بک شیلف: سلامِ فکر از شاہد ایم بیگ

بک شیلف: سلامِ فکر از شاہد ایم بیگ

کتاب: سلامِ فکر

موضوع: شاعری

شاعر: شاہد ایم بیگ

پبلشرز: ماورا بُکس، دی مال، لاہور

قیمت: 900روپے

صفحات: 688

ایڈیشن: 2016ء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ضخیم کتاب شاہد ایم بیگ کی کلیات ہے جس میں ان کے چار مجموعہ ہائے اشعار (دواوین) شامل ہیں جن کے نام بالترتیب (1)میری فکر میرا جہاں (2) میزانِ خرد و جنوں (3) اورنگِ خیال (4) اور۔۔۔بے مثال سے پہلے، ہیں۔سب سے پہلے شاعر نے اپنا تعارف پیش کیا ہے۔ اس کے بعد ناصر زیدی صاحب کا 8صفحات کا دیباچہ ہے۔پھر شاعر نے مولانا حالی کے مقدمہء شعر و شاعری کے تتبع میں اپنا 52 صفحات پر پھیلا ’’مقدمہ‘‘ لکھا ہے اور آخر میں خالد شریف صاحب نے ڈیڑھ صفحے کا ایک مختصر سا تعارف کتاب اور شاعر کے بارے میں قلمبند کیا ہے۔ پھر دواوین کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں 307 غزلیات، کچھ قطعات اور آخر میں 44صفحات میں شاہد بیگ صاحب نے اپنی انگریزی زبان کی شاعری کی چند منظومات پیش کی ہیں۔

کتاب کا یہ نسخہ مجھے قدرت اللہ چودھری صاحب، گروپ ایڈیٹر اخبار ہذا نے عنائت فرمایا کہ اس پر ایک کالم میں اظہار خیال کر دوں اور یوں مجھے سخت مشکل میں ڈال دیا ہے کہ گوئم مشکل وگرنہ گوئم مشکل۔ یہ ایک نئی قسم کی کلیاتِ شاعری ہے جس میں صفحہ 639 پر صرف ایک قطعہ ایسا ہے جو کچھ نہ کچھ مروجہ اور معروف معانی میں شاعری کہا جا سکتا ہے، باقی تمام اشعار جن میں ندرتِ فکر و خیال کا دعویٰ کیا گیا ہے میں اگر اسے بدعتِ فکر و خیال کہوں تو شائد بے جا نہ ہوگا۔ ان میں کسی بھی زبان کے معروف شعری پیمانوں سے ہٹ کر ایک ایسی طرزِ سخن ایجاد کی گئی ہے جو اگرچہ معنوی لحاظ سے پُر مغز ہو تو ہو صوری اورقرأتی اعتبار سے سخت اجنبی اور کراہت آمیز ہے کہ شعر تو نام ہی رنگینی ء افکار اور رعنائی خیال کا ہے۔

ناصر زیدی صاحب اپنے دیباچے میں لکھتے ہیں: ’’ہمارے دوست مشہور شاعر و نقاد پروفیسر ڈاکٹر تبسم کاشمیری ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’شعری اظہار کو قدرتی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ شاعری وزن سے ماورا شے ہے۔ یہ وزن کی محتاج نہیں۔۔۔ اور ان سے بھی پہلے پروفیسر سید عابد علی عابدکچھ اسی قسم کی رائے کا تحریری اظہار اپنے ایک مضمون میں بھی کر گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے مشہورِ زمانہ مضمون ’’دہلی اور لکھنوء کے شعری دبستان‘‘ میں کبھی لکھا تھا: ’’بنیادی بات زبان کی صفائی اور درستی نہیں بلکہ تجربے کی صفائی اور شعری اظہار ہے۔۔۔ شاہد بیگ صاحب بھی اسی قبیل کے شاعر ہیں۔ وہ اپنے بلند خیال اور اونچے درجے کے تفکر کے حوالے سے بجا طور پر دعویٰ کرتے ہیں کہ:

‘‘Poetry is the magic dance of thoughts and words.’’

لیکن قارئین کرام!یہی بات تو جوش ملیح آبادی نے بھی کہی تھی کہ: ’’رقص، اعضا کی شاعری کا نام ہے۔‘‘ اور جس بات کی طرف تبسم کاشمیری نے اشارہ کیاہے وہ ان سے کہیں پہلے مولانا شبلی نعمانی کے شعرالعجم حصہ اول میں کہہ دی گئی تھی۔ شبلی رقمطراز ہیں: ’’کتبِ ادبیہ میں شاعری کی جو تعریف کی گئی ہے اور وہی خاص و عام کی زبانوں پر جاری ہے، یہ ہے کہ : ’’کلام موزوں ہو اور متکلم نے بہ ارادہ موزوں کیاہو‘‘۔ لیکن یہ تعریف درحقیقت عامیانہ تعریف ہے۔ آج تو یہ مسئلہ بالکل فیصل ہو چکا ہے لیکن قدماء کے کلام میں بھی اس کے اشارے بلکہ تصریحات پائی جاتی ہیں کہ شاعری صرف وزن اور قافیہ کا نام نہیں‘‘۔۔۔ مولانا شبلی نے اگرچہ اس موضوع پر آگے چل کر سیر حاصل بحث کی ہے لیکن کالم کی تنگ دامانی زیادہ طویل حوالہ جات کی متحمل نہیں وگرنہ ارسطو اور جان سٹورٹ مل (Stuart Mill) کی آراء اور فارسی زبان کے ناقدینِ سخن کے خیالات کوٹ کرنے میں کوئی امر مانع نہیں تھا۔

ناصر زیدی صاحب نے اپنے دیباچہ میں آگے چل کر یہ بھی لکھا ہے: ’’مولانا حالی جدید شاعری کے بانی کہے جاتے ہیں جنہوں نے کہا تھا:

حالی اب آؤ پیرویء مغربی کریں

بس اقتدائے مصحفی و میر ہو چکی

اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: ’’صنفِ غزل کے اسالیب محدود ہو گئے ہیں اور عام طور پر تغزل کی شاعری کی جاتی ہے جس کے لئے عموماً نرم اور سبک و شیریں اور مروج کلاسیکی و روائتی الفاظ کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ بیشتر غزلوں کی زبان ایک خاص دائرے سے نہیں نکل پاتی۔۔۔ اور مولانا وحید الدین سلیم پانی پتی نے اپنے ایک تنقیدی مضمون میں لکھا ہے کہ : ’’جو شاعر زبان و بیان کی طرف توجہ رکھتا ہے، اس کو شاعر نہیں کہا جا سکتا۔ شاعر کو نئے خیالات کا حامل ہونا چاہیے اور زیادہ تر توجہ مفہوم کی طرف دینی چاہیے، کیونکہ زبان کی طرف تمام تر توجہ اعلیٰ خیالات پیدا کرنے میں رکاوٹ ہے‘‘۔

مجھے حیرانی ہے کہ ناصر زیدی صاحب جیسے شیریں بیان سخنور نے شاہد بیگ صاحب کی ہاں میں ہاں ملانے کے لئے کہاں کے قلابے کہاں جا ملائے ہیں۔ جہاں تک مولانا حالی کا تعلق ہے تو شعر کی تعریف (Defination)کے بارے میں کیا ان کا یہ شعر ناصر زیدی صاحب کی نظروں سے نہیں گزرا؟

اے شعر دلفریب نہ ہو تو، تو غم نہیں

پر تجھ پہ حیف ہے جو نہ ہو دلگداز تو

شعر میں دلگدازی کی یہ کیفیت کہاں سے آتی ہے؟ اگرچہ یہ ایک وسیع موضوع ہے۔ لیکن اس سوال کا جواب پانا کچھ زیادہ دشوار نہیں کہ سخن میں سوز الٰہی کہاں سے آتا ہے؟۔۔۔ مولانا حالی ہی کا ایک اور شعر یاد آ رہا ہے:

خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے

تب نظر آتی ہے اک مصرعہ ء ترکی صورت

میں نے اس ’’مصرعہ ء تر‘‘ کی تلاش ’’سلام فکر‘‘ کے سینکڑوں صفحات میں کی لیکن کوئی کامیابی نہ ہو سکی۔ ہاں جہاں تک ندرتِ الفاظ اور ایجادِ تراکیبِ نو کا تعلق ہے تو میں شاہد بیگ صاحب کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے ’’مصرعہ ء تر‘‘ کی کوئی پرواہ کئے بغیرصفحے کے صفحے سیاہ کر ڈالے ہیں اور شائد راتوں کی نیندیں بھی حرام کی ہوں گی اور فکرِ سخن میں بھی پہروں غلطاں رہے ہوں گے۔ اور جہاں تک سلیم پانی پتی کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ : ’’شاعر کو نئے خیالات کا حامل ہونا چاہیے‘‘ تو اس کی بہترین مثالیں ہمیں غالب اور اقبال کی شاعری میں افراط سے مل جاتی ہیں۔ لیکن اس کا کیا علاج کہ کلام اقبال کے بارے میں بھی شاہد صاحب شاکی ہیں: ’’اقبال کی شاعری کوبطور پراپیگنڈہ استعمال کرنے والوں نے اس کے ادبی اور فکری ذوق پر کاری ضرب لگائی ہے اور اسے ایک فلسفی شاعر سے بڑھ کر ایک فلاسفر شاعر کے طور پر متعارف کروایا ہے اور یوں اس کے کلام کی فکری وسعتوں کو مسدود و محدود کر دیا ہے‘‘۔ شاہد صاحب نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ اپنے اسی مقدمے کے صفحہ نمبر52 پر اقبال اور شکسپیئر کا موازنہ کرتے ہوئے یہ بھی لکھتے ہیں: ’’اقبال کا کلام اس آفاقی ہمہ گیری سے کسی حد تک کٹا ہوا نظر آتا ہے جو شیکسپیئر اور کسی حد تک غالب میں ہے۔ جوشِ بیان، ندرتِ اظہار اور نئی لغت کے اعتبار سے اقبال کا کلام حیران کن ہے لیکن ایک مخصوص طبقے، طرزِ فکر اور نظریئے کے حامل لوگوں کے لئے‘‘۔۔۔۔ اور اس کے بعد تو شاہد صاحب اقبال کے بارے میں More over کہہ کر اپنا تجزیہ اور نظریہ پیش کرتے ہیں اور فرماتے ہیں: ’’اقبال ایک نہایت پڑھا لکھا، قابل اور ذہین شخص تھا لیکن شاعری اور شراب نوشی بہرحال اس کی صلاحیتوں کے آڑے آئی۔ اقبال اگر موجودہ کلام سے آدھا کلام بھی کہہ جاتا تو بطور شاعر اس کا یہی مقام رہتا‘‘۔

تاہم اسی شاہد بیگ صاحب کی تعریف و توصیف میں ناصر زیدی صاحب لکھتے ہیں: ’’غالب کی طرح شاہد ایم بیگ کو بھی الہام ہوتا ہے۔ کیوں نہ ہو کہ وہ بھی غالب کی طرح مرزا مغل ہیں اور جس پر مرتے ہیں اس کو مارے رکھتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ادب کی راہ میں اپنا اسلوب خود نکالا ہے۔ وہ عام رستے پر آنکھیں بند کرکے چلنے کے قائل نہیں‘‘۔۔۔ اب میں ناصر زیدی صاحب کو کیسے سمجھاؤں کہ میرے ایک کزن کی زمینوں پر ان کے تمام مزارعین مرزا مغل ہیں جو موضع ڈوگرائی ضلع دیپالپور میں مقیم ہیں اور ان میں کوئی بھی چار جماعتیں پاس سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ خدا نے اگر مرزا مغل شاہد ایم بیگ صاحب کو ایم اے انگلش لٹریچر بنا دیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر مرزا مغل مرزا غالب ہوتا ہے۔ اقبال اور شیکسپیئر کا موازنہ کرتے ہوئے اقبال کو شرابی کبابی ڈکلیئر کرنا کسی بھی مرزا مغل کو زیب نہیں دیتا۔ گزشتہ روز شیکسپیئر کی 400 ویں برسی منائی گئی۔ اقبال نے تو خود شیکسپیئر کی تعریف کرتے ہوئے اس کو مخاطب کرکے کہا تھا:

تجھ کو جب دیدۂ بیدار طلب نے ڈھونڈا

تابِ خورشید میں، خورشید کو پنہاں دیکھا

چشمِ عالم سے تو ہستی رہی مستور تری

اور عالم کو تری آنکھ نے عریاں دیکھا

حنظِ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا

رازداں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا

اور غالب کو تو حکیم الامت نے 15اشعار پر مشتمل پانچ بندوں (Stanzas) میں جو خراج عقیدت پیش کیا ہے وہ بے نظیر ہے۔ اس نظم کا آخری شعر جو دلی کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے،یوں ہے:

دفن تجھ میں کوئی فخرِ روزگار ایسا بھی ہے؟

تجھ میں پنہاں کوئی موتی آب دار ایسا بھی ہے؟

میں البتہ خالد شریف صاحب کے تعارف سے متفق ہوں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ شاہد بیگ ایک تخلیقی شخصیت ہیں اور وہ بھی جنونی قسم کی۔ ناصر زیدی نے بجا کہا کہ یہ کوئی انسانی کام نہیں لگتا بلکہ جناتی کام محسوس ہوتا ہے۔۔۔ شاعری میں عروض اور اوزان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور میں ذاتی طور پر اپنے اس موقف پر قائم ہوں کہ ان کے بغیر کم از کم اردو شاعری کا تصور محال ہے۔ لیکن نثری نظم کی تحریک نے اس باب میں بہت حد تک لچک پیدا کر دی ہے اور بڑے بڑے شعرا نے پابند شاعری کے ساتھ نثری نظم کو بھی ذریعہء اظہار بنایا تاکہ وہ خیال جو ردیف اور قافیے کی قید میں نہ آ سکے، قتل ہو کے نہ رہ جائے۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کلام (سلامِ فکر) کو سمجھنے اور ہضم کرنے کے لئے مطالعے کے الگ ذوق کی ضرورت ہے‘‘۔

میں خالد شریف صاحب کے تبصرے میں صرف اتنا اضافہ ضرور کرنا چاہوں گا کہ نثری نظم کو تحریر کرنے کا بھی ایک قرینہ اور ترتیب ہے۔ اس کو غزل کی طرح ترتیب دے کر نہیں لکھا جانا چاہیے۔ نثری نظم میں قافیے اور ردیفیں کہاں ہوتی ہیں؟ ہاں ردھم ضرور ہوتا ہے خواہ اس کا حجم کمترین درجے کا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر نثری نظم کا کوئی ٹکڑا کسی ’’صاحبِ ذوق‘‘ کو ازبر ہو تو میں ان کے ذوقِ لطافت کی داد دوں گا۔ لیکن ایسا شاذ ہی ہوتا ہے۔۔۔ بہت شاذ۔۔۔ شاہد بیگ کے کلام کی خارجی ہیئت تو تمام تر غزل کی ہے جس میں قوافی نہ بھی ہو تو ردیفیں ضرور ملتی ہیں اور ان کا اہتمام بطور خاص شاعر نے خود کیا ہے۔ وہ ’’عروضیوں‘‘ سے نالاں ہیں اور ردھم اور رائم کی پرواہ نہیں کرتے حالانکہ بعض لوگوں کے ہاں ’’شاعری جزولیست از پیغمبری‘‘ ہے۔ قرآن حکیم میں شاعروں کی جو مذمت کی گئی ہے وہ شعرا کی ایک ’’خاص نسل‘‘ ہے۔ اس موضوع کوزیادہ نہیں پھیلاتے کہ نقصِ امن کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔۔۔ اور قرآن تو خود سراپا شاعری ہے اور شاعری بھی ایسی کہ مدتوں خانہ ء کعبہ کے دروازے پر سورۂ کوثر لٹکائی گئی اور کہا گیا کہ اس کا چوتھا مصرعہ پورا کر دیا جائے۔ لیکن بڑے بڑے قادرالکلام شعراء عاجز آ گئے اور وہ چوتھا مصرع کسی سے بھی بن نہ پڑا۔ کیا قرآن حکیم کی تمام سورتوں میں قوافی نہیں؟ بلکہ میں تو یہ عرض کروں گا کہ ایک ایک آیہ ء کریمہ میں بھی کئی کئی قوافی موجود ہیں اور پوری سورہ میں ایک ایسی آفاقی ردھم کار فرما ہے جس کی تلاوت سے زبان و حلقوم کو ایک ناقابلِ بیان حظ حاصل ہوتا ہے۔ جتنی محنت و مشقت، عرق ریزی اور ماروماری شاہد بیگ صاحب نے سلامِ فکر مرتب کرنے میں اٹھائی ہے، کاش وہ اس سے آدھی مشقت اوزان و بحور اور قوافی و ردیف کی ترتیب و ترتیل میں اٹھا لیتے!۔۔۔ یا دوسری آپشن یہ تھی کہ اپنے کلام کو شعر نہ کہتے بلکہ اقبال کی طرح ’’افکار پریشاں‘‘ (Stray Thoughts) کی شکل میں مرتب کرکے اسے بطور ڈائری شائع کر دیتے!

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...