ای او بی آئی کنٹری بیوشن میں اضافے کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روک دیاگیا

ای او بی آئی کنٹری بیوشن میں اضافے کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روک دیاگیا

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے صنعتی کارکنوں کی سہولیات کے لئے حکومت کی طرف سے کئے ای او بی آئی کنٹری بیوشن میں اضافے کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روک دیا، عدالت نے وفاق کے کم از کم اجرت کے قانون کا بھی صوبے میں اطلاق روکنے کا حکم دیا ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک نے ای او بی آئی کنٹری بیوشن کے خلاف مسعود ٹیکسٹائل سمیت مختلف بائیس مختلف صنعتی اداروں کی درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزاروں کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ ای او بی آئی نے صنعتی مزدوروں کا کنٹری بیوشن بڑھا کر 780روپے ماہانہ فی کس کر دیا ہے اور پنجاب بھر کی صنعتوں کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ جولائی 2013ء سے لے کر اب تک جتنے بھی بقایا جات بھی 780روپے کے تناسب سے جمع کرائے جائیں، محکمہ ای او بی آئی نے یہ اضافہ وفاق کے جاری کردہ کم از اکم اجرت کے ترمیمی قانون کے تحت کیا ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ محکمہ ای او بی آئی کا یہ اقدام قانون کی خلاف ورزی ہے، 18ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کے بنائے گئے قوانین کا صوبوں پر اطلاق نہیں ہو سکتا ،وفاق کے کم از کم اجرت کے قانون کا پنجاب کی صنعتوں پر اطلاق روکا جائے اور ای او بی آئی کنٹری بیوشن بڑھانے کا اقدام بھی غیرقانونی قرار دیا جائے۔عدالت نے ای او بی آئی کنٹری بیوشن میں اضافے کے نوٹیفکیشن اور وفاقی حکومت کے بنائے گئے کم از کم اجرت کے قانون کا پنجاب میں اطلاق روکنے کا حکم دیتے ہوئے وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور محکمہ ای او بی آئی سے 12مئی تک جواب طلب کر لیاہے۔

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...