جمہوریت کے کمزور مقدمہ کا دفاع صرف عدلیہ ہی کر سکتی ہے

جمہوریت کے کمزور مقدمہ کا دفاع صرف عدلیہ ہی کر سکتی ہے

آجکل دو موضوعات کی ریٹنگ بہت اوپر جا رہی ہے۔ ایک جمہوریت کا مستقبل۔ دوسرا احتساب کس کا پہلے جمہوریت کی بساط لپیٹنے والے تو نظام کے خاتمہ کی تاریخیں بھی دے رہے ہیں۔ ایک عمومی آواز ساٹھ دن کی ہے کہ بس ساری گیم ساٹھ دن میں ختم ہو جائے گی۔ ویسے تو عبوری دور کے وزراء بھی مارکیٹ میں آگئے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ منصوبہ تو پرانا ہی تھا ۔ یہ پانامہ تو اندھے کے ہاتھ بٹیرے والی بات ہے۔ اسے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حکمرانوں پر آسمانی بجلی گری ہے۔ جمہوریت کے حق میں دلائل دینے والوں کو آجکل بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ انہیں حکمرانوں کا پٹھو بھی کہا جا رہا ہے۔ انہیں کرپشن کے تحفظ میں آلہ کار بننے کا طعنہ بھی دیا جا رہا ہے۔ انہیں سٹیٹس کو کا حامی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ انہیں بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں کا ساتھی بھی کہا جا رہا ہے۔یہ کہا جا رہا ہے کہ چونکہ آپ کا بھی حلوہ منڈا لگا ہوا ہے۔ اس لئے آپ اس گندی جمہوریت کا دفاع کر رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہم بھی ایک عجیب قوم ہیں جب کوئی آمر دس سال حکومت کر لے تو ہم اس کے خلاف سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ اور اپنے تمام مسائل کی وجہ اس آمریت کو قرار دے دیتے ہیں۔ ہمیں ہر برائی آمریت میں نظر آنے لگتی ہے۔ ہمارے لئے بنیادی انسانی حقوق بہت اہم ہو جاتے ہیں۔ شخصی آزادیاں اہم ہو جاتی ہیں۔ ہمیں حکمرانوں سے سوال کرنے کا حق بہت اہم لگنے لگتا ہے۔ ہمیں ووٹ کی طاقت کی یاد ستانے لگتی ہے۔ ہمیں پارلیمنٹ یاد آتی ہے۔ ہمیں اپوزیشن کی آواز یاد آتی ہے اور ہم جمہوریت کو بحال کرنے کے لئے نکل پڑتے ہیں۔ اور پھر جب جمہوریت کو دس سال ہو جاتے ہیں ہمیں جمہوریت بری لگنے لگتی ہے۔ ہم اس سے نا امید ہو جاتے ہیں۔ ہمیں بنیادی انسانی حقوق فضول لگنے لگتے ہیں۔ اپوزیشن کی آواز فضول شور لگنے لگتا ہے۔ پارلیمنٹ بے معنی لگنے لگتی ہے۔ ہمیں سوال کرنے کا حق بھی فضول ہی لگتا ہے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ پڑھے لکھے سمجھدار لوگ بھی جمہوریت کو ختم کرنے کے حق میں دلائل دے رہے ہیں۔ سنیئر بیوروکریٹ ، اعلیٰ عدلیہ سے تعلق رکھنے والے افسران اور دیگر اہل دانش بھی جمہوریت سے نا امید ہو رہے ہیں۔ ایک حاضر سروس سیشن جج سے جب میں نے جمہوریت کے دفاع میں بات کی۔ اور ان سے مکالمہ کیا کہ جمہوریت ہی واحد راستہ ہے جس سے معاشرہ میں بہتری آئے گی۔ ایک دو تین انتخابات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ جمہوریت نا کام ہو گئی ہے۔ لیکن انہوں نے مسکراتے ہوئے مجھے کہا کہ آپ وکلاء بار کے انتخابات کو ہی دیکھ لیں۔ ہر ضلعی ، ہائی کورٹ بارز، سپریم کورٹ بارز اور بار کونسلز کے انتخابات تو گزشتہ کئی دہائیوں سے وقت پر ہو رہے ہیں۔ آپ دیکھ لیں اس سے کوئی بہتری آئی ہے۔ بلکہ ہر انتخاب کے بعد پہلے سے بری حالت ہوئی ہے۔ قیادت کا بھی انحطاط ہوا ہے اور معاملات بھی انحطاط کا شکار ہوئے ہیں۔ایک سینئر بیوروکریٹ سے گزشتہ روز جمہوریت کے حوالہ سے ایک طویل مکالمہ ہوا ۔ ان کا بھی موقف تھا کہ انہیں جمہوریت سے بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ ان کا خیال تھا کہ جب پانچ دس کروڑ سے کم میں کوئی انتخاب ہی نہیں لڑ سکتا تو اچھے لوگ سامنے کیسے آئیں گے ۔ پیسے نے ہماری جمہوریت کو نہ صرف آلودہ کر دیا ہے بلکہ ہماری جمہوریت پیسے والوں کے ہاتھ میں یرغمال ہے ۔ اور یہ انتخابی نظام اس کو اس ان یرغمالیوں سے نہیں چھڑا سکتا۔اسی کے ساتھ کرپشن اور پیسے کی دوڑ کو کالا دھن کی ریل پیل کو بھی جمہوریت کے خلاف بطور دلائل استعمال کیا جا رہا ہے۔

آج جمہوریت کے مرکزی کھلاڑیوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں نہ صرف جمہوریت کا دفاع کرنا ہے۔بلکہ عام لوگوں کو بھی جمہوریت سے نا امید ہونے سے بچانا ہے۔ اگر جمہوریت کے کھلاڑی اپنی یہ ذمہ داری نبھانے میں نا کام ہو گے تو جمہوریت کی بساط کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔

حکومت نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گی۔ اپوزیشن نئے ٹرمز آف ریفرنس بنوانے پر اکٹھی ہو رہی ہے۔ یہ ٹرمز آف ریفرنس کی لڑائی میں کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ لڑتے لڑتے ہو گئی گم ایک کی چونچ اور ایک کی دم۔ کیونکہ جو سکرپٹ رائٹرز کا سکرپٹ پڑھ رہے ہیں۔ ہاتھ ان کے بھی کچھ نہیں آنا۔ حکومت کہتی ہے کہ سب کا احتساب ہو گا۔عوام کی رائے میں صنم ہم تو ڈوبے ہیں تمھیں بھی لے ڈوبیں گے۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ صرف وزیر اعظم کا احتساب ہو گا۔ باقی سب کو معاف کر دیا جائے ۔ عوام کی رائے میں میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو ۔

میری رائے یہ اب ملک کی اعلیٰ عدلیہ پر ہے کہ وہ ایسی مشکل صورتحال میں جمہوریت کی ڈگمگاتی گاڑی کو سہارا دیتی ہے اور ریفری کا کردار نبھاتی ہے یا بحران کو سنگین کر دیتی ہے۔ جس سے کوئی اور ریفری کا کردار نبھانے لگے۔ اگر عدلیہ نے معاملہ کو سنبھال لیا تو جمہوریت بچ جائے گی۔ جمہوریت کے دشمن نا کام ہو جائیں گے۔ جس طرح دھاندلی کے معاملہ پر عدلیہ نے معاملہ کو طے کیا تھا۔ اس طرح آج اس بات کے قطع نظر کہ عدلیہ کو نیک نامی ملے گی یا نہیں۔ عدلیہ کو انصاف کرنا ہے۔ احتساب کرنا ہے۔ ٹرمز آف ریفرنس کا معاملہ بھی عدلیہ کو ہی طے کرنا ہے۔ کرپشن کا معاملہ بھی عدلیہ کو ہی طے کرنا ہے۔ کرپشن کے مقدمات کو جلد نبٹانا ہو گا۔ کمیشن کی کاروائی کو بھی دن رات جاری رکھنا ہو گا۔ لیکن عام آدمی کے لئے انصا ف کے دوازے بھی بند نہیں ہونے چاہئے۔ سپریم کورٹ کو معمول کے مقدمات بھی ساتھ ساتھ نبٹانے ہو نگے اور اس کمیشن کا کام بھی کرنا ہو گا۔ یہی قومی تقاضا ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...