مجوزہ کمیشن کیخلاف اپوزیشن کا اتحاد،ٹی او آر ز تبدیل نہیں ہونگے :حکومت بھی ڈٹ گئی

مجوزہ کمیشن کیخلاف اپوزیشن کا اتحاد،ٹی او آر ز تبدیل نہیں ہونگے :حکومت بھی ...

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ،ایجنسیاں) پانامہ لیکس کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے اوراحتساب کا آغاز وزیراعظم سے کرنے پر پاکستان پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف ، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ق) میں اتفاق ہو گیا ہے جبکہ ان چار جماعتوں میں یہ بھی طے پایاہے کہ پانامہ لیکس میں جن 250شخصیات کے بارے میں ملک سے باہر سرمایہ منتقل کرکے آف شور کمپنیاں بنانے کا انکشاف کیا گیا ہے ان کا احتساب دوسرے مرحلے میں ہو گا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن 2 مئی کے اپنے اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ سامنے لائے گی جس میں حکومتی ٹی او �آ ر مسترد کیا جائے گا اوراپوزیشن پہلا مطالبہ ’’1956کے ایکٹ کے تحت کمیشن کے اختیارات نامنظور ‘‘کرے گی ۔اپوزیشن آر ڈیننس کے ذریعے بااختیار کمیشن تشکیل د ئیے جانے کا مطالبہ کریگی اور تیسرے مطالبے میں اس آر رڈیننس کی اسمبلی سے منظوری لیناشامل ہے اوراپوزیشن اس موقع پر حکومت سے تعاون کرے گی۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کا چوتھا نکتہ سب سے پہلے وزیراعظم کا احتساب اس کے بعد 250 افراد کے احتساب کا مطالبہ کیا جائے گا ۔ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی ،جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ق )کے درمیان باہمی رابطوں میں اتفاق ہو گیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کے امیر جماعت اسلامی سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطے ہوئے ہیں جس میں امیر جماعت نے انہیں پاناما لیکس کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہر ممکن جدوجہد کی یقین دہانی کروائی ہے ۔

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاناما لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے حکومت اپنے موقف پر ڈٹ گئی ہے ۔اسلام آباد میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہاکہ اپوزیشن کے پاس کرنے کو کچھ نہیں رہا اس لئے شور مچا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کر دیا کوئی دباؤ لیں گے نہ ٹی او آر بدلیں گے۔انوشہ رحمان کا کہنا

مزید : صفحہ اول