کیا کہنے بھئی کیا کہنے!

کیا کہنے بھئی کیا کہنے!

عمران خان نے پاکستان سے کرپشن ختم کرنا تھی ،وہ جمہوریت ختم کرنے پر تل گئے ہیں!

آصف زرداری پاکستان میں کرپشن کے مہا گرو مانے جاتے ہیں اور ان کی پارٹی کرپشن پر ٹی اوآرز مرتب کروارہی ہے !

چوہدری اعتزاز احسن پر کرپشن کے الزامات ہیں لیکن وہ اپنی طرف سے محکمہ انٹی کرپشن کے ڈی جی بنے پھر رہے ہیں!

سراج الحق نے جومہم کرپشن کے خلاف چلانی تھی ، وہ ریحام خان کے حق میں چلا بیٹھے ہیں!

چودھری سرور پیسے کے زور پر پاکستانی سیاست میں آئے تھے ، اب سیاست کے زور پر تحریک انصاف میں گروہ بندی کی کرپشن کر رہے ہیں!

وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے آپ کو اور اپنی فیملی کو احتساب کے لئے قوم کے سامنے پیش کردیا ہے ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو نوٹس لینا چاہئے کیونکہ وزیر اعظم کی پیشکش بلا امتیاز احتساب کے اصول کے منافی ہے!

پاکستان سے کرپشن اور کرپٹ سیاستدان ختم ہو گئے تو وزارت عظمیٰ کے لئے کس حاجی ثناء اللہ کو ڈھونڈیں گے ، آجا کر پھر ہمیں رانا ثناء اللہ پر گزارہ کرنا پڑے گا، اس لئے بہتر ہے کہ جو کچھ حاصل ہے اسی پر گزارا کیا جائے۔

ہمارے نزدیک تو پاکستان سے کرپشن ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کاکروچ کلر کی طرح یا پھر موسپل کی طرح کرپشن کلر سپرے ایجاد کرلیا جائے جو ہر گراسری سٹور پر آسان نرخوں پر دستیاب ہو اور جس پر کوالٹی کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے آئی ایس پی آر کی مہر بھی ثبت ہواور سارے عوام مل کر اس لعنت کو ملک سے ختم کریں!

ویسے لفظ پانامہ اس قدر مشہور اور زبان زد عام ہوگیا ہے کہ بہت جلد لبرٹی چوک میں پانامہ گول گپے، پانامہ چٹنی، پانامہ برگراور پانامہ پان مسالہ بک رہے ہوں گے ، یہی نہیں گوجرانوالہ سے ضرور جلد ہی مارکیٹ میں پانامہ فین متعارف کروایا جائے گا اور جونہی لکشمی چوک کی رونقیں بحال ہوئیں تو پانامہ چکن کڑاہی بھی عوام کے چٹخورے پن کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کروائی جائے گی!

باوثوق ذرائع کے مطابق جو لوگ عمران خان پر آف شور کمپنیاں بنا کر شوکت خانم کا پیسہ زمین کے سٹے میں لگانے کا الزام لگاتے ہیں وہ غلط ہیں کیونکہ عمران خان نے ایسا صرف اس لئے کیا تھا کہ وہ جان سکیں کہ کس طرح سے ملک سے لوٹی دولت آف شور کمپنیوں میں لگا کر باہر پراپرٹیاں خریدی جاتی ہیں تاکہ پانامہ لیکس کے آنے پر وہ اس کیس کو عوام کے سامنے صحیح طریقے سے پیش کر سکیں، لہٰذا اگر عمران خان نے آف شور کمپنی بنائی ہے تو اس کا مقصد اصلاح معاشرہ تھا ناں کہ کرپشن!

ویسے ہماری اپوزیشن وزیر اعظم کو کرپٹ ثابت کرنے کے لئے باقی اڑھائی سوافراد کی کرپشن کو اس طرح سے نظر انداز کئے ہوئے ہے جس طرح خالصتاً مشرقی گھرانوں میں بہنوئیوں کو ہرذمہ داری سے بری الذمہ قرار دیا ہوتا ہے!

پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف خطاب پر خطاب کر رہے ہیں، عمران خان خطاب پر خطاب کر رہے ہیں ، سراج الحق خطاب پر خطاب کر رہے ہیں ....یہی صورت حال رہی تو آہستہ آہستہ لگنے لگے گا کہ اس ملک میں کرپشن کم ہوتی ہے ، کرپشن پر خطاب زیادہ ہوتے ہیں....ویسے کیا کرپشن پر خطاب پر کرپشن کے زمرے میں نہیں آتا!

عمران خان نے پانامہ لیکس پر وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان پر اعتبار کیا ہے ، کیا چیف جسٹس کو بھی عمران خان پر اعتبار ہے ؟کیونکہ عمران خان چیف جسٹس پر تو اعتبار کر رہے ہیں لیکن ان کو دیئے گئے ٹی اوآرز پر کچھ یوں عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں جیسے وہ چیف جسٹس نہ ہوں پہلی کلاس کے بچے ہوں جسے ہر بات پڑھانی پڑتی ہے....صورت حال یہی رہی تو لوگ کہنا شروع کردیں گے کہ عمران خان خالی وزیر اعظم کو نہیں بلکہ چیف جسٹس کو بھی ڈکٹیٹ کرنا چاہتے ہیں، اب وہ بتائیں گے کہ کس کرپٹ کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئے اور کس کے خلاف نہیں ہونی چاہئے۔عمران کو کون بتائے گا کہ چیریٹی کا آغاز گھر سے کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اگلی اتوار لاہوریوں کو گرمانے آرہے ہیں ، انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ گرم لاہوریا اور نرم پشوریا بہت خطرناک ہوتے ہیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...