کرایہ داری ایکٹ نافذ ہونے کے بعد مقدمات درج کرنے کی شرح میں اضافہ

کرایہ داری ایکٹ نافذ ہونے کے بعد مقدمات درج کرنے کی شرح میں اضافہ

لاہور(نامہ نگار)کرایہ داری ایکٹ 2015ء نافذ ہونے کے بعد پولیس کی طرف سے کرایہ داروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی شرح میں اضافہ ہونے لگا ہے جس کی وجہ سے سیشن کورٹ میں روزانہ 2 سے 5 کرایہ دار ضمانتوں کے لئے رجوع کررہے ہیں۔حکومت نے علاقوں میں کرایہ پر رہائش حاصل کرکے رہنے والے افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور پولیس کو اندراج کرائے بغیر رہائش اختیار کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کے لئے کرایہ داری ایکٹ نافذ کیا اور قانون بنایا کہ کوئی بھی شخص علاقے میں رہائش رکھتے وقت متعلقہ پولیس کو اطلاع دے۔اور مالک مکان کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ بھی اطلاع کرے کہ اس نے کرایہ دار کورکھتے ہوئے قانونی تقاضے پورے کرلئے ہیں۔ قانونی ماہرین مشفق احمد خان، مدثر چودھری ،مرزاحسیب اسامہ اورمجتبی چودھری کا کہنا ہے کہ کرایہ داری کا قانون بہتر ہے تاکہ کوئی شرپسند عناصر علاقے میں آکر رہائش اختیار نہ کرلے لیکن اس قانون کے نافذ ہونے سے پولیس کولوگوں کو تنگ کرنے اور ناجائز مقدمات درج کرنے کے لئے ایک اور راستہ مل گیا ہے ،قانون تو یہ ہے کہ اگر کوئی کرایہ دار ذاتی طور پر پیش ہوکرپولیس کو آگاہ کردے اور وقت مقررہ تک تمام قانونی تقاضے پورے کردیتا ہے تو اس کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوتا لیکن بعض پولیس اہلکاراس کے باوجود کرایہ دار اور مالک مکان کے خلاف مبینہ طور پرمقدمات درج کررہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اسی وجہ سے سیشن کورٹ میں 2 سے 5افراد اپنی ضمانتوں کے لئے رجوع کررہے ہیں۔وکلاء کا کہنا تھا کہ پولیس کے افسران کو چاہیے کہ اس بارے میں پولیس کو ہدایات جاری کریں تاکہ مقدمات کم سے کم درج ہوں جو شخص تھانے میں اطلاع ہی نہ کرے اس کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4