حاجی سر عبداللہ ہارون کی قومی خدمات

حاجی سر عبداللہ ہارون کی قومی خدمات
حاجی سر عبداللہ ہارون کی قومی خدمات

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حاجی سر عبداللہ ہارون ایک عزم ،ہمت اور ثابت قدمی کا نام ہے ،جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ذلت کی گہرائیوں سے نکال کر عزت اور آبرو کے ساتھ جینے کا ڈھنگ سکھایا ۔ہر ذی شعور انسان ان کی تحریک آزادی کے لئے جہدوجہد کا جائزہ لے کر ان کی عظمت کا معترف ہوجاتا ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہی نہیں، بلکہ کئی اور وجوہات کے باعث بھی نمایاں اور اہم حیثیت رکھتا ہے۔جب سندھ ممبئی کا حصہ تھا تو اسے صوبے کا درجہ دلوانے اور مسلمانوں کا مرکز بنانے کا فیصلہ بھی یہیں سے ہوا۔کراچی کو پاکستان کا پہلا دارالحکومت اور حاجی سر عبداللہ ہارون کی جائے پیدائش اور آخری آرام گاہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔جدوجہد آزادی کے عظیم رہنما یکم جنوری 1872 ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔تحریک پاکستان کی عظیم شخصیت اور قائد اعظم کے قریبی ساتھی حاجی سر عبداللہ ہارون فلاحی خدمات اور بھرپور سیاسی زندگی گذارتے ہوئے 27 اپریل 1942 ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ آج ان کی 74 ویں برسی منائی جا رہی ہے ۔ جو پاکستان اورسندھ سے سچی محبت کرنے والوں کے لئے بہت بڑا دن ہے ۔

سندھ کے نوجوان،‘ادیب ،دانشور،شاعر اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کراچی کی قدیم بستی لیاری میں اپنی آخری آرام گاہ میں سوئی ہوئی ایک تاریخ ساز شخصیت تحریک آزادی کے عظیم سپہ سالار حاجی سر عبداللہ ہارون کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں جس نے برصغیر میں سندھ کو ایک نئے باب سے روشناس کرایا ۔ جب پاکستان بنانے کے لئے جدوجہد کی جارہی تھی تو سندھ کا موجودہ علاقہ ممبئی میں شامل تھا۔ مسلمانوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے کراچی کو ممبئی میں شامل کرنے کی سازش کی جارہی تھی۔ اس وقت برصغیر کی آزاد�ئ تحریک کے سپہ سالار حاجی سر عبداللہ ہارون سندھ کو ممبئی سے آزاد کرانے کے لئے سرگرم ہو گئے اور آپ نے 1926ء میں سندھ کو ممبئی سے علیحدہ کر کے الگ صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ کر دیا۔ 1928ء کی بات ہے جب ایک دو لاکھ روپے آج کے کروڑوں روپوں کے برابر تھے، اس وقت حاجی سر عبداللہ ہارون نے انگریز سرکار کو کراچی میں مسلمانوں کی اکثریت دکھانے کے لئے اس وقت کے میونسپل کمشنر سے لیاری کو 2 لاکھ روپے میں خریدلیا، جس کی رجسٹری آج بھی کے ایم سی میں موجود ہے۔ لیاری میں دو قوموں بلوچوں اور کچھیوں کو ایک ساتھ لا کر آبادکیا گیا تھااور انہیں زمینوں کے کاغذات گفٹ کے طور پر فراہم کئے گئے۔اس کے لئے حاجی سر عبداللہ ہارون نے سخت جدوجہد کی اور بلوچستان میں خان آف قلات،سرداروں اور نوابوں سے کئی ملاقاتیں کیں اور بلوچوں کو کراچی لانے پر آمادہ کیا۔

جب لیاری میں مسلمانوں کی اکثریت ثابت ہو گئی تو کراچی پاکستان کے حصے میں آیا ۔لیاری کے تعلیمی نظام میں حاجی سر عبداللہ ہارون فیملی کا نمایاں کردار ہے ۔عبداللہ ہارون کالج 1960ء کے ابتدائی عشرے میں قائم کیا گیا تھا۔انگریزوں نے 1932ء میں سکھر بیراج کی تعمیر شروع کی تووہ سرمائے کی گارنٹی مانگنے لگے ،جس پر حاجی عبداللہ ہارون نے ضمانت دی ،اور ان کی ضمانت تسلیم کی گئی۔ کراچی میں 2 سے8 اکتوبر 1938ء کو مسلم لیگ سندھ کے زیر اہتمام کانفرنس منعقد ہوئی ۔ اس کانفرنس میں استقبالیہ کمیٹی کے چیئرمین سر عبداللہ ہارون کا سب سے بڑا کارنامہ مسلمانوں کے لئے سندھ سے ’’الوحید‘‘نامی اخبار کا اجراء تھا جس نے صوبے کے مسلمانوں کو متحد کیا ۔ تاریخی عمارت سی فیلڈ قائداعظم محمد علی جناحؒ سے لے کر آغا خان تک سینکڑوں اہم شخصیات کی قیام گاہ رہی ہے۔ اس میں پاکستان کی سیاسی تاریخ، بالخصوص تحریک پاکستان کے درجنوں اہم سیاسی فیصلے ہوئے۔ یہی وہ گھر تھا جہاں قیام پاکستان سے قبل قائداعظمؒ جب بھی کراچی آتے قیام کرتے تھے۔ کئی بار تو یہ قیام مہینوں پر بھی محیط رہا۔ 1938ء میں علامہ اقبالؒ ،‘نواب محمد اسماعیل خان اور حاجی سر عبداللہ ہارون مسلمانوں کے لئے الگ ملک بنانے کے لئے دن رات سرگرم تھے تو قائداعظمؒ نے اس حوالے سے ایک فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کا کام حاجی سر عبداللہ ہارون کو سونپا ، ایک برس سے کم عرصے میں انہوں نے یہ رپورٹ تیار کی اور 1939ء کے مدراس میں ہونے والے اجلاس میں پیش کی، جسے اس اجلاس میں منظور بھی کر لیاگیا اور پھر اگلے برس 23مارچ 1940ء کو لاہور میں مسلم لیگ کے 27ویں سیشن میں قرار داد پاکستان کی حمایت و تائید کی اور اس موقع پر خطاب بھی کیا۔

انہوں نے 1910ء سے عملی سیاست میں کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا اور کانگریس ،تحریک خلافت اور بعدازاں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔حاجی سر عبداللہ ہارون ایسی کاروباری شخصیت تھے، جنہوں نے صنعت وتجارت میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں اور اپنے صوبے و قوم کی بے لوث سیاسی ،فلاحی ،طبی اور تعلیمی خدمات انجام دیں۔انہوں نے رفاہ عامہ اور قومی مقاصد کے لئے بے دریغ دولت خرچ کی۔ہزاروں یتیموں کے سرپرست بنے اور کئی مدرسے ، کالج ،مساجد اور یتیم خانے بنوائے۔کراچی میں عبداللہ ہارون کالج،سکول،یتیم خانہ، انڈسٹریل ہوم اور عبداللہ ہارون روڈ انہی کی یادگار ہے۔

تاریخی عمارت’’ سی فیلڈ‘‘کے سامنے جہاں آج بینک ہے، اس وقت ’’عبداللہ کورٹ‘‘ہوا کرتا تھا جس میں مسلمانوں کا قیام ہوتا تھا۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح بھی قائداعظمؒ کے ساتھ آتی تھیں اور ان کا قیام بھی یہاں ہوتا تھا۔ اسی گھر میں قائداعظمؒ نے کیبنٹ مشن پلان اور کرپس مشن سمیت مختلف اہم فیصلے کئے۔پاکستان کا پہلا قومی پرچم بھی لیاقت علی خان شہید نے اسی گھر کی اوپر والی منزل کے بڑے کمرے کی ٹیبل پر بچھے گرین کپڑے پر نشان لگا کر منظور کیا۔ اس جگہ راجہ محمود آباد ،نواب اسماعیل خان،مولانا حسرت موہانی و دیگر رہنماء بھی آتے جاتے رہے۔ فرنٹیئر گارڈن کلفٹن برج،میریٹ ہوٹل کے سامنے والا وکٹوریہ روڈ جو آج کل عبداللہ ہارون روڈ کہلاتا ہے، اس عمارت میں شاہ ایران،ملکہ ثریا،علامہ اقبالؒ ، افغانستان کے صدر سردار داؤد،نواب آف بھوپال حمید اللہ خان،انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو اپنی اہلیہ افشاں دیوی سمیت مہمان رہے۔ زندہ قومیں اپنے حال کا رشتہ اپنے ماضی سے جوڑے رکھتی ہیں اور حال کی راہیں استوار کرکے مستقبل کی شاہراہیں روشن رکھتی ہیں ۔

حاجی سر عبداللہ ہارون ہمیشہ دوسروں کے لئے جیئے اور دکھی انسانیت کی خدمت کر کے معاشرے میں بلند مقام حاصل کیا۔اگر آپ کسی کی مدد کرتے تو نہایت راز داری سے کرتے تھے۔آپ کے نزدیک نیکی کا پرچار یا خدمت کی پبلسٹی خدمت کی روح کو ختم کردیتی ہے۔اس کے علاوہ بھی کئی ایسے واقعات ہیں، جن کو ہمارے حکمرانوں نے ہمارے سکول و کالج کی کتابوں تک سے مٹا دئیے ہیں، تاکہ لوگوں کو حاجی سر عبداللہ ہارون کی تاریخ کا پتا نہ چل سکے۔حاجی سر عبداللہ ہارون امت مسلمہ کے عظیم لیڈر تھے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو چاہئے کہ فوری طور پر تحریک پاکستان کی عظیم شخصیت کے بارے میں واقعات نصابی کتب میں شامل کریں، تاکہ ہماری قوم حاجی سر عبداللہ ہارون کے بارے میں جان سکے۔

مزید : کالم