نیب میں خود احتسابی کا نظام، چےئرمین نیب کا احسن اقدام

نیب میں خود احتسابی کا نظام، چےئرمین نیب کا احسن اقدام
 نیب میں خود احتسابی کا نظام، چےئرمین نیب کا احسن اقدام

فیصل خان

بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو دیمک کی طرح ملک کی ترقی اور خشحالی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے بلکہ میرٹ کے استحصال اور حقدار کو اس کا حق ملنے میں بھی رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ بدعنوانی کی وجہ سے ہی ملک کے منصوبے جہاں بعض اوقات بروقت پایہ تکمیل تک پہنچنے کی بجائے تاخیر کا باعث بنتے ہیں وہاں ملک کومالی نقصان بھی پہنچتا ہے جس کا بوجھ پاکستان کے عام شہری پر پڑتا ہے اور یوں مہنگائی میں بتدریج اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ پاکستانی قوم دنیا کی بہترین قوم ہے جس کو اس بات کا قوی ادراک ہے کہ بدعنوانی نہ صر ف معاشی ترقی و سماجی بہبود کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے بلکہ اس کی وجہ سے ملک کی ترقی کا سفربھی متاثرہوتا ہے۔

قومی احتساب بیورو (NAB ) کے قیام کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے نہ صرف اقدامات کےئے جائیں بلکہ بدعنوان عناصر سے لوٹی ہوئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی جائے اور ان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے جہاں ان کو قانون کے مطابق سزا دی جاسکے ۔ معاشرے کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لیے قومی احتساب بیورو نے چےئرمین قمر زمان چوہدری کی سربراہی میں ایک جامع حکمت عملی اپنائی جس کو نیشنل اینٹی کرپشن سٹریجی کے طور پر بد عنوانی کے خلاف موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے ۔

چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری کی ہدایت پرقومی احتساب بیورو نے جائزہ اورنگرانی کا موثر نظام وضع کیا ہے اس نظام کے تحت تمام شکایات پر پہلے دن سے ہی unique identification number لگایا جارہا ہے بلکہ انکوائریوں، انوسٹی گیشن، احتساب عدالتوں میں ریفرنس، ایگزیکٹو بورڈ، ریجنل بورڈز کی تفصیل ، وقت اور تاریخ کے حساب سے ریکارڈ رکھنے کے علاوہ موثر مانیٹرنگ اینڈ اولیویشن سسٹم کے ذریعہ اعدادوشمار کا معیاراور مقدار کا تجزیہ بھی کرنے کی ہدایت کی ہے جس پر تیزی سے عمل جاری ہے جس کے مطابق اپنے فرائض منصبی کی خلاف ورزی کرنے والے نیب افسران اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی کے لئے بھی نظام وضع کیا گیاہے ۔نیب نے شکایات کو نمٹانے کیلئے انفراسٹرکچراورکام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے ((10 دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا اسکے علاوہ چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری کی ہدایت پر قومی احتساب بیورو نے اپنے ہر علاقائی دفتر میں ایک شکایت سیل بھی قائم کیا گیا ۔ نیب نے انویسٹی گیشن آفیسرز کے کام کرنے کے معیاری طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا ۔ سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسرز اور سینئر لیگل قونصل پر مشتمل سی آئی ٹی(CIT) کا نظام قائم کیا جس سے نہ صرف کام کا معیار بہتر ہوگا بلکہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر تحقیقات پر اثرا انداز نہیں ہوسکے گا۔ چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری نے ادارے کے اندر بھی احتساب کا عمل شروع کیا اس عمل کے تحت نالائق، بد دیانت اور غفلت برتنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ نیب کے ہیڈکوارٹر میں ایک اینٹیگریٹی منیجمنٹ سیل قائم کیا گیا مذید براں نیب نے افسران، پراسیکیوٹر اور فیلڈ افسران کی کارکردگی کا موثر جائزہ لینے کیلئے آٹو میٹڈ مانیٹرنگ سسٹم قائم ہے جو کہ موجودہ کاغذ پر اعتماد کے نظام اور زیادہ وقت لینے والے رپورٹنگ سسٹم کا متبادل ثابت ہوگا اور سرکاری کام میں کارکردگی اورمعیار میں اضافہ ہوگا۔پر قومی احتساب بیورو نیبد عنوان عناصر سے قومی احتساب بیورو نے اپنے قیام سے لیکر اب تک 274 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق عوام کا قومی احتساب بیورو پر اعتماد 42 فیصد ہے جبکہ دوسرے تحقیقاتی اداروں پر 29 فیصدہے ۔ مزید برآں ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کے مطابق پاکستان کا کرپشن پرسپشن انڈیکس 126ممالک میں سے 117 تک پہنچ گیاہے جو پاکستان نے قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت حاصل کیا ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چےئرمین قمرزمان چوہدری نے عوام کو کرپشن ، رشوت ستانی اور بدعنوانی کے ملکی ترقی اور معیشت پر اثرات سے متعلق آگاہی کے علاوہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلباء وطالبات کو کرپشن کے اثرات سے آگاہی فراہم کرنے کے علاوہ محتلف یونیورسٹیوں، کالجز اور سکولوں میں تقریباََ 12 ہزار کریکٹرز بلڈنگ سو سایٹیز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ جس کے مثبت نتایج سامنے آرہے ہیں۔ْ قومی احتساب بیوروپر عوام کے اعتماد کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتاہے کہ نیب نے موجودہ چےئرمین قمرزمان چوہدری کی قیادت میں نیب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خطیر رقم بد عنوان عناصر سے ریکور کی ہے ۔ اس کے علاوہ مضاربہ/ مشارکہ سکینڈل میں بھی تقریباََ اڑھا ئی ا رب روپے ریکور کئے ہیں اور محتلف مکانات، جائیدادیں اور گاڑیاں نیب نے اپنے قبضے میں لینے کے علاوہ تقریباََ 6 ہزار کنال سے زائد زمین بھی ضبط کی ہے تا کہ عدالت کے ذریعے قانون کے مطابق متاثرین ہاوسنگ سائیٹوں اور مضاربہ/ مشارکہ سکینڈل کو ان کی لوٹی ہوئی رقم واپس دلوائی جا سکے ۔

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمرزمان چوہدری نے نیب میں جہاں اور بہت ساری نمایاں اصلاحات کیں وہاں انہوں نے عصرِ حاضرکے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نیب کے پراسیکوشن ڈویژن میں نئے لا افسروں کی تعیناتی کے علاوہ آپریشن ڈویژن کو 104نئے انویسٹی گیشن آفیسرز کی بھرتی سے متحرک ڈویژن بنا دئیے ہیں قومی احتساب بیورو نے اپنے افسرا ن کی جدید خطوط پر استعداد کار کو بڑھانے کے لئے ٹریننگ پروگرامز بھی ترتیب دئیے جہاں ان کو ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کرپشن اور وائٹ کالر جرائم کے سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کے بارے میںآگاہی فراہم کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیور و کا مجموعی طور پر 1999 سے اب تک Conviction Rate تقریباََ75 فیصد ہے۔ نیب نے راولپنڈی بیورو میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے۔ نیب کی راولپنڈی بیورو میں فرانزک سائنس لیبارٹری میں ڈیجیٹل فرانزک ، سوالیہ دستاویزات اورفنگر پرنٹ کے تجزیے کی سہولت موجود ہے۔ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی ہدایت پر قومی احتساب بیورو کے اندرونی معاملات کو مزید قابل احتساب اور شفاف بنانے سے متعلق انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی نظام رایج کیا گیاہے۔ جس کا مقصد نیب کے ادارہ کے لئے بدنامی کا سبب بننے والے غیر فعال، غیر شائستہ، بدعنوانی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کی سرکوبی کرنا ہے۔ نیب کے تمام علاقائی بیوروز کو انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی نظام کے قیام اور اس کے کام سے متعلق پالیسی گائیڈ لائنز جاری کر دی گئی ہیں۔ تمام علاقائی بیوروز کے ساتھ تفصیلی بات چیت کے بعد چیئرمین نیب نے ادارے کے لئے اپنا وژن پیش کیا اور قرار دیا کہ نیب کو دوسروں کے احتساب اور ان کے متعلق فیصلہ دینے کے پیش نظر اسے اپنے کردار کو بھی رول ماڈل بنانا ہوگا۔ اس تناظر میں چیئرمین نیب قمر زمان چوہدر ی نے قومی احتساب بیورو کے لئے بدنامی کا سبب بننے والے غیر فعال، غیر شائستہ، بدعنوانی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کی سرکوبی کے لئے مختلف اقدامات کئے ہیں جن میں افسران کے ساتھ ساتھ فیلڈ یونٹس کی کارکردگی اور اس کے معیار کا تجزیہ کرنا، نظرثانی شدہ اور اپ ڈیٹ ایس او پیز کی نگرانی، کام کے ہر مرحلے کے لئے مدت کے تعین، مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کے تصور کو متعارف کرنا، انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ ٹیموں کی جانب سے معیادی کارکردگی کا جائزہ اور ذاتی پسند نا پسند کے کلچر کے خاتمہ کے لئے کوائنٹیفائیڈ گریڈنگ سسٹم شامل ہیں۔ انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی نظام کے تحت نیب ملازمین کے خلاف تمام شکایات کی جانچ پڑتال اور تحقیقات چیئرمین انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ ٹیم کرتی ہے۔ نیب کے چیئرمین نیب کے اندر بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی جاری رکھنے ہوئے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے والے افسران کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہے۔ گزشتہ اڑھائی سالوں کے دوران قومی احتساب بیورو کے89 افسران و اہلکاروں کے خلاف ضابطے کی کارروائیاں شروع کی گئی ہے ، جن میں سے 23 کیسز میں بڑی سزائیں اور 39کیسز میں معمولی سزائیں دی گئی ہیں ، 5 کو بری قرار دیا گیا جبکہ باقی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔ چیئرمین نیب سمجھتے ہیں کہ سرکاری عہدیداران کی بدعنوانیوں کے خلاف اسی صورت نیب کی کارروائی قابل اعتماد ہوگی جب نیب کے اندر موجود بدعنوان عناصر کو قابل احتساب ٹھہرایا جائے گا۔کیونکہ کسی بھی نظام کی فعالیت اور موثر کارکردگی کے لئے انضباطی امور بہت اہم ہیں۔ چیئرمین نیب اچھے کام کو سراہے جانے کے ساتھ ساتھ نیب میں بدعنوان اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی پر یقین رکھتے ہیں۔

قومی احتساب بیورو اپنے موجودہ چئیرمین قمر زمان چوہدری کی قیادت میں ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیئے اپنی بھر پور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ موجودہ چئیرمین ادارے کی کارکردگی کا جائزہ مہینوں کی بجائے تقریباََ ہر ہفتہ تمام علاقائی دفاتر کی ویڈیو لنک کے ذریعے میٹنگ سے لیتے ہیں اور کسی قسم کی کو تاہی پر فوری ایکشن لیتے ہیں جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ قومی احتساب بیورو (NAB) کے چےئرمین قمرزمان چوہدری ایک انتہائی ایماندار ، قابل اور اچھی شہرت رکھنے والے ایک اعلٰی افسر ہیں جو شواہد اور میرٹ کی بنیاد پر بدعنوان عناصر کے خلاف بلاتفریق کاروائی پر یقین رکھتے ہیں ان کی قیادت میں قومی احتساب بیورو نیب کے وقار میں جہاں اضافہ ہوا ہے وہا ں قومی احتساب بیورو پر بدعنوانی کے خاتمے کے لئے بھی عوام کی توقعات بڑھی ہیں مگر قومی احتساب بیورو اپنے منشور اور انتہائی ایماندار چےئرمین نیب کی قیادت میں بدعنوان عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلا امتیاز کارروائی کرنے کے لئے پرعزم ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...