ماحولیاتی آلودگی۔۔۔عالمی فیصلہ اور پاکستان کا عزم!

ماحولیاتی آلودگی۔۔۔عالمی فیصلہ اور پاکستان کا عزم!

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے دو روز قبل ماحولیات کے عالمی اعلامیہ پر دستخط کئے اور دستخط کرنے والے ممالک کی تعداد170ہو گئی۔ دُنیا کے ان ممالک نے اس اعلامیہ کی رو سے وعدہ کیا اور یقین دلایا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت میں کم از کم دو درجہ سنٹی گریڈ کمی کے لئے اقدامات کئے جائیں اور ماحولیات کو بہتر بنایا جائے گا اوزان کی تہہ میں سوراخ کی وجہ سے معمول کے درجہ حرارت میں4ڈگری سنٹی گریڈ تک کا اضافہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے دُنیا میں موسموں میں حیرت انگیز تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں اور گرمی میں اضافہ ہونے کے علاوہ غیر معمولی بارشوں اور طوفانوں کا سلسلہ بھی شروع ہے۔ گرین ہاؤس سائنس دانوں کے مطابق یہ سب زہریلی گیسوں کی وجہ سے ہے جو فیکٹریوں، گاڑیوں اور دوسری اشیاء کے جلنے سے پیدا ہونے والے دھوئیں کی وجہ سے ہے خصوصاً کوئلہ اور فرنس آئل کے علاوہ کوڑا کرکٹ اور ٹائروں کا جلنا بھی شامل ہے۔ عالمی اعلامیہ کی رو سے دستخط کرنے والے ممالک نے اس نوعیت کی ہر آلودگی سے ماحول کو بچانے کا عہد کیا ہے اور سب کو اس پر عمل کرنا ہے، وزیر داخلہ کی طرف سے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے دستخط کر دینے کے بعد یہ پابندی پاکستان پر بھی عائد ہو جاتی ہے۔افسوس مگر یہ ہے کہ پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی، ہمارے سٹاف رپورٹر نے لاہور سے خبر دی ہے کہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت اور پاکستان کے دل لاہور میں ٹائر جلانے، چربی پگھلانے کا دھندا عروج پر ہے اور یہ ماحول کو خراب کر رہا ہے جس سے سانس اور گلے کی خطرناک بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔ یہ اپنی جگہ، یہاں تو کوڑا کرکٹ جمع کر کے جلانا معمول کی بات ہے ان میں پلاسٹک کے شاپر بھی جلائے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ پوش آبادیوں میں بھی ہوتا ہے، جبکہ کئی مقام ایسے ہیں جہاں مستقل طور پر کوڑا جلتا اور اس کا دھواں فضا میں آلودگی کا سبب بنتا رہتا ہے۔پاکستان میں نہ صرف وفاقی، بلکہ صوبائی سطح پر بھی ماحولیات کے محکمے اور وزارتیں ہیں، لیکن ان کی کارکردگی صفر ہے، آلودگی کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، صنعتی آلودگی اور فضلہ فضا اور زمین کو خراب کرتا رہتا ہے جبکہ کوڑا کرکٹ جلانے والوں کے خلاف کارروائی کا اختیار تو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور ٹاؤن انتظامیہ کے پاس بھی ہے، نہ تو آگہی مہم چلائی جاتی ہے اور نہ ہی ایسا کرنے والوں کے خلاف کوئی اقدام کیا جاتا ہے۔اب تو پاکستان اس عالمی کلب کا رکن بن گیا جس نے گرین ہاؤس کی سفارشات کے مطابق آلودگی پر قابو پا کر ماحول کو صاف ستھرا بنانا اور اس طرح بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو روک کر اس میں دو درجہ سینٹی گریڈ کی کمی لانا ہے اور پاکستان بھی اس کا پابند ہے اس لئے یہاں باقاعد منصوبہ بندی کے تحت عالمی شرائط پر عمل لازم ہے اور اس کے لئے آگہی مہم بھی شروع کی جانا چاہئے۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...