کوہ نور ہیرے کی واپسی کیلئے دائر درخواست پر1849 میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور دلیپ سنگھ کے درمیان طے پانیوالے معاہدہ لاہور کو عدالتی ریکارڈ پر لانے کی ہدایت

کوہ نور ہیرے کی واپسی کیلئے دائر درخواست پر1849 میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور دلیپ ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے ملکہ برطانیہ سے کوہ نور ہیرے کی واپسی کے لئے دائر درخواست پر1849میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور دلیپ سنگھ کے درمیان طے پانے والے معاہدہ لاہور کو عدالتی ریکارڈ پر لانے کی ہدایت کر تے ہوئے کیس کی مزید سماعت2مئی تک ملتوی کردی ۔جسٹس خالد محمود خان نے جاوید اقبال جعفری کی درخواست پر سماعت شروع کی تودرخواست نے موقف اختیار کیا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے کوہ نور ہیرا لاہور میں رنجیت سنگھ کے پوتے دلیپ سنگھ سے چھین کر برطانیہ بھجوایا جوایمپریس وکٹوریہ کو تحفے کے طور پر دیاگیا۔ایسٹ انڈیا کمپنی ریاست نہیں بلکہ ایک تجارتی کمپنی تھی اور اس کو ایسا کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔ کوہ نور ہیرا ایک ریاست نے دوسری ریاست کو تحفہ میں نہیں دیا تھا،ملکہ کا ہیرے پر کوئی قانونی حق نہیں اس لیے برطانوی حکومت سے کوہ نور ہیرا واپس لانے کا حکم دیا جائے۔پنجاب حکومت نے جواب میں بتایا کہ کوہ نور ہیرا دلیپ سنگھ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان معاہدہ لا ہور کے تحت ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے کیا گیاتھا، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حکومت پنجاب معاہدے کو مانتی ہے، عدالت نے کیس کی سماعت 2مئی تک ملتوی کرتے ہوئے معاہدہ لاہور(ٹریٹی آف لاہور )پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید : علاقائی