لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو بجلی بلوں کے بقایا جات کی وصولیوں سے روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو بجلی بلوں کے بقایا جات کی وصولیوں سے روک دیا

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو بجلی بلوں کے بقایاجات کی وصولیوں سے روکتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نیب کا ایسا طرز عمل سمجھ سے بالاتر ہے، ایسے اقدامات کے خلاف درجنوں متاثرین عدالت سے رجوع کریں گے۔جسٹس محمود مقبول باجوہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے داتا سٹیل ملزم کے سابق مالک شبیر حسین کی درخواست پر سماعت شروع کی تو درخواست گزار کی طرف سے محسن ورک ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ گیپکو کے ساتھ 16برس سے ایک کروڑ 48لاکھ کے بقایا جات کا تنازع چل رہا ہے، گیپکو نے یہ معاملہ نیب کو منتقل کر دیا ہے جس پر نیب نے انکوائری کے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں اور خدشہ ہے کہ درخواست گزار کو گرفتار کر لیا جائے گا، وکیل نے مزید موقف اختیار کیا کہ نیب کے نوٹسز آئین کے آرٹیکل 201اور 12کی خلاف ورزی ہے، الیکٹریسٹی ایکٹ کے تحت صرف بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ہی بقایاجات وصول کر سکتی ہیں، انہوں نے استدعا کی کہ نیب کے نوٹسز کالعدم کئے جائیں اور نیب کو درخواست گزار کی گرفتاری سے روکا جائے، عدالت نے قرار دیا کہ نیب کا ایسا طرز عمل سمجھ سے بالاتر ہے، نیب کے ایسے اقدامات کے خلاف درجنوں متاثرین عدالتوں سے رجوع کریں گے جس سے عدالتوں پر بوجھ بھی بڑھے گا، عدالت نے نیب کو بجلی بلوں کے بقایاجات کی وصولی اور درخواست گزار کی گرفتاری سے روکتے ہوئے نیب پنجاب، گیپکو اور وزارت پانی و بجلی سے 30اپریل تک جواب طلب کر تے ہوئے درخواست گزار کو نیب کی انکوائری میں شامل تفتیش ہونے کی ہدایت بھی کی ہے۔

نیب

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...