تھر کے دُکھوں کا مداوا کیسے ہو گا؟

تھر کے دُکھوں کا مداوا کیسے ہو گا؟

حکومتِ سندھ کی جانب سے تھر میں قحط سالی اور بچوں کی اموات کے حقائق جاننے کے لئے قائم کمیشن نے رپورٹ چیف سیکرٹری(سندھ) کے حوالے کر دی ہے، سابق ایڈووکیٹ جنرل عبدالفتاح ملک کی سربراہی میں کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تھر میں ہلاکتوں کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے۔ سرکاری محکموں کی نااہلی، افسروں کے یکے بعد دیگرے تبادلے و تقرریاں اور لڑکیوں کی کم عمری میں شادیاں بھی اہم اسباب ہیں کمیشن نے اِس سلسلے میں شادی کے قانون پر عملدرآمد کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق قحط کے ذمے دار صحت، تعلیم، آبپاشی، لائیو سٹاک، بہبود آبادی، زراعت، بحالی، ریونیو، سیاحت، جنگلات اور جنگلی حیات کے محکمے ہیں۔ تھرپارکر میں گورننس کی صورتِ حال انتہائی خراب ہے، تین سال کے دوران چھ ڈپٹی کمشنروں کا تبادلہ ہوا اور افسروں کی ترقیوں اور تبادلوں میں میرٹ کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی قلت ہے اور جو ڈاکٹر موجود ہیں اُن کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں۔ رپورٹ میں ڈاکٹروں کی تنخواہیں چار لاکھ روپے ماہوار کرنے کی سفارش کی گئی ہے،تعلیم کی حالت انتہائی خراب ہے، محکمہ زراعت اور لائیو سٹاک نے کوئی کام نہیں کیا، محکمہ بہبود آبادی کی کارکردگی صفر ہے، قحط کی وجہ پینے کے پانی کی عدم دستیابی ہے ، آر او پلانٹ لگانا مستقل حل نہیں۔ رپورٹ میں تھر کو آفت زدہ قرار دینے اور تھر ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

حکومتِ سندھ نے تھر کے دُکھوں کو جاننے کے لئے اعلیٰ ترین سطح پر جو کمیشن قائم کیا تھا اس کی سفارشات میں بڑی حد تک مسائل کی نشاندہی کر دی گئی ہے اور اگر اِن پر عمل کیا جائے تو تھر کے مسائل شاید پوری طرح ختم تو نہ ہوں، لیکن اُن میں معتدبہ حد تک کمی ضرور کی جا سکتی ہے، قحط تو خیر ایک قدرتی آفت ہے اور تھر کو اس کا سامنا رہتا ہے تاہم جو کچھ انسانی بس میں ہے وہ تو ہو سکتا ہے، لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جو محکمے انسانی خدمت کے لئے بنائے گئے ہیں اس کے افسران اس کام کو کسرِ شان سمجھتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افسروں کی ترقیوں اور تبادلوں میں میرٹ کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں جو افسران میرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افسر بنائے جاتے ہیں وہ عوام کا لانعام کی خدمت کے لئے تو افسر نہیں بنتے پھر جن افسروں کا پس منظر جاگیردارانہ ہوتا ہے وہ جب افسر بنتے ہیں تو اُن کی افسری کا نشہ دو چند ہو جاتا ہے۔ انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ کمیّ کمینوں کی خدمت کرتے پھریں اور اِس مقصد کے لئے تھر کی خاک چھانتے پھیریں۔

بعض غیر سرکاری ادارے صحیح معنوں میں تھر کے عوام کی خدمت کر رہے ہیں اُن کے لئے پینے کے پانی کے کنوئیں کھود رہے ہیں اور اُن کی غذائی ضروریات بھی لوگوں کے گھروں تک پہنچا رہے ہیں اگر ایسی خدا ترس اور عوام دوست غیر سرکاری تنظیموں کو مزید وسائل مہیا کر دیئے جائیں تو ان سے وابستہ رضا کار ضرورت مندوں کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں۔ حکومتِ سندھ اگر واقعی تھر کے عوام کے مسائل حل کرنے کی خواہاں ہے تو اُسے سرکاری محکموں پر انحصار کم کر کے اُن تنظیموں کی سرپرستی کرنی چاہئے جو پہلے ہی تھر میں انسانی خدمت ایک جذبے کے تحت کر رہی ہیں۔

مِٹھی تھر کا مرکزی شہر ہے یہاں جو ہسپتال قائم ہے وہ عملاً پورے تھر کی طبی ضروریات پوری کرنے والا واحد ہسپتال ہے۔ اول تو دور دراز علاقوں سے اس ہسپتال میں پہنچنا ہی آسان کام نہیں، طویل اور جان جو کھوں کا سفر طے کر کے اگر کوئی مریض ہسپتال میں پہنچ جائے تو عام طور پر وہاں ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے۔ ڈاکٹروں میں عمومی رجحان یہ ہے کہ وہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں فرائض انجام دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے، لیکن کراچی کو چھوڑ کر مِٹھی کون جائے گا؟ اِس لئے مِٹھی کا ہسپتال عموماً ڈاکٹروں کی راہ تکتا رہتا ہے، سینئر ڈاکٹر تو رہے ایک طرف جونیئر ڈاکٹر بھی نہیں جاتے۔ البتہ ہسپتال کے باہر پرائیویٹ کلینک موجود ہیں جہاں سے علاج کرانا تھر کے غریب عوام کے بس کا روگ نہیں، چنانچہ یہ بے چارے ’’قہر درویش بر جانِ درویش‘‘ کی مثال بنے رہتے ہیں۔ کم خوراکی کے ساتھ ساتھ علاج معالجے کی ناکافی سہولتیں بھی اموات کا باعث ہیں۔ وہ ڈاکٹر بھی تھر میں جانا پسند نہیں کرتے، جنہوں نے تھر کا رہائشی ہونے کی بنیاد پر رعایتی نمبروں پر میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کیا ہوتا ہے۔ اِن حالات میں اگرچہ کمیشن نے ڈاکٹروں کی تنخواہیں بڑھانے کی سفارش کی ہے تاہم اس میں شاید اُن ڈاکٹروں کے لئے زیادہ کشش نہ ہو جو بڑے شہروں میں ملازمتیں کرنے کے ساتھ ساتھ پہلے ہی پرائیویٹ پریکٹس سے اس سے زیادہ کمائی کر رہے ہیں۔ ان حالات میں اگر حکومتِ سندھ واقعی تھر کے عوام کی مشکلات کم کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے کوئی متبادل اور عملی راستہ اختیار کرنا ہو گا۔

کہا جاتا ہے کہ انگریز کے زمانے میں اگر اگست تک تھر میں بارشیں نہیں ہوتی تھیں تو اس وقت کی انتظامیہ متوقع قحط کا قبل از وقت ادراک کر کے تھر کے عوام کی خدمت کی منصوبہ بندی شروع کر دیتی تھی، لیکن اس زمانے کے سرکاری محکمے آج کے محکموں سے مختلف تھے۔سرکاری محکموں کا وہ دور اگر کسی طریقے سے واپس آ سکے تو اب بھی بہتری کے آثار پیدا ہو سکتے ہیں۔ کمیشن نے بیک وقت گیارہ سرکاری محکموں کو تھر کی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اگر حکومتِ سندھ اپنے ان محکموں کا چال چلن درست کرنے میں کامیاب ہو جائے تو بھی حالات میں بہتری آ سکتی ہے۔ کمیشن نے لکھا ہے کہ آر او پلانٹ لگانا مستقل حل نہیں، لیکن بدقسمتی سے تمام آر او پلانٹ تو چل ہی نہیں سکے اور بہت سے پلانٹ چند دِنوں کے بعد ہی خراب ہو گئے، کیا حکومت نے کسی سے پوچھا کہ مصیبت زدگان کی مدد کے لئے اگر آر او پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو کم از کم ایسے پلانٹ لگائے جاتے جو چند برس تک چلتے تو رہتے، لیکن ایسے لگتا ہے جنہوں نے یہ پلانٹ لگوائے وہ کمیشن کھرا کر کے چلتے بنے اور تھر والوں کے دُکھ کم نہ ہو سکے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ تھر کے لوگوں کی مدد کے لئے جو گندم اور دوسری خوراک بھیجی گئی وہ بھی اُن تک نہ پہنچ سکی، پانی کی بوتلیں پڑی پڑی خراب ہو گئیں۔ ان حالات میں کمیشن نے مسائل کی نشاندہی تو درست کر دی ہے، لیکن اِن کے دُکھ دور کرنے کے لئے جس درد مندی کی ضرورت وہ کہاں سے آئے گی؟

مزید : اداریہ