کتاب سے ہے زندگی

کتاب سے ہے زندگی

نیشنل بک فاؤنڈیشن ایک سرکاری ادارہ ہے، لیکن اس کی کارکردگی اور کامیابیوں کو دیکھا جائے تو یہ ادارہ سرکاری ہرگز معلوم نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں سرکاری اداروں کے افسر اور اہلکار صرف تنخواہیں لینا ہی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور کام کے اعتبار سے ان اداروں کے حالات انتہائی بدتر اور پریشان کن ہیں۔ پھر بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ کے کلچر نے بھی سرکاری اداروں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ اس صورت حال میں ایک سرکاری ادارے کو باوقار اور قابلِ احترام بنا دینا یقیناًایک معرکے کی چیز ہے۔ معروف شاعر، محقق اور استاد ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی سربراہی میں نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اگر سرکاری ادارہ ہونے کے باوجود ترقی کے شاندار ریکارڈ قائم کئے ہیں تو اس کی وجہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی محنت اور جوش و جذبے کے علاوہ دیانت داری پر ان کا یقین بھی ہے۔ اگر ڈاکٹر صاحب خود کو ایک مثال بنا کر نیشنل بک فاؤنڈیشن کو کرپشن سے پاک ادارہ بنانے میں کامیاب نہ ہوتے تو کبھی ایک مختصر وقت میں نیشنل بک فاؤنڈیشن اپنے بنیادی مقاصد پورے نہیں کرسکتا تھا۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے دو ہی مقاصد ہیں کہ علمی، ادبی، دینی اور نصابی کتابیں انتہائی معیاری انداز میں شائع کی جائیں، لیکن ان کی قیمت بہت کم رکھی جائے، تاکہ کتب بینی کا شوق رکھنے والے کتاب خریدنے میں آسانی محسوس کریں۔ کتابوں کے مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا کرنے کے لئے بھی نیشنل بک فاؤنڈیشن مختلف تدابیر اختیار کرتا ہے۔

22اپریل کتاب کا قومی دن ہے۔ اس نسبت سے اسلام آباد میں گزشتہ سات سال سے تین روزہ قومی کتاب میلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ پاکستان بھر سے شاعروں، ادیبوں، کالم نگاروں، دانشوروں، ماہرین تعلیم اور محققین کو اسلام آباد میں جمع کیا جاتا ہے۔ کچھ نئی کتابوں کی تعارفی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یوم اقبالؒ کے حوالے سے بھی ایک خصوصی پروگرام کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں عظیم شاعر، فلسفی اور مفکر علامہ اقبالؒ کی علمی، ادبی اور قومی خدمات کا بڑے منفرد انداز میں ذکر کیا جاتا ہے۔ قومی کتاب میلے کے موقع پر کتاب خوانی کا اہتمام بھی پروگرام کا ایک انتہائی اہم حصہ ہوتا ہے،جس میں ملک کے ممتاز دانشور اپنی تحریریں خود پڑھتے ہیں تو سامعین کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ اس طرح لوگوں میں کتاب دوستی کا جذبہ ابھرتا ہے ،پھر وہ خود بھی اچھی کتابیں خریدتے اور مطالعہ کرتے ہیں۔ اس بار قومی کتاب میلے کے موقع پر بچوں کے ادب ،بیرون ملک پاکستانیوں کے ادب، غزل کے ارتقائی سفر اور جدید اردو نظم کے حوالے سے بھی الگ الگ مذاکروں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مَیں ذاتی طور پر ڈاکٹر انعام الحق جاوید کا ممنون ہوں کہ اس مرتبہ انہوں نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے نظریہء پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے بھی ایک مکالماتی نشست کا اہتمام کیا تھا۔ یہ حقیقت تو سب کو معلوم ہے کہ پاکستان اسلامی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا، لیکن پاکستان میں موجود ایک مخصوص سیکولر طبقہ پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے، جس ریاست میں کاروبارِ مملکت کے ساتھ دین اسلام کا کوئی تعلق نہ ہو۔

نظریہء پاکستان کے حوالے سے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اپنے پروگرام کے ذریعے خصوصی طور پر نوجوان نسل کو یہ پیغام دیا ہے کہ نظریہ ء پاکستان کے تحفظ اور بقاء کے لئے ہمیں ہر وقت مستعد اور تیار رہنا چاہیے، کیونکہ پاکستان جس نظریئے کی بنیاد پر قائم ہوا تھا، اس نظریئے کے ساتھ ہماری فکری اور عملی وابستگی کے بغیر پاکستان قائم نہیں رہ سکتا۔ نظریہ ء پاکستان پر ہمارا یقین جتنا زیادہ پختہ ہوگا، اتنا ہی پاکستان زیادہ مضبوط ہوگا۔نظریہ ء پاکستان ہمارے ملک کے حصار اور دفاع کا دوسرا نام ہے۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک کے بانی قائداعظمؒ 8 کی ہمیں وہ تقریر کبھی نہیں بھولنی چاہیے جو انہوں نے مسلم لیگ کا پرچم لہراتے ہوئے ایک اجلاس میں 1938ء میں کی تھی۔ قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ ’’مسلم لیگ اس اسلامی جھنڈے کو میدان میں لے کر نکلی ہے، جس اسلامی جھنڈے تلے مسلمانوں نے تیرہ سو سال پہلے انصاف اور مساوات کی حکومت قائم کی تھی‘‘۔ قائداعظمؒ نے بار بار اپنی تقاریر میں یہ فرمایا کہ ’’مسلمانوں کو کوئی نیا پروگرام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کے پاس تیرہ سو سال پہلے سے ایک مکمل پروگرام موجود ہے اور وہ قرآن پاک ہے۔ قرآن حکیم ہی میں ہماری اقتصادی، تمدنی و معاشرتی ترقی اور اصلاح کے علاوہ سیاسی پروگرام بھی موجود ہے۔ میرا اس قانونِ الٰہیہ پر مکمل ایمان ہے اور مَیں اسی کلام الٰہی کی تعمیل کے لئے آزادی کا طلب گار ہوں‘‘۔

قائداعظمؒ پاکستان کو ایک صحیح اسلامی اور فلاحی مملکت بنانا چاہتے تھے۔ وہ سیاست میں نسلی وراثت اور شخصی آمریت کے سخت مخالف تھے۔ وہ خلافتِ راشدہ کو ایک مثالی نظام حکومت سمجھتے تھے، کیونکہ خلافتِ راشدہ کے دور میں رسول کریمؐ کی تعلیمات پر صحیح معنوں میں عمل کیا گیا تھا۔ قائداعظمؒ نے اپنی کئی تقاریر میں حضرت عمرؓ کے دور حکومت کا بھی حوالہ دیا تھا۔ قائداعظمؒ اسلام کو اعتدال، فلاحِ انسانیت اور عدل و انصاف پر مبنی نظامِ حیات قرار دیتے تھے۔ قائداعظمؒ کے نزدیک اسلام سے بہتر اور کوئی نظامِ حیات ،جمہوریت، امن ، انصاف اور مظلوموں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ قائداعظمؒ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں اپنی کتابِ مقدس قرآنِ کریم ،حدیث اور اسلام کی عظیم روایات کی طرف واپس لوٹنا چاہیے، کیونکہ قرآن میں ہماری رہنمائی کے لئے ہر چیز موجود ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی عظیم کتاب کا اتباع کریں۔

مَیں اپنی گزارشات کو مختصر کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم نے نظریہء پاکستان کو سمجھنا ہے تو قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کی تقاریر اور خطبات سے بہتر اور کوئی فکری اور نظریاتی سرمایہ نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ جس طرح انہوں نے قومی کتاب میلے کے موقع پر نظریہ ء پاکستان کے حوالے سے ایک انتہائی اہم مکالماتی نشست کا اہتمام کیا ہے، اسی طرح نظریہء پاکستان کی ترویج اور فروغ کے لئے قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے خطبات پر مشتمل ایسی کتابیں بھی نیشنل بک فاؤنڈیشن کو شائع کرنا ہوں گی جن کے مطالعہ سے ہماری نئی نسل کے افراد خود نظریہ ء پاکستان کے پُرجوش مبلغ بن جائیں۔ نظریہء پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اہل ادب کی منتخب تحریروں کا بھی ایک مجموعہ شائع کیا جانا چاہیے۔ کتاب ایک اچھے استاد، رہنما اور مخلص دوست کا بھی کردار ادا کرتی ہے۔ کتاب چونکہ علم اور دانائی کا سرچشمہ بھی ہوتی ہے ،اس لئے کتاب کے ذریعے نظریہ ء پاکستان کی ترویج کا کام لینا ہماری اہم قومی ذمہ داری ہے۔

اسلام انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خلاف ہے۔ نظریہ ء پاکستان کے ساتھ قربت بڑھنے سے معاشرے میں انتہا پسندی اور انتشار کا منفی کلچر ختم ہو ہوگا۔ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کی تعلیمات، یعنی نظریہء پاکستان کو اگر ہم اچھی طرح سمجھ لیں تو ہماری صفوں میں کبھی انتشار اور نفرت کی سیاست جنم نہیں لے سکتی۔ اگر ہمارے ذہن و فکر کی تعمیر و تربیت اسلام کی حقیقی تعلیمات کے مطابق ہو تو ہم سب مثالی پاکستانی شہری بن سکتے ہیں۔ انسانی شعور کی تعمیر و تربیت کا سب سے موثر ذریعہ کتاب ہے۔ کتاب کردار سازی اور شخصیت کی تعمیر میں جو حصہ ڈال سکتی ہے، اس کا بدل اور کوئی چیز نہیں، اس لئے مَیں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ذمہ داران سے گزارش کروں گا کہ جس طرح وہ افسانوں، غزلوں اور نظموں کے بہترین انتخاب شائع کر رہے ہیں، اسی طرح وہ پاکستان کے فکری اور نظریاتی اثاثے کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ اس سلسلے میں پروفیسر فتح محمد ملک جیسے دانشوروں سے بھرپور رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ سابق آئی جی پولیس ذوالفقار چیمہ بھی اس حوالے سے مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...