سرکاری ریکارڈ غائب کر کے حکومتی اراضی فروخت کرنے کا انکشاف

سرکاری ریکارڈ غائب کر کے حکومتی اراضی فروخت کرنے کا انکشاف

لاہور(اپنے نمائندے سے)صوبائی دارلحکومت لاہور کے پٹوار خانوں میں لینڈ مافیا کی ملی بھگت سے سرکاری ریکارڈ غائب کرکے حکومتی ملکیتی اراضی کو فروخت کرنے کا انکشاف ،ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن حرکت میں آگئی ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور کی مدعیت میں مزنگ کے سابقہ پٹواری کے خلاف جعلسازی ،فراڈ اور حکومتی خزانے کو نقصان پہنچانے کی دفعات کے تحت پہلا مقدمہ درج کر لیا گیا،کرپٹ پٹواریوں کی لسٹ مرتب کی جانے لگی،چند روز میں مزید مقدمات اور گرفتاریوں کا امکان،تفصیلات کے مطابق صوبائی دارلحکومت لاہور کے اکثر پٹوار خانوں میں سرکاری اہلکارو ں کی لینڈ مافیا،قبضہ گروپوں کے ساتھ گٹھ جوڑ اور ملی بھگت سے سرکاری یکارڈ غائب کرکے حکومتی ملکیتی اراضی کو فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے، کئی دہائیوں سے جاری اس پریکٹس میں کئی موضع جات میں جعلی انتقالات،فردات اور لینڈ مافیا کو مدد فراہم کرنے کے لئے پرت سرکار تک غائب کروا دیئے گئے ،اتنے سنجیدہ ایشو کے باربار سامنے آنے کے باوجود ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹرین نے کوئی کارروائی نہ کی اور نہ ہی ان موضع جات اور پٹواریوں کی لسٹیں مرتب کیں جو اس گھناؤنے کاروبار میں شریک ہیں ،موضع مزنگ کے سابقہ پٹواری محمد عرفان نے بھی اسی طرح کی کارروائی کرکے سرکاری انتہائی قیمتی 144کنال جائیداد کی اصل جلدیں ہی غائب کروا دیں اس انکشاف کے بعدڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن حرکت میں آگئی اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور عرفان نواز میمن نے مذکورہ پٹواری کے خلاف انکوائری کے بعد اپنی مدعیت میں جعلسازی ،فراڈ اور حکومتی خزانے کو نقصان پہنچانے کی دفعات کے تحت پہلا مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ اس ایکشن کے بعد مزید موضع جات اور کرپٹ پٹواریوں کی لسٹ مرتب کی جانے لگی ہیں جن کے خلاف چند روز میں مزید مقدمات اور گرفتاریوں کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔دوسری طرف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور عرفان نوازمیمن کی مدعیت میں مذکورہ پٹواری کے خلاف تھانہ مزنگ میں درج مقدمہ میں ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی ہے اورنہ ہی اس بات کے امکان ہیں کہ مستقبل قریب میں کوئی اس طرح کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،کرپٹ پٹواریوں نے قبل از وقت ہی اپنے بچاؤ کے لئے سیاسی اثرورسوخ اور تعلقات کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اے ڈی سی آر کی مدعیت میں درج مقدمہ نے ایک نئی روائت کو جنم دیا ہے لیکن اس مقدمہ پر عدم عمل درآمد اور پٹواری کے بدستور اپنے موضع سلامت پورہ میں کام کرنے نے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن لاہور کی کمزوریوں کو بخوبی عیاں کر دیا ہے۔ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن لاہور کے ترجمان نے کہا ہے کہ ابھی ابتدائی طور پر کارروائی کا آغا ز کر دیا گیا ہے۔سرکاری اراضی کی خرد برد اور ریکارڈ کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہر اہلکار اور پٹواری کے خلاف کسی دباؤ اور سیاسی اثرورسوخ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بلاامتیاز کارروائی ہو گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1