کرپشن کے خلاف منظم مہم، تحریک انصاف نے آج اور جماعت اسلامی نے یکم مئی سے شروع کرنے کا اعلان کیا

کرپشن کے خلاف منظم مہم، تحریک انصاف نے آج اور جماعت اسلامی نے یکم مئی سے شروع ...

لاہور کی ڈائری

لاہور سے چودھری خادم حسین

سوال یہ نہیں کہ کس کا جلسہ بڑا اور کس کا چھوٹا تھا۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ پاناما لیکس کے حوالے سے ایک مہم شروع ہو چکی ہے جس کا سلسلہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف نے گزشتہ اتوار (24 اپریل) کو اسلام آباد میں جلسہ کیا اور عمران خان نے کرپشن کے خلاف مہم کا اعلان کر دیا جو گزشتہ روز سے شروع کر دی گئی ہے۔ اس سے بھی کہیں پہلے جماعت اسلامی نے مرکزی شوریٰ میں بحث اور فیصلے کے بعد کرپشن کے خلاف باقاعدہ مہم چلانے کا اعلان کر دیا تھا اور اس حوالے سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور دوسرے راہنما کارنر میٹنگوں سے بھی خطاب کر چکے تھے۔ اتوار (24 اپریل) ہی کو جماعت اسلامی کی طرف سے پنجاب اسمبلی کے سامنے فیصل چوک (مال روڈ) پر دھرنا دیا گیا۔ اگرچہ اتوار کی وجہ سے مارکیٹوں میں ہفتہ وار چھٹی تھی اس کے باوجود سڑک بند ہو جانے کے باعث ٹریفک میں دشواریاں پیش آئیں۔ یہ دھرنا پھر جلسے میں تبدیل ہو گیا۔ جماعت کے کارکنوں نے اپنی روائتی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چوک اور سڑک کو چھنڈیوں، بینروں اور پلے کارڈز سے بھر دیا تھا۔ فلیکس تصاویر بھی لگائی گئیں، ان پر کرپشن مکاؤ مہم کے حوالے سے نعرے بھی درج تھے۔ اس دھرنے کے اجتماع سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ فرید پراچہ، میاں مقصود احمد اور ذکر اللہ مجاہد نے بھی خطاب کیا۔

مقررین کی تقریروں کا موضوع بھی کرپشن ہی تھا۔ امیر جماعت سراج الحق نے اپنے مخصوص انداز میں اشرافیہ کو للکارا اور کہا کہ ملک پر 67 سال سے مٹھی بھر لوگوں کا قبضہ ہے ان کی وجہ سے قیام پاکستان کا مقصد ہی ختم ہوتا نظر آتا ہے۔ جماعت اسلامی اب کرپشن کے ناسور کو برداشت نہیں کرے گی۔ دوسرے مقررین نے بھی اسی موضوع پر تقریریں کیں، سب کا موقف یہی تھا کہ بد دیانتی اور کرپشن ختم کر کے عدل پر مبنی نظام کے قیام ہی سے عوام کی بہبود وابستہ ہے۔ یہ دھرنا اور جلسہ جس میں مخصوص نعرے بھی گونجتے رہے پر امن طور پر ختم ہوا۔ امیر جماعت نے جماعتی فیصلے کا اعلان کیا کہ یکم مئی سے پورے ملک میں کرپشن کے خلاف باقاعدہ تحریک کا آغاز کر دیا جائے گا اور اس کے بعد پورے ملک میں مظاہرے اور اجتماعات ہوں گے۔ مقررین نے پنامہ لیکس کے حوالے سے بھی احتساب کا مطالبہ کیا اور وزیر اعظم کی طرف اعلان کردہ کمشن اور اس کے ’’ٹرمز آف ریفرنس‘‘ کو مسترد کر دیا اور مطالبہ کیا کہ احتساب کو محدود کیا جائے اور ٹی او آرز اپوزیشن کی مشاورت سے بنائے جائیں۔ امیر جماعت سراج الحق کے مطابق کرپشن نے جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔

ہفتہ رفتہ کے دوران لاہور کے شہریوں کو مسلسل ٹریفک جام کا سامنا رہا کہ کبھی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی اینش والوں نے مظاہرہ کرتے ہوئے سڑکیں بند کیں۔ کبھی کلرکوں کی تنظیم ایپکا نے دھرنا دیا جبکہ اساتذہ کی تنظیم نے بھی احتجاج کیا۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ابتدا اپنے مطالبات سے کی اور اعلان کیا کہ پورے شہر کی سڑکیں بند کر دی جائیں گی۔ ایک روز کے لئے یہ مظاہرہ بھی کیا گیا۔ تاہم بعد ازاں ڈاکٹروں کے آپس میں اور مریضوں کے لواحقین کے ساتھ جھگڑے کی وجہ سے تحریک کا رخ تبدیل ہو گیا اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ے غیر معینہ مدت کے لئے سرکاری ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور ہڑتال کر کے بند کر دیئے اور سینئر ڈاکٹروں کو بھی کام سے روکا جبکہ پیرا میڈیکل سٹاف کو بھی کام نہ کرنے دیا۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

ڈاکٹروں کے اس احتجاج اور ہڑتال کی وجہ سے مریضوں کو شدید دشواریوں کا سامنا ہے آؤٹ ڈور میں آنے والے زیادہ تر مریض ایسے ہیں جو اپنے امراض کے لئے یہاں آنے پر مجبور ہیں کہ ڈاکٹر کو دکھانے کے بعد ہی دوا بھی ملتی ہے۔ اب صورت حال پریشان کن ہے ادھر حکومت پنجاب نے بھی اس مرتبہ سخت موقف اختیار کر لیا ہے کہ ڈاکٹروں کے نوے فیصد سے بھی زیادہ مطالبات مان لئے گئے تھے اور باقی ماندہ کے لئے مذاکرات کا دروازہ کھلا تھا لیکن ڈاکٹروں نے ہڑتال کر کے یہ استحقاق کھو دیا اب ان سے بات نہیں ہو گی اور حکومت متبادل انتظامات کرے گی۔

ڈاکٹروں کی ہڑتال سے عام شہریوں کو جو پریشانی ہوئی اس پر سخت احتجاج کیا گیا اور عوام پوچھتے ہیں کہ کیا ڈاکٹروں کے پیشے کا کوئی ضابطہ اخلاق بھی ہے۔؟ یہ ڈاکٹر حضرات اس کی پرواہ نہیں کر رہے، ان کو سخت سزا ملنا چاہئے۔

ایپکا اور سکول ٹیچرز ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات کے حوالے سے الگ الگ احتجاج کیا اور پھر ایک ایک ماہ کا الٹی میٹم دیا کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ ایپکا والے پے سکیل اور الاؤنسوں کی بحالی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ اساتذہ سرکاری سکولوں کی نجکاری کے خلاف نبرد آزما ہیں، حکومت کے پاس ان تنظیموں سے مذاکرات کے لئے کافی وقت ہے ان سے بات چیت شروع کر دی جانا چاہئے۔

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی آمد آمد ہے قریباً ڈیڑھ ماہ باقی ہے تاہم یہاں منافع خور اور ذخیرہ اندوز ابھی سے میدان میں نکل آئے اور اشیاء خورونوش کے نرخ بتدریج بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔ مرغی کے گوشت میں 60 سے 70 روپے فی کلو بکرے کے گوشت میں 50 سے 60 روپے فی کلو اضافہ کیا جا چکا ہے۔ دالیں بھی 15 سے 30 روپے فی کلو تک مہنگی ہو گئی ہیں۔ دودھ کے نرخ بھی پانچ سے 10 روپے فی کلو بڑھا کر 75 سے 85 روپے فی کلو تک کر دیئے گئے یہ نرخ فی لیٹر نہیں فی کلو ہیں، اس میں 800 ملی لیٹر دودھ ہوتا ہے اور یوں فی لیٹر 110 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے باوجود ملاوٹ شدہ ہوتا ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کو قابو کرنے کی بجائے رمضان بازاروں پر توجہ مرکوز کر دی ہے یہ بازار معمول سے کچھ سستے تو ہوتے ہیں لیکن اشیاء کا معیار بہتر نہیں ہوتا۔ حکومت کو یا تو قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا موثر نظام اپنانا ہوگا یا پھر عوام کو ان منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہوگا عملاً تو یہی پوزیشن ہوتی ہے۔ پٹرولیم اور بجلی کے نرخوں کی کمی کے اثرات اشیاء ضرورت کے نرخوں پر منتقل نہیں ہوئے۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...