پاک بھارت خارجہ سیکر ٹریوں کی ملاقات میں گلے شکوے ،جامع مذاکرات کی بحالی پر ڈیڈ لاک بر قرار

پاک بھارت خارجہ سیکر ٹریوں کی ملاقات میں گلے شکوے ،جامع مذاکرات کی بحالی پر ...

نئی دہلی(اے این این،مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب سبرامنیم جے شنکر سے ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات،مسئلہ کشمیر،دہشتگردی اور جامع مذاکرات کی بحالی پر تفصیلی بات چیت،دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کی بحالی پر اتفاق نہ ہو سکا،پاکستان نے بھارتی مداخلت اور را کے جاسوس کی گرفتاری کا معاملہ اٹھایا،سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کی رہائی پر تشویش کا اظہار جبکہ بھارت نے ایک بار پھر جامع مذاکرات کی بحالی کو پٹھان کوٹ تحقیقات کی پیش رفت سے جوڑ دیا،ممبئی حملوں کے کیس میں ملزمان کے ٹرائل میں سست روی پر تحفظات کا اظہار،مولانا مسعود اظہر پر پابندیوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔تفصیلات کے مطابق منگل کی صبح افغانستان سے متعلق ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں شرکت کے لئے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچنے کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے صدر دفتر ساؤتھ بلاک کا دورہ کیا جہاں انھوں نے اپنے بھارتی ہم منصب سبرا منیم جے شنکر سے ملاقات کی ۔اس موقع پر بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط اور بھارتی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔90منٹ تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی، ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات اور تصفیہ طلب معاملات کے لئے جامع مذاکراتی عمل کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے بعد پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارتی ہم منصب سے ہونے والی اس ملاقات نے باہمی امور پر تبادلہ خیال کے لیے بہت اہم موقع فراہم کیا۔ ملاقات میں مسئلہ کشمیر سب سے اہم معاملے کی حیثیت سے زیر بحث آیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔پاکستان بھارت سمیت تمام پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے ۔ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور پر مذاکرات جاری رکھیں گے۔اعزاز احمد چوہدری نے پاکستان میں بھارتی مداخلت اور بھارتی کے جاسوس کی گرفتاری کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے پاکستان میں مسلسل مداخلت کا سلسلہ بند کیئے بغیر خطے میں امن کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا ۔ انھوں نے بلوچستان اور کراچی میں ہونے والی تخریبی کارروائیوں کے حوالے سے بھارت کو پاکستانی حکومت کی تشویش سے آگاہ کیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے مذاکرات کی بحالی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ہم جامع مذاکرات کی بحالی چاہتے ہیں۔بھارت کی تخریبی سرگرمیاں پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں ،دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کا عمل جلد از جلد بحال ہونا چاہیے ۔ اعزاز چودھری نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزموں کو چھوڑنے کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا۔سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بھارتی جاسوس کو کونصلر رسائی دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے لہٰذارسائی نہیں دے سکتے تاہم بھارت کو اس مقصد کے لیے پہلے تحریری درخواست دینا ہوگی ۔ سیکرٹری خارجہ نے سمجھوتہ ایکسپریس کے مرکزی کردار کرنل پروہت کی رہائی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ پاکستان کے حوالے کی جائے ۔ ملاقات میں پاک بھارت جامع مذاکرات کی بحالی سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی جبکہ بھارتی سیکرٹری خارجہ کو بتایا گیا کہ را کی پاکستان میں مداخلت دو طرفہ تعلقات کی بہتری میں رکاوٹ ہے ۔پاکستانی ہائی کمیشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات دو طرفہ معاملات پر حالیہ پیش رفت پر گفتگو کرنے کا ایک نادر موقع ثابت ہوئی۔بیان کے مطابق پاکستانی وزیرِ اعظم کے پرامن پڑوس کے وژن کے تحت سیکریٹری خارجہ نے بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ رشتے کے عہد پر زور دیا۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے دونوں افسران نے جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر گفتگو کی۔بیان کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر اہم مسئلہ ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد اور کشمیری باشندوں کی خواہشات کے مطابق اس کا منصفانہ حل ضروری ہے۔بیان کے مطابق پاکستان اپنے پڑوسیوں سے اچھے تعلقات چاہتا ہے، یہ ہی وزیراعظم نوازشریف کاعزم ہے، بھارتی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات کے دوران کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور پر گفتگو ہوئی، اعزاز چوہدری نے کشمیر کے مسئلے کے فوری حل پر زور دیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر کے ذریعے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ تعلقات کے تناظر میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کے جائزے کے لیے ملاقات سے ایک اچھا موقع ملا۔سیکریٹری خارجہ نے ہندوستان سمیت تمام پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات کے وزیراعظم نواز شریف کے عزم سے آگاہ کیا۔نفیس ذکریا کے مطابق ملاقات میں کشمیر سمیت تمام حل طلب معاملات پر بات چیت کی گئی۔سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ کشمیر بنیادی مسئلہ ہے، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت تمام پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔دوسری جانب بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے بات چیت انتہائی مثبت اور مفید رہی ہے جو دوستانہ ماحول میں ہوئی ہے۔دونوں ملکوں نے اپنے قومی معاملات کو اٹھایا ہے اور ایک دوسرے کو مختلف شعبوں میں اپنے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے ۔جے شنکر نے پٹھان کوٹ حملے کا معاملہ اٹھایا ہے اور واقعہ کی تحقیقات میں جلد اور بامعنی پیش رفت پر زور دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ پاکستان دو طرفہ تعلقات میں دہشتگردی کے اثرات سے انکار نہیں کر سکتا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین سے دہشتگردوں کو بھارت کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔بھارت نے گرفتار جاسوس کل بھوشن یادیو کو کونسلر رسائی فراہم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ نے ممبئی حملوں کے پاکستان میں ملزمان کے جلد ٹرائل پر بھی زور دیا اور جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعوداظہر پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کا معاملہ اٹھایا۔دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں اور ماہی گیروں کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔پاک بھارت سیکرٹریوں نے عوامی روابط کو فروغ دینے اور تعلقات کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر بھی غور کیا اور بات پر اتفاق کیا گیا ہے دونوں ملکوں کے درمیان رابطے جاری رکھے جائیں گے۔ملاقات میں جامع مذاکرات کی بحالی کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور بھارت نے واضح کیا ہے کہ آگے بڑھنے کے لئے پٹھان کوٹ حملے میں ملوث دہشتگردوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...