجبور ہیں۔رواں سال فروری میں حوثی باغیوں کی انقلابی کونسل کے چیئرمین محمد علی الحوثی نے دارالحکومت صنعاء میں کئی نئے قبرستانوں کا افتتاح کیا مگر اب ان میں بھی جگہ کی قلت کا سامنا ہے۔ الجراف کالونی میں دارالحکومت کا سب سے بڑا اور وسیع قبرستان ہے مگراس کی ساری زمین قبروں سے بھر چکی ہے۔ یہاں زیادہ تر آس پاس کے علاقوں میں لڑائی کے دوران مارے جانے والے باغیوں کو لا دفن کیا جاتا رہا ہے۔اسی طرح فروری میں شمالی صنعاء کی عمران گورنری میں بھی حوثیوں نے ایک نئے قبرستان کا افتتاح کیا جب کہ مشرقی صنعاء میں بنی حشیش ڈاریکٹوریٹ میں بھی ایک نیا قبرستان قائم کیا گیا ہے۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...