جنرل راحیل شریف آنے والی نسلوں کو پر امن پاکستان دینا چاہتے ہیں

جنرل راحیل شریف آنے والی نسلوں کو پر امن پاکستان دینا چاہتے ہیں

(بابا گل سے)

گزشتہ ہفتے خیبر پختونخوا میں وقوع پذیر ہونے واقعات نے نہ صرف قومی سیاست میں ہلچل پیدا کردی بلکہ ان واقعات کی گونج عالمی سطح پر بھی سنائی دی چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کوہاٹ سگنل رجمنٹل سینٹر کی تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شریک تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے ملک میں جاری کرپشن کے طوفان سے متعلق محض چند جملے کہے مگر ان کے اس مختصر ترین خطاب نے کرپشن کے ایوانوں میں ایسی ہلچل پیدا کردی جو ہر دن گزرنے کے بعد بڑھتی ہی جارہی ہے جنرل راحیل شریف نے کرپشن پر اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے انتہائی آسان اور سادہ الفاظ کا انتخاب کیا اور کہا کہ ملک کا امن کرپشن کے خاتمے سے جڑا ہے کرپشن کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ ئے بغیر امن نہیں آسکتا آنے والی نسلوں کو پر امن ملک دینے کے لئے فوج احتساب کی ہر بامقصد کوشش میں بھرپور معاونت کرے گی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم کی حمایت حاصل ہے اس جنگ کے بعد دیر پا استحکام کا حصول بد عنوانی ختم کئے بغیر ممکن نہیں ۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے متذکرہ بالا بیان ملک میں مستقل بنیادوں پر قیام امن اور ہزاروں شہداء کے لواحقین کوتسکین دینے کے لئے دیا جو کہ یقیناًجنرل راحیل شریف کی نیک نیتی اور پُرخلوص جدوجہد کا عکاس اور ترجمان ہے پاکستان کے 20 کروڑ عوام اور عالمی عسکری وسیاسی قیادتیں اس بات کی معترف ہیں کہ جنرل راحیل شریف نہ صرف پاکستان، بلکہ خطے سے دہشت گردی کے خاتمے میں مخلص ہیں اور پاک فوج کی قیادت سنبھالنے کے بعد اپریشن ضرب عضب سمیت ان کی ہر کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوئی جس نے دہشت گردی کی کمر توڑ دی اور ملک بھر میں امن اومان کے حوالے سے مثبت اورنمایاں تبدیلی محسوس کی گئی آرمی چیف آنے والی نسلوں کے لئے ایک مستحکم پاکستان کی خواہش رکھتے ہیں جو کہ ہر محب وطن پاکستانی کا ایک سہانا خواب ہے پاکستان میں مستقل قیام امن کی خواہش کا دوسرا پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دہشت گردی کی اس جنگ میں آرمی چیف اپنے فوجی جوانوں سمیت سیکیورٹی اداروں پولیس اور عام شہر یوں کی بے مثال اور شاندار قربانیوں کو رائیگاں جانے نہیں دینا چاہئے جس کے لئے انہیں بالا آخر وہ بیان دینا پڑا جو صدرِ مملکت یا وزیراعظم کو دینا چاہئے تھا۔

آرمی چیف کے اس بیان کی عوامی حلقوں میں شاندار پذیرائی کی گئی جبکہ سیاسی حلقوں میں بعض شخصیات نے کانپتی لرزتی ٹانگوں کے ساتھ اس بیان کی حمایت کی پاکستان کے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ابھی اس بیان پر تبصرے ہی ہورہے تھے کہ آرمی چیف نے دو جرنیلوں سمیت 13 اعلیٰ افسروں کو بدعنوانی کے جرم میں ملازمتوں سے برطرف کر کے مختلف سزاؤں کا اعلان کر کے سیاسی حلقوں کو یہ واضع پیغام دیا کہ احتساب کا عمل ہم نے اپنے گھر سے شروع کردیا اب تمہاری باری ہے اب پاکستان میں جو کھیل شروع ہوگیا ہے اس کھیل میں واضع طور پر دو ٹیمیں تشکیل پارہی ہیں۔ایک ٹیم کرپشن کو شکست دینے اور دوسری کرپشن کو بچانے کے لئے کھیلے گی اس میچ میں وہی ٹیم جیتے گی، جس کے کھلاڑی تجربہ کار اور تگڑئے ہوں گے۔

کرپشن اور احتساب کے اس شور شرابے کے دوران سوات میں اندھا دھند فائرنگ کرکے رکن صوبائی اسمبلی اور وزیراعلیٰ کے مشیر سردار سورن سنگھ کو قتل کردیا گیا سردار سورن سنگھ بازار سے پیدل گھر کی جانب آرہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار ملزموں نے ان کے سر اور چہرے پر گولیاں برسا دیں سردار سورن سنگھ زخموں کی تاب نہ لاسکے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے پولیس نے کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 24 گھنٹوں میں قاتل گرفتار کرلئے ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ سردار سورن سنگھ کا قتل سیاسی رنجش کاشاخسانہ تھا بونیر ہی میں بلدیو کمار صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے، مگر تحریک انصاف نے سورن سنگھ کو ٹکٹ دیا جس پر کرائے کے قاتلوں کی خدمات حاصل کی گئیں اور 10 لاکھ روپے میں سودا طے ہونے کے بعد سورن سنگھ کو قتل کردیا گیا سردار سورن سنگھ کے قتل میں مسلم لیگ (ن) کے نائب ناظم کو بھی گرفتار کیا گیا جو اس خونی واردات کا سہولت کار تھا تحریک انصاف کے قائد عمران خان تعزیت کے لئے سردار سورن سنگھ کی رہائش گاہ بونیر گئے۔ انہوں نے سردار سورن سنگھ کو ایک بہادر نڈر اور مخلص کارکن قرار دیتے ہوئے ان کے قتل کو المیہ قرار دیا تاہم قاتلوں کی فوری گرفتاری پراطمینان کااظہار کرتے ہوئے پولیس کی کارکردگی کو قابل ستائش قرار دیا دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک طالبان نے نیٹ سروس کے ذریعے سردار سورن سنگھ کے قتل کی ذمہ داری قبول کی مگر قاتلوں کی گرفتاری کے بعد ڈی آئی جی مالاکنڈ نے تحریک طالبان کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دئے کر مسترد کردیا اور اس بات کی تحقیقات کا عندیہ دیا کہ وہ تحریک طالبان کے بیان کے مرکز کا کھوج لگائیں گے کرپشن اوراحتساب کے شور شرابے ہیں سورن سنگھ کے قتل کی المناک خبر میڈیا میں پس منظر میں چلی گئی تحریک انصاف کی حکومت کے اڑھائی سالہ دور میں چارارکین اسمبلی قتل ہوئے جن میں دو صوبائی کابینہ کے اراکین تھے۔ 2013ء میں ہنگو میں ایم پی اے فرید خان مردان میں عمران خان مہمند اور صوبائی وزیر اسرار اللہ گنڈہ پور کو نشانہ بنایا گیا سردار سورن سنگھ قتل ہونے والے چوتھے ایم پی اے اور کابینہ کے دوسرے رکن تھے۔

سردار سورن سنگھ کے قتل کے دنوں میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی لہر چلتی رہی مردان ایکسائز کے دفتر میں خود کش حملہ کیا گیا جس میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے اکوڑہ خٹک میں پولیو سپروائزر کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جبکہ پشاور میں ایک لیڈی ڈاکٹر کو اس کے سسر سمیت قتل کر دیا گیا لیڈی ڈاکٹر کا سسر پاکستان ائیر فورس کا ریٹائرڈ آفیسر تھا کرم ایجنسی اور مہمند میں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر بم حملے کئے گئے جس میں مجموعی طورپر 3 اہلکار شہید اور 5زخمی ہوئے ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی کمر ضرور ٹوٹی ہے مگر دم توڑتی دہشت گردی میں اب چند سانسیں باقی ہیں اور اس ناسور کے مکمل خاتمے کیلئے جنرل راحیل شریف کے بیان کے مطابق کرپشن کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی اتحادی پارٹی جماعت اسلامی ابھی تک خیبر لیکس کے مضر اثرات سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکی جماعت اسلامی نے مرکزی امیرسراج الحق کو اس بات پراعتماد میں لے لیا ہے کہ اگر بنک آف خیبر کے ایم ڈی کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی گئی تو وہ تحریک انصاف حکومت سے علیحدگی اختیار کرلے گی۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی یہ مجبوری ہے کہ وفاقی حکمومت کے خلاف تحریک اور دھرنے میں جماعت اسلامی ساتھ دینے کااعلان کر چکی ہے اگر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا حکومت سے علیحدگی اختیار کرتی ہے تو وہ تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک سے بھی علیحدگی اختیار کر لے گی جو کہ تحریک انصاف خصوصاً عمران خان کے لئے شدید دھچکا ثابت ہو گا۔ ان حالات کے پیش نظر اس بات کا قومی امکان ہے کہ بنک سکینڈل میں جماعت اسلامی کو کلین چٹ دے دی جائے گی اور سارانزلہ بنک کے ایم ڈی پر پھینک دیا جائے گا۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...