’’ہاں!جاؤ مَیں تمہاری عزت نہیں کرتا‘‘

’’ہاں!جاؤ مَیں تمہاری عزت نہیں کرتا‘‘

ہاں! میں تمہارے عہدے، ذریعہ معاش ہی نہیں تمہاری ڈگریوں کی وجہ سے بھی تمہاری عزت نہیں کرتا، تم جج ہو، جرنیل ہو یاکوئی سیاستدان ہو اور کہتے ہو کہ لاکھوں کروڑوں تمہیں پسند کرتے ہیں، تم ایک ڈاکٹر ہو اور قرار دیتے ہو کہ تم سے زیادہ لائق اور محنتی طالب علم ہی کوئی نہیں تھا اور اب تم زندگیاں بچانے والا اہم ترین کام کر رہے ہو، تم ایک صحافی ہو اور تم نے اپنے گلے میں حق گوئی کا کوئی ڈھول لٹکا رکھا ہے اور سب سے بڑھ کر تم ایک استاد ہو جس کا احترام ہمیں ہمارا مذہب ہمیں سکھاتا ہے، وہ اساتذہ کو ہمارے دوسرے والدین قرار دیتا ہے اور اپنے والدین کی طرح ہی ان کے ساتھ ادب والا رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کرتاہے مگر میں نہیں کرتا کہ اگر تم صرف مجھے استاد ہونے کی وجہ سے عزت کرنے پر مجبور کرتے ہو، مجھے تمہارے علم اور ڈگریوں سے بھی کوئی سروکار نہیں اگر تمہارے پاس کردار جیسی دولت اورعظمت نہیں ہے۔مجھے باباجی اشفاق احمد سے منسوب ایک واقعے کی نفی کر نے دیجئے، وہ جتنا بڑا نام تھے میں اتنے ہی ادب اور احترام کے ساتھ ان سے اختلاف کرنے کی اجازت چاہتا ہوں، غالباً روم بارے فرماتے ہیں کہ وہاں ایک عدالت میں پیش ہوئے، معاملہ ٹریفک کے کسی قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے کا تھا، جج نے پوچھا آپ کیا کرتے ہیں، بتایا، استاد ہوں، جج اپنی کرسی سے اٹھ کے کھڑا ہو گیا اور بولا، ایک استاد اور عدالت میں، اس کے ساتھ اس نے جرمانہ معاف کر دیا۔ مجھے باباجی سے عرض کرنا ہے کہ آپ قانون کا احترام کرنے والی کسی ریاست کی بات کر رہے ہوں گے، مجھ سے آپ پوچھیں تو میں اس استاد کو عام آدمی سے دو گنا جرمانہ کروں جو ٹریفک سمیت کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کرے، میرے پاس منطق اور جوا زموجود ہے کہ میرے جس استاد نے میری آنے والی نسل کو قانون کی پابندی کا درس دینا ہے اگر وہ خود قانون شکنی کرتے ہوئے پکڑاجاتا ہے تو وہ صرف اپنا مجرم نہیں،وہ پوری قوم کا مجرم ہے، آنے والی پوری نسل کا مجرم ہے، اسے سزا بھی اسی تناسب سے ملنی چاہئے۔

میرے سامنے وہ اساتذہ موجود ہیں جو سیاست دانوں، ڈاکٹروں اور صحافیوں کی طرح صرف اور صرف دولت کمانے میں مصروف ہیں، ہاں، آپ محنت کرکے پڑھاتے ہیں تو آپ کو یقینی طور پر اچھا مشاہرہ ملنا چاہئے مگر یہ کیا بات ہوئی کہ آپ دھوکہ دہی کرنے لگیں، میں نے ان استادوں کے بارے جانا ہے جو اس قوم کے خون پسینے کی کمائی سے دئیے ہوئے ٹیکسوں پر بیرون ملک ڈاکٹریٹ کرنے کے لئے گئے اور پھر پی ایچ ڈی مکمل ہونے کے بعد تمام تر پیشہ وارانہ اخلاقیات، قومی ضروریات اور کئے گئے معاہدوں کو پاؤں کی ٹھوکر میں رکھتے ہوئے واپس ہی نہیں آئے۔ میں پرویز مشرف دور میں کسی اور چیز بارے اچھی رائے کا اظہار کروں یا نہ کروں، ڈاکٹر عطاء الرحمان کی وزارت میں ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کی خاطر ان کے اقدامات کو بہرحال سراہتا ہوں۔ انہی کے وژن کی وجہ سے پاکستان میں ہائیر ایجوکیشن کا ایک سنہری دور شروع ہوا،پیپلزپارٹی کے دور میں سیاستدانوں کی ڈگریوں کی تصدیق کے ایشو پر کمیشن کو مشکلات کا ضرور سامنا کرنا پڑا مگرصوبائی کمیشن بنانے کے باوجود اس گاڑی کو فل ریورس نہیں کیا جا سکا۔ بتایا گیا ہے کہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں پچاس کے قریب اساتذہ ایسے ہیں جنہیں ایک ، ایک کروڑ روپے تک خرچ کرتے ہوئے قومی خرچ پر بیرون ملک پی ایچ ڈی کے لئے بھیجا گیا اور پھر وہ واپس ہی نہیں آئے، یو ای ٹی کے رجسٹرار محمد آصف اس تعداد کو چھتیس کے قریب بتاتے ہیں مگر مجموعی طور پرتمام سرکاری جامعات سے ایسے اساتذہ کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ رہی ہے۔ ان اساتذہ نے تحریری طور پر معاہدہ کر رکھا ہوتا ہے کہ وہ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد کم از کم پانچ برس تک اپنے ادارے میں پڑھائیں گے مگر وہ معاہدہ انہیں پابند نہیں رکھ پاتا۔ انہیں دولت کی چکا چوند نظرآتی ہے تو ان میں سے کچھ تو ویسے ہی غائب ہوجاتے ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ ہم سے جرمانہ لے لو مگر ہم واپس نہیں آئیں گے۔ یہ کرپشن کی وہ اگلی قسم ہے جسے نچلی سطح پر استاد یہ کہہ کر رواج دیتا ہے کہ جو اس سے ٹیوشن پڑھے گا، وہی پاس ہو گا، وہاں ایک فرد کی جیب سے پیسے نکالے جاتے ہیں اور یہاں پوری قوم کے پیسے لوٹ لئے جاتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں یہاں بدعنوان سیاستدانوں اوردھوکے باز استادوں میں کیا فرق رہ جاتاہے۔

اصل المیہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک اعلیٰ تعلیم کے لئے کوئی نظام ہی نہیں بنا پائے، یہاں بھی لوٹ مار مچی ہے۔ وائے ڈی اے کہتی ہے کہ پی جی ٹرینی بہت خدمت کرتے ہیں مگر ان میں سے بہت سارے ان پیڈ ہوتے ہیں اور میرا سوال یہ ہے کہ ایک ، ایک وارڈ میں ساٹھ سے اسی پی جی ٹرینی کیا کر رہے ہوتے ہیں، ان میں سے بہت ساروں کو توان کے پروفیسر تک نہیں پہچانتے۔ ہوتا یہ ہے کہ پی ایچ ڈی کی طرح ایف پی سی ایس بھی اپنی مرضی سے ہوتا ہے۔ جس طرح پی ایچ ڈی میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس پی ایچ ڈی کی ملک و قوم کو ضرورت ہے یا نہیں ، اسی طرح صرف اعلیٰ ڈگری کے حصول کے لئے ایف پی سی ایس کو بھی استعمال کیا جاتا ہے، پہلے سٹوڈنٹ کہتے ہیں کہ وہ ان پیڈ ہی تربیت کر لیں گے بس ان کا داخلہ ہونا چاہئے اور پہلا سال مکمل ہونے کے بعد وہ سرکاری تنخواہ پر تربیت کے لئے راستے ڈھونڈنے شروع کردیتے ہیں۔ رقم ریاست خرچ کرتی ہے مگر یہ فیصلہ ریاست اور حکومت نہیں کرتی کہ انہیں اصل میں ضرورت کہاں ہے۔ ڈاکٹر بھی بھیڑ چال کی طرح سپیشلائزیشن کرتے چلے جاتے ہیں اور اسی طرح پی ایچ ڈی کرنے والے بھی برسوں پرانی شاعری پر پی ایچ ڈی کر کے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بہت بڑا تیر مار لیا ہے۔ یہاں ہماری انتظامی خامیاں واضح ہوتی ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کی دو برس پرانی رپورٹ بتاتی ہے کہ ہم تعلیم میں 122 ممالک میں سے112 ویں نمبر پر ہیں اور ہمارے پاس پروفیشنلز کی تعداد صرف اعشاریہ سات فیصد ہے، ورلڈ اکنامک فورم کا ہی مسابقت کا انڈیکس بتاتا ہے کہ پندرہ ، سولہ برس پہلے پاکستان اور بھارت کے درمیان فرق صرف دس درجوں کا تھا جو اس دوران بڑھ کے 67 درجوں کا ہو چکا اور یہ اس کے باوجود ہے کہ ڈاکٹر عطاء الرحمان کے دور کو ہم مثالی سمجھتے ہیں۔

جس طرح ہمارے ہاں یہ سٹڈی بالکل نہیں ملتی کہ پاکستان کی غذائی ضروریات کیا ہیں اور ہمیں کون سے علاقے میں کون سے فصل ، کتنی کاشت کرنی ہے بالکل اسی طرح ہماری جامعات اور صنعتوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے کہ انہیں کس قسم کے ماہرین درکار ہیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ پاکستان میں نہ صرف غیر معیاری بلکہ جعلی ریسرچز کے نام پر بھی ڈاکٹریٹ لی جاتی ہے۔ یہ نشاندہی بھی ہو چکی کہ غیر معیاری بلکہ جعلی ریسرچ جرنلز کو استعمال کرتے ہوئے بھی ڈاکٹریٹ کی جاتی ہیں یعنی اگر آپ ان کی پبلیکشن کی فیس ادا کردیں تو آپ جو چاہیں انٹ شنٹ شائع کروا لیں، وہ اسے آپ کی ریسرچ کے نام سے شائع کر دیں گے بلکہ دو نمبری کی انتہا یہ ہے کہ کسی دوسرے کا مقالہ چوری کرتے ہوئے بھی شائع کروا لیں چاہے وہ آئن سٹائن کی تھیوری آف ریلیٹیویٹی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمیں اس فیلڈ میں مقدار کے مقابلے میں اپنی ضرورت اور معیار کی لڑائی بھی لڑنی ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کا وژن، فرصت اور دماغ کس کے پاس ہے۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ میں کس معاشرے میں رہتا ہوں جہاں سیاستدان تو اک طرف رہے ، ججوں اور جرنیلوں بارے بات بھی رہنے دیجئے ،ہم صحافی، ڈاکٹر اور استاد تک اچھے اور سچے نہیں ہیں تو پھر اس معاشرے کی اصلاح بارے کیسے سوچا جا سکتا ہے جہاں تبلیغ کرنے والا خود ہی برے کردار کا مالک ہو۔ مجھے کہنے دیجئے کہ میں تو کسی کے علم ، اس کی ڈگریوں، اس کے ذریعہ معاش اور اس کے عہدے کی بنیاد پر اس کی عزت نہیں کرتا، میری نظر میں اس کا کردار ہی اس کی عزت کی واحد وجہ ہے، چاہے وہ میرے محلے کا نائی اورموچی ہی کیوں نہیں ہے مگر وہ بددیانت اور چور نہیں ہے، اپنا کام خلوص کے ساتھ کرتا ہے تو میری نظر میں بڑے بڑے ناموں اور عہدوں والے سے کہیں زیادہ عزت والا ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...