الزامات لگانے والے بو کھلاہٹ کا شکار ، عمران کو فکر لاحق ہے کہ پی ٹی آئی کہیں کرپٹ ترین پارٹی کے طور پر سامنے نہ آجائے:انوشہ رحمان

الزامات لگانے والے بو کھلاہٹ کا شکار ، عمران کو فکر لاحق ہے کہ پی ٹی آئی کہیں ...
 الزامات لگانے والے بو کھلاہٹ کا شکار ، عمران کو فکر لاحق ہے کہ پی ٹی آئی کہیں کرپٹ ترین پارٹی کے طور پر سامنے نہ آجائے:انوشہ رحمان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ الزامات لگانے والے بو کھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کا دامن بالکل صاف ہے، عمران خان اور انکی ٹیم کو فکر لاحق ہے کہ اس انکوائری کے نتیجے میں پی ٹی آئی کہیں کرپٹ ترین پارٹی کے طور پر سامنے نہ آجائے ۔

نجی ٹی وی ’’ڈان نیوز‘‘ کے پروگرام ’’ان فوکس ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی طرف سے ابھی تک کوئی مضبوط تجویز سامنے نہیں آئی اور نہ ہی ہمارے مرتب کردہ ٹی او آرز پر کوئی ٹھوس اعتراض سامنے آیا ہے، جو اعتراضات اپوزیشن والے اٹھا رہے ہیں وہ تمام چیزیں ٹی او آرز میں شامل ہیں، تاہم سپریم کورٹ کے بنائے گئے کمیشن کو اگر کوئی بھی معاونت درکا ر ہوئی تو تمام وفاقی اور صوبائی ادارے انکی معاونت کے لئے موجود ہیں،سپریم کورٹ کی صوابدید پر ہے وہ جتنا جلدی تحقیقات مکمل کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔انوشہ رحمان نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے مطالبات کو تسلی سے سنا اور کھلے دل سے ان کے مطالبے پر چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کیلئے خط لکھا اور اب بھی اپوزیشن سے کہہ رہے ہیں کہ اگر انہیں ان ٹی او آرز پر کوئی اعتراض ہے تو وہ اس کا متبادل تجویز کریں تاکہ پتہ چل سکے کہ وہ کیا چاہ رہے ہیں۔پی ٹی آئی کے الزامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) پر منظم دھاندلی کا الزام لگایا اور اس وقت بھی جوڈیشنل کمیشن بنایا گیا، عمران خان نے ہمارے ساتھ طے کیا کہ اگر منظم دھاندلی ثابت نہ ہوئی تو وہ اپنے الزامات واپس لیں گے اور حکومت کو آرام سے کام کرنے دیں گے لیکن عمران خان نے جوڈیشنل کمیشن کی رپورٹ کے بعد اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کی۔انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس میں 200لوگوں کا ذکر ہے، ان تمام لوگوں کو دیکھنا ہو گا قانون سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے ، اپوزیشن نے کہا کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے اور جب حکومت رضا مند ہوئی تو اپوزیشن کو اعتبار ہونا چاہئے، مخالفت برائے مخالفت مناسب نہیں ، اگر ہمیں کوئی مسئلہ ہوتا تو ہم ان تمام الزامات کو تحقیقات کے لئے ٹی او آرز میں شامل کیوں کرتے؟

مزید : قومی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...