ایم این اے میاں جاوید لطیف کیخلاف الیکشن کمیشن میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر شروع کی گئی کارروائی غیرقانونی قرار، الیکشن کمیشن کے نوٹسز کالعدم

ایم این اے میاں جاوید لطیف کیخلاف الیکشن کمیشن میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن)کے رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کے خلاف الیکشن کمیشن میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر شروع کی گئی کارروائی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے نوٹسز کالعدم کر دیئے۔جسٹس خالد محمود خان کی طرف سے میاں جاوید لطیف کی درخواست پر 12صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل میں انتخابی عذرداری کے علاوہ کسی دوسرے طریقے سے رکن اسمبلی کو عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا، این اے 133شیخوپورہ سے ایم این اے جاوید لطیف نے موقف اختیار کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے روبرہ افضال نامی شہری نے درخواست دائر کی جس میں ایم این اے کی بی اے کی ڈگری کے جعلی ہونے کا الزام عائد کیا گیا، رکن اسمبلی کے مطابق سپریم کورٹ درخواست گزار کی بی اے کی ڈگری کو درست قرار دے چکی ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن کو رکن اسمبلی کی ڈگری سے متعلق کسی درخواست پر کارروائی کا اختیار نہیں ہے ،الیکشن کمیشن کی کارروائی غیرقانونی قرار دیتے ہوئے طلبی کے نوٹسز کالعدم کئے جائیں، الیکشن کمیشن نے موقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت کمیشن کو کسی بھی درخواست پر کارروائی کا اختیار ہے، عدالت نے اپنا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ، آئین، انتخابی قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں میں کسی بھی انتخاب کو چیلنج کرنے یا کسی رکن اسمبلی کی اہلیت کو چیلنج کرنے کا طریقہ کار اور اصول وضع کر دیئے گئے ہیں، ایم این اے کے خلاف شکایت کنندہ افضال احمد امیدوار نہیں تھا اور نہ ہی اس نے کوئی انتخابی عذرداری دائر کی، کسی رکن اسمبلی کے خلاف انتخابی عذرداری زیر التواء نہ ہو تو اس کی اہلیت کو کسی مبہم درخواست کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جا سکتاہے۔

مزید : علاقائی