سیاسی درجہ حرارت اور خوش فہمیاں

سیاسی درجہ حرارت اور خوش فہمیاں
سیاسی درجہ حرارت اور خوش فہمیاں

پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت تیز ہے۔ یہ درست ہے کہ اس میں پانامہ پیپرز کا بھی ہاتھ ہے ،لیکن زیادہ تر یہ تیز درجہ حرارت ہمارے کچھ دوستوں کی شدید خوش فہمیوں کی وجہ سے ہے ۔جس طرح باقی کے بخار اتر جاتے ہیں ، یہ بخار اتر جانے کے بعد پاکستان کا سیاسی درجہ حرارت پھر سے نارمل ہو جائے گا۔ پانامہ پیپرز کے بعد سے حکومت پر دباؤ ہے جس کی وجہ سے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ایک سے زائد بار قوم سے خطاب کرنا پڑا ہے ۔یہی نہیں بلکہ اگلے ہفتے سے وہ عوامی رابطہ مہم کا آغاز خیبر پختون خوا کے شہر مانسہرہ میں ایک عوامی خطاب سے کرنے جا رہے ہیں۔ ان دونوں خطابوں کے درمیان انہیں طبی معائنہ کے لئے چند دنوں کے لئے لندن بھی جانا پڑا ،جہاں ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ ان کے ٹسٹ نارمل آئے ہیں تو وہ ایک لمحہ کی تاخیر کئے بغیر فوری طور پر پاکستان واپس آ گئے۔پاکستان میں اپوزیشن میں پانامہ پیپرز کے معاملے پر اختلافات ہیں اور وہ اس وقت تقسیم شدہ حالت میں ہے جو کہ حکومت کے لئے خوش آئند ہے۔ لندن جانے سے پہلے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے قوم سے خطاب میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج سے تحقیقات کرانے کا اعلان کیا تھا، لیکن ایک تو کسی بھی جماعت نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا تھا اور دوسرا کوئی بھی سابق جج تحقیقات کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔

پیپلز پارٹی سمیت کچھ جماعتوں نے اس وقت پارلیمانی کمیشن بنانے پر اصرار کیا تھا، جبکہ تحریک انصاف سمیت کچھ جماعتوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ لندن سے واپس آنے کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے یہ مطالبہ مان لیا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس انور ظہیر جمالی کو تحقیقاتی کمیشن بنانے کے لئے خط بھی تحریر کر دیا، لیکن اس موقع پر تحریک انصاف کے سربراہ اپنے ہی مطالبہ سے روگردانی کرتے ہوئے چیف جسٹس سے تحقیقات کو بھی رد کر دیا اور ایک احتجاجی مہم کا اعلان کر دیا۔ یہ بات میرے لئے ناقابل فہم ہے کہ جب عمران خان کا چیف جسٹس والا مطالبہ مان لیا گیا تھا تو انہوں نے اپنی ہی کہی ہوئی بات کی لاج کیوں نہیں رکھی۔ عمران خان 2016ء میں ائر مارشل اصغر خان کی 1977 والی سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ،لیکن ان دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ 1977ء میں تمام اپوزیشن پارٹیاں قومی اتحاد کے پرچم تلے متحد تھیں، لیکن آج 2016ء میں عمران خان سیاسی طور پر تنہا ہیں۔ پیپلز پارٹی بدستور پارلیمانی کمیشن کے مطالبے پر قائم ہے، جبکہ جماعت اسلامی، قائد اعظم مسلم لیگ، عوامی نیشنل پارٹی سمیت تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی حمایت کی ہے اور کسی قسم کی احتجاجی تحریک سے صاف معذرت کر لی ہے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جمعہ کی شام کو قوم سے خطاب کیا ، وہ بہت پُراعتماد نظر آئے اور ان کی باڈی لینگوئج مثبت تھی۔ ویسے تو وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی دیکھ رہے ہیں کہ ایک منقسم اپوزیشن ان کے لئے بڑا خطرہ نہیں بن سکتی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے معاملہ ختم کرنے کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کو خط لکھنے کا اعلان کیا تاکہ اپوزیشن کی تسلی ہو جائے۔ حسن اتفاق سے چیف جسٹس بیرونِ ملک جانے کی وجہ سے ایک ہفتہ کی رخصت پر تھے جس کی وجہ سے یہ کمیشن اب ان کے وطن واپس آنے کے بعد بنے گا۔ شروع میں جب حکومت نے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا تو عمران خان نے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن جلد ہی انہوں نے اندازہ لگا لیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی اس طرح کے ایکٹوزم میں ذرا برابر دلچسپی نہیں رکھتے، جو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طبیعت کا خاصہ تھا۔ عمران خان کو جب یہ اندازہ ہوا کہ چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کے آگے ان کی دال نہیں گلے گی تو وہ خود ہی اپنے بنیادی مطالبہ سے پیچھے ہٹ گئے اور تحقیقات کو انٹرنیشنل فرانزک آڈیٹرز کی شمولیت کے ساتھ نتھی کر دیا۔

جہاں تک پانامہ پیپرز یا دوسرے ملکوں میں آف شور اکاؤنٹس کا تعلق ہے ، یہ ٹرک کی وہ لال بتی ہے جس کے پیچھے جتنے مرضی انٹرنیشنل فرانزک آڈیٹرز اور بین الاقوامی حکومتیں لگی رہیں، انہیں سالہا سال تک ٹریک کرنا قطعاً نا ممکن ہے، کیونکہ یہ اس قدر تہہ دار ہوتے ہیں کہ ایک کے بعد ایک پرت اتارتے بھی جائیں اور کسی ایک اکاؤنٹ کی درجنوں پرتیں اتارنے کے باوجود اس کے اصل مالک تک نہیں پہنچا جا سکتا، کیونکہ پانامہ میں قائم لاکھوں اکاؤنٹس صرف پندرہ افراد کے نام ہیں۔ یہ کام اس قدر صبر آزما ، طویل، وقت طلب اور تقریباً ناممکن ہے کہ آج تک آف شور اکاؤنٹ کے ٹریک ہونے کی صرف ایک کوشش کسی حد تک کامیاب ہوئی ہے، جب نائجیریا کے ایک سابق فوجی آمرکے اکاؤنٹس تک انٹرنیشنل فارنزک آڈیٹر پہنچ گئے تھے ،لیکن اس عمل میں بھی انہیں ساڑھے سات سال سے زیادہ عرصہ لگ گیا تھا۔ میرا عمران خان کو انتہائی مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ ٹرک کی لال بتی کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنی پارٹی کو منظم کرکے 2018ء کے الیکشن کی تیاری کریں کیونکہ جو کام وہ کرنا چاہ رہے ہیں، اس میں تو 2018ء تو کیا 2023ء والا الیکشن بھی آ جائے گا۔ مجھے کبھی کبھار یقین ہونے لگتا ہے کہ عمران خان کے قریبی مشیروں میں کوئی انہیں غلط مشورے دے رہا ہے جس کی وجہ سے وہ غلط سمت میں چل پڑتے ہیں۔

منقسم اپوزیشن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 24 اپریل کو جب تحریک انصاف اسلام آباد کے ایف 9سیکٹر میں واقع فاطمہ جناح پارک میں اپنا 20 واں یوم تاسیس منا رہی تھی تو عین اس وقت لاہور میں جماعت اسلامی کا دھرنا اور کراچی میں مصطفی کمال کی پاک سر زمین پارٹی کا جلسہ بھی ہو رہا تھا۔ یہ درست ہے کہ جماعت اسلامی اور پاک سرزمین پارٹی کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے اور تمام پارٹیوں کے اپنے اپنے پروگرام ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کے ایونٹس کی وجہ سے میڈیا کوریج بھی تقسیم ہو گئی اور تحریک انصاف کو وہ میڈیا کوریج نہیں مل پائی جو اس دن کی مناسبت سے اسے درکار تھی۔ جماعت اسلامی اور پاک سرزمین پارٹی دونوں ہی بحیثیت مجموعی سیاسی طور پر تحریک انصاف کی حلیف ہیں ،لیکن انہوں نے بھی اپنے ایونٹس عین اسی دن کی شام کو رکھ کر تحریک انصاف کو خصوصی میڈیا کوریج سے محروم کر دیا۔ جب اپوزیشن اتنی منقسم اور سیاسی بصیرت سے محروم ہو تو اس میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کو چنداں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ کسی بھی حکومت کو اس وقت تک کوئی سیاسی خطرہ نہیں ہوتا جب تک اپوزیشن منقسم ہو اور سب اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے میں مصروف ہوں۔

تحریک انصاف کے احتجاج میں شمولیت سے تقریباً تمام جماعتوں نے معذرت کر لی ہے اور سب پارٹیاں اس بات پر متفق ہیں کہ ٹی او آرز کا معاملہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات سے حل کیا جا سکتا ہے، یعنی اس کے لئے احتجاج کی نہیں، حکومت کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف پاکستان تحریک انصاف اپنا 20واں یومِ تاسیس منا رہی ہے، دوسری طرف اسے شدید سیاسی تنہائی اور اپنے موقف کی شکست کا سامنا ہے ،جس کے ذمہ دار کوئی اور نہیں، بلکہ عمران خان کی اپنی ہٹ دھرمی ہے۔ مَیں انتہائی خلوص سے سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو پہلے مرحلے میں تمام سیاسی جماعتوں کو ٹی او آرزپر اعتماد میں لینا چاہئے اور اس کے بعد ایک مشترکہ موقف کے بعد حکومت سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو اسے ہر بار عمران خان کی مَیں نہ مانوں والی سیاست مضبوط کر دیتی ہے۔جہاں تک کسی اور ادارے کا تعلق ہے تو وہ بار بار اپنے عمل سے ثابت کر چکا ہے کہ خوش فہم لوگوں کے بارے میں سوچنے کے لئے ان کے پاس کوئی وقت نہیں ہے۔ پانامہ پیپرز کے بعد حکومت جس دباؤ کا شکار تھی، منقسم اپوزیشن اور عدلیہ کی ایکٹوزم میں عدم دلچسپی کے باعث اب اطمینان بخش پوزیشن میں ہے اور وزیر اعظم ہاؤس میں راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...