پاک سرزمین پارٹی کا جلسہ، ایم کیو ایم پر دباؤ میں کمی آئے گی؟

پاک سرزمین پارٹی کا جلسہ، ایم کیو ایم پر دباؤ میں کمی آئے گی؟

اتوار کو کراچی میں الطاف حسین کے نئے باغیوں نے اپنی جماعت ’’پاک سرزمین پارٹی ‘‘کا پہلاجلسہ مزارِ قائداعظمؒ کے احاطے میں واقع باغ جناح میں کر لیا، جو خود ایک ایونٹ ہے جو اپنے اندر خبریت رکھتا ہے۔ حاضری کتنی تھی؟ اور کتنی نہیں تھی؟ اس بحث میں الجھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ مصطفی کمال کو حق ہے کہ وہ اسے تاریخ ساز اجتماع قرار دیں اور ان کے مخالف بھی جو دل چاہے کہیں۔ زیادہ اہم یہ ہے کہ مہاجر کے نام پر سیاست کرنے والی ایم کیو ایم کی سیاست پر اس کے کتنے منفی اثرات مرتب ہوں گے؟ معروضیت کے ساتھ تجزیہ کرنا ابھی مشکل ہے تاہم یہ درست ہے۔ ایم کیو ایم اس جلسے کے انعقاد سے جتنی دباؤ میں تھی ’’پاک سرزمین پارٹی‘‘ کے کامیاب شو کے بعد ایم کیو ایم پر دباؤ میں کچھ نہ کچھ کمی آئے گی، کیونکہ انہیں جس کا ڈر تھا اس کے 1992ء کے باغیوں نے اپنے پہلے جلسے میں جتنی بڑی تعداد میں اُردو بولنے والی آبادی کو اکٹھا کر لیا تھا۔ ’’پاک سرزمین پارٹی‘‘ کے جلسے میں اتنی بڑی تعداد اُردو بولنے والی آبادی کی نہیں تھی، مگر یہ کہنا بھی درست نہیں ہو گا کہ ان کی حاضری آٹے میں ’’نمک‘‘ کے برابر تھی جو لوگ الطاف حسین سے بغاوت کر کے گئے ہیں ان کا اپنا کوئی حلقہ انتخاب تو نہیں ہے، مگر ان کا ذاتی حلقہ احباب تو ہے اور ان کے گھر والے خاندان تو ہیں جو ان کی وجہ سے ایم کیو ایم سے وابستہ تھے البتہ ایم کیو ایم ایک دوسری طرح کے شدید دباؤ میں ضرور ہے اور اس سے نکلنے کا اس وقت تک کوئی راستہ بھی نظر نہیں آتا۔ جب تک لندن اور پاکستان کی عدالتوں سے الطاف حسین کو ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس، منی لانڈرنگ کیس اور بھارت سے فنڈنگ لینے کے الزام کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آتا۔ الطاف حسین کی صحت کے مسائل الگ ہیں، جس سے ان کے جانثار اور وفادار بھی انکاری نہیں ہیں۔ ’’پاک سر زمین پارٹی‘‘ کے کامیاب شو کے بعد کراچی کے سیاسی اور صحافتی حلقے یہ سوال پوچھ رہے ہیں اگر مصطفی کمال اپنی سابقہ پارٹی کے قتل و غارت گری اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث گرفتار اور مطلوب کارکنوں کو معاف کرا کے اور رہا کرا کر ہی سیاست کریں گے تو پھر ان کی موجودگی الطاف حسین کی پارٹی میں ہی کیا بُری ہے؟ اس بنیادی مسئلے پر ’’پاک سر زمین پارٹی‘‘ کی قیادت سنجیدگی کے ساتھ جتنی جلد غور کر لے اتنا اچھا ہے کیونکہ قوم دہشت گردی، قتل و غارت گری، بھتہ خوری اور ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل کے لئے بھارت سمیت سب سے فنڈنگ لینے والوں اور قومی خزانہ اور قومی وسائل کی لوٹ مار کرنے والوں اور ان کے سرپرستوں سے نجات چاہتی ہے اور اس امر پر بھی سو فیصد متفق ہے کہ کڑا احتساب بھی ہو اور جرم ثابت ہونے پر قانون کی عدالتوں سے قرار واقعی سزا بھی ملے اور ان پر عمل درآمد بھی ہو، مگر سوال بنیادی یہی ہے کہ صاف شفاف احتساب کیسے ہو؟ اور بیرونی ایجنڈوں کی تکمیل کے لئے فنڈنگ لینے والوں کو قانون کے شکنجے میں کیسے کسا جائے؟ اس کے لئے ’’پاک سر زمین پارٹی‘‘ کے لیڈروں کو اپنی سابقہ پارٹی کے ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور قتل و غارت گری جیسے سنگین جرائم میں ملوث ملزموں کو معافی دلانے کی مہم جوئی سے دست کش ہونا پڑے گا اورجناب عمران خان کو بھی صرف نواز شریف کے احتساب کو نعرہ سے دست کش ہو کر کرپشن کے الزامات کی زد میں رہنے والے تمام لوگوں کے احتساب کے پہلے والے نعرہ پر اپنے آپ کو فوکس کرنا پڑے گا۔ ورنہ وہ 24 اپریل کی طرح کے ملک بھر میں50کامیاب شو بھی کر لیں نتیجہ صفر جمع صفر ہی آئے گا۔قانون کے تقاضوں کے مطابق احتساب کا عمل آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے سامنے سر تسلیم خم کئے بغیر ممکن نہیں ہے، اس کے لئے حکمران جماعتوں کو خواہ وہ مرکز اور پنجاب اور بلوچستان میں ہوں یا سندھ اور خیبرپختونخوا میں اقتدار پر متمکن ہوں۔

ٹاک شوز کے اکھاڑے غیر شائستہ اور غیر مہذب اندازِ گفتگو اور الزامات اور جوابی الزامات لگانے کی ’’بلیم گیم‘‘ کے گندے کھیل سے باہر نکل کر سنجیدگی اور متانت سے بات کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ احتساب کیا ہوناہوانا ہے، وہ بساط ہی لپیٹنے کے خدشات بڑھ جائیں گے،ہمیں قومی سلامتی کے لالے پڑ جائیں گے۔ صاف شفاف اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق کڑا احتساب کرنا ہے تو زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھنا پڑے گا، کرپشن کے نام پر جاری سیاست سے کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کے سوا کسی کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ جناب عمران خان بھی ائر مارشل اصغر خان کی طرح سیاست میں بے اثر ہو کر رہ جائیں گے اور جناب سراج الحق ’’کرپشن فری پاکستان‘‘ کی جگہ سید مودودیؒ کی جماعت کے مخلص اور ایثار پیشہ بچے کھچے کارکنوں کو مایوسی کے دلدل میں دھکیلنے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پائیں گے، اتوار کے روز کراچی میں ’’پاک سر زمین پارٹی‘‘ کے ایثار پیشہ مخلص کارکنوں کی بچی کھچی متاع اور ساری افرادی قوت کو بھی اپنی اس مہم جوئی میں جھونکنے کے بعد بھی کچھ حاصل نہ کر پائیں گے۔ کرپٹ حکمرانوں اور قومی وسائل کی لوٹ مار کے الزامات میں ملوث عناصر کے کڑے احتساب اور بھارت سمیت بیرونی ممالک سے پاکستان کی سلامتی اور قومی یکجہتی کے منافی سرگرمیوں کے لئے فنڈنگ لینے والوں سے نجات پر قوم کا سو فیصد اتفاق ہے، مگر اس پر عمل درآمد تب ہی ممکن ہو گا، جب ہماری قومی سیاست کی دعویدار سیاسی جماعتیں وقتی سیاست کی ضرورتوں اور گروہی مفادات کی مصلحتوں سے بلند ہو کر پاکستان کو کرپشن کے کیسوں سے نجات دلانے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوں گی۔ سیاسی جماعتوں کو عدالتی کمیشن کو بااختیار بنانے پر زور دینا چاہئے خلق خدا کو بلِاامتیاز حال اور ماضی کے حکمرانوں سمیت ہر اس شخص کا احتساب چاہتی ہے۔ جس نے ناجائز ذرائع اور قومی خزانہ اور قومی وسائل سے دولت اکٹھی کی اور اب سیاسی جماعتوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے کالے کرتوتوں کو تحفظ دلانے کی دوڑ میں شریک ہے، قوم کو اقتدار پر متمکن کرپشن کرنے والوں سے نہ کوئی ہمدردی ہے اور نہ ہی ان سابقہ حکمرانوں سے جنہوں نے یہ کام کئے اور نہ ہی ان سے جو سیاست میں سرمایہ کاری سے بچنا چاہتے ہیں۔ لاہور میں جماعت اسلامی اور اسلام آباد میں جناب عمران خان کے کامیاب شو سے لگتا ہے کہ جیسے ان سب کی طرف سے نئے انتخاب کرانے کا شور اٹھنے کو ہے، مگر کیا ایسا ہو گا؟ اور کیا نئے انتخاب قبل از وقت ہوں گے۔ اس کا فیصلہ میاں نواز شریف نے کرنا ہے یا اس عدالتی کمیشن نے، جسے قیام سے پہلے ہی متنازعہ بنایا جا رہا ہے اس کے نتائج پر بھی سنجیدگی سے غور کر لیا جائے تو کیا حرج ہے۔

اب ذکر ایسی ہستی کا، جس پر پاکستان اور دُنیا کی عالمی درس گاہیں اور علمی حلقے ہمیشہ فخر کریں گی اور مورخ ان کے نام کو سنہری الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرے گا۔بین الاقوامی شہرت کے حامل دانشور زندگی بھر پاکستان اور دُنیا کی عالمی شہرت کی حامل درس گاہوں میں علم و تحقیق کی شمع روشن رکھنے والا ممتاز اور منفرد شخصیت کا حامل مسلم سکالر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری دُنیا سے اس طرح رخصت ہوا کہ آخری رات بھی دو بجے تک اس کی توجہ کا مرکز علم و تحقیق رہا۔ وہ23اور24اپریل کی شب دو بجے تک شدید بخار کے باوجود اپنے بچوں سے علم و تحقیق کے بارے میں بات کرتے رہے، جو وہ علالت کے باعث پورا نہیں کر پا رہے ہیں۔ وہ شدید علیل تو کئی برسوں سے تھے، گردوں کے عارضہ کی وجہ سے ہفتے میں تین بار ڈائیلسز کے لئے ہسپتال جاتے تھے، مگر اس سب کے باوجود رات گئے تک علمی و تحقیقی کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے اپنی شدید علالت اور پیرانہ سالی کے باوجود اپنی وفات سے چند ماہ قبل ہی یونیسکو کا ایک اہم پراجیکٹ ’’دی فاؤنڈیشن آف اسلام‘‘ مکمل کیا ہے، جو اس حوالے سے ایک بڑا وقیع اور علمی حلقوں میں ہمیشہ یادگار رہنے والا کام ہے۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری اپنے علمی و تحقیقی کام اور دُنیا کی بین الاقوامی شہرت کی حامل درس گاہوں میں تدریس کے فرائض انجام دینے کی وجہ سے بڑا معتبر نام ہے اور وہ تحریک پاکستان کی جدوجہد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور آل انڈیا مسلم لیگ کے پارلیمانی سیکرٹری اور آل انڈیا مسلم لیگ کی ایکشن کمیٹی کے سیکرٹری جنرل اور شہید ملت خان لیاقت علی خانؒ کے دست راست اور پاکستان میں دستور سازی کی تاریخ میں بنیادی کردار ادا کرنے والے مخلص اور بے داغ اجلے کردار کے رہنما مولانا ظفر احمد انصاری کے بڑے فرزند تھے۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کی رحلت سے پاکستان ان گنی چُنی شخصیات سے بھی محروم ہوتا جا رہا ہے،جنہوں نے ہمیشہ مسلم لیگ کے پرچم تلے قائداعظمؒ کی قیادت میں تحریک پاکستان کی جدوجہد میں عملی طور پر حصہ لیا تھا۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کی عمر اس وقت84سال تھی، وہ پاکستان آئے تھے تو ان کی عمر14سال تھی۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں بھی اور قیام پاکستان کے بعد بھی قائداعظمؒ سمیت اس پوری قیادت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور ان کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف حاصل کیا تھا جن کی عظیم اور بے مثال جدوجہد کے نتیجے میں مسلمانوں کو یہ عظیم سلطنت خدا نے انعام کے طور پر دی تھی۔

انہوں نے مجددِ عصر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی شہرہ آفاق تفسیر قرآن پاک تفہیم القرآن کا انگریزی ترجمہ کیا ہے۔ قرآن پاک کا ترجمہ تو مکمل ہو چکا ہے مگر تفسیر کی بارہ جلدیں مکمل ہو چکی ہیں۔ دو جلدیں باقی ہیں جو مکمل نہیں ہو سکیں۔ ان کی حیات و خدمات پر تفصیل سے بات کرنے کا مَیں نہ اہل ہوں اور نہ ہی اس کی صلاحیت ہے۔ اس پر اہل علم ہی گفتگو کر سکیں گے۔ڈاکٹر انصاری کے تعلقات کا دائرہ پاکستان اور دُنیا بھر کے علمی حلقوں میں بڑا وسیع تھا۔وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ابتدائی ارکان میں سے تھے۔ جمعیت طلبہ کا دستور بھی انہوں نے لکھا تھا۔خرم جاہ مراد، پروفیسر خورشید احمد، ڈاکٹر منظور احمد، ڈاکٹر انوار حسین صدیقی اور ڈاکٹر ممتاز احمد اور قاسم مراد کی دوستی مثالی تھی ان کے ہزاروں شاگرد دُنیا بھر میں موجود ہیں۔ ڈاکٹر ممتاز احمد کی موت نے ان سے جینے کا حوصلہ چھین لیا تھا، مَیں اندازہ کر سکتا ہوں کہ لندن میں پروفیسر خورشید احمد کی اس صدمہ سے کیا حالت ہو گی۔ اس کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں جن کو دونوں کی گہری دوستی کا علم ہے۔ یہ دوستی70سالہ عرصہ پر محیط تھی۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...