عمران خان پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے اختلافات دور کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے

عمران خان پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے اختلافات دور کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

اگر اختلافات ختم کرنے کی خاطر دیا گیا کھانا ہی مزید اختلافات کا باعث بن جائے اور اختلافات کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوجائے تو اسے آپ کیا کہیں گے؟یہ اختلافات کرنے والی شخصیات بھی اگر صف اول کی سیاسی شخصیات ہوں تو پھرتشویش تو ہوتی ہے، چند روز قبل تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی ایک دوسرے سینئر رہنما چودھری محمد سرور پر برس پڑے تھے۔ مؤخرالذکر ان انٹراپارٹی انتخابات میں پنجاب کی صدارت کے امیدوار ہیں ، جواب غیرمعینہ مدت تک ملتوی ہوچکے ہیں، پارٹی چیئرمین عمران خان کی خواہش بھی یہی ہے کہ چودھری محمد سرور پنجاب کے صدر منتخب ہوجائیں ۔ پارٹی کے اندر انہیں چیئرمین اور جہانگیر ترین کی حمایت حاصل ہے علیم خان بھی چودھری سرور کے کیمپ میں ہیں۔ البتہ شاہ محمود قریشی نہیں چاہتے کہ چودھری سرور صدر منتخب ہوں۔ وہ شفقت محمود کے حامی ہیں جولاہور سے تحریک انصاف کے واحد ایم این اے ہیں، دونوں امیدواروں نے اپنی اپنی انتخابی مہم بذریعہ ’’ایس ایم ایس ‘‘ چلائی ہوئی ہے اب اگر چودھری سرور پنجاب کے صدر منتخب ہوجاتے ہیں جس کا امکان بھی ہے تو عام انتخابات میں پنجاب سے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں ان کا کردار خاصا اہم ہوجائے گا ۔ اگرچہ شاہ محمود قریشی کو ملتان کے انتخابات میں نظرانداز تو نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر اناؤں کا ٹکڑاو بڑھتا رہا تو کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ شاہ محمود کہہ چکے ہیں کہ وہ ٹکٹ کے لئے بھیک نہیں مانگیں گے۔

اس پس منظر میں جہانگیر ترین نے اپنے گھر کھانے کی ایک دعوت کا اہتمام کیا جس کا بنیادی مقصد چودھری محمد سرور اور شاہ محمود قریشی میں بڑھتے ہوئے فاصلے کم کرنا تھا لیکن یہ مقصد تو کیا حاصل ہونا تھا، چودھری سرور اور شاہ محمود قریشی چیئرمین کی موجودگی ہی میں ایک دوسرے سے الجھ پڑے جس نے چیئرمین کو بھی بدمزہ کردیا اور وہ تقریب سے اٹھ کر چلے گئے۔

تحریک انصاف کے بارے میں ان کے ہمدردوں کا خیال ہے کہ وہ مستقبل کی حکومت ہے‘ دنیا کے جمہوری ملکوں میں جس جماعت کے اقتدار میں آنے کی امید ہوتی ہے اس نے حکومت سنبھالنے کے بعد ایک مکمل منصوبہ بنارکھا ہوتا ہے، جسے وہ اقتدار سنبھالتے ہی فوری طورپر روبعمل لے آتی ہے۔ اس لئے جمہوری ملکوں میں کسی جماعت کے اقتدار کے پہلے سودن بڑے اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حکومتیں ان پہلے سودنوں میں اقتدار کے باقی برسوں کا پورا خاکہ سامنے لے آتی ہیں جو حکومتیں اپنے پہلے ایک سوایام میں کچھ نہیں کر پاتیں عوام ان کے بارے میں مایوس ہونا شروع ہوجاتے ہیں، اور ایسی برسراقتدار پارٹی کے بارے میں ان کی رائے مثبت سے منفی دائرے میں جانا شروع ہوجاتی ہے۔ برطانیہ جیسے ملک میں تو حزب اختلاف باقاعدہ شیڈو کابینہ بناتی ہے اور جو شیڈو منسٹر جس محکمے کی تربیت حاصل کرتے ہیں اقتدار کی صورت میں انہیں وہی محکمہ دیا جاتا ہے۔ یہ جمہوری ملکوں کی وہ چھوٹی چھوٹی روائتیں ہیں جو جمہوریت کے استحکام کا باعث بنتی ہیں۔ پاکستان میں قائد حزب اختلاف کا باقاعدہ تعلق اگرچہ تحریک انصاف سے نہیں ہے تاہم اس کا دعویٰ یہی ہے کہ وہی اصلی حزب اختلاف ہے سید خورشید شاہ پر تو وقتاً فوقتاً تحریک انصاف کی جانب سے پھبتیاں کسی جاتی ہیں، اگرچہ آج کل روئے سخن ان کی جانب نہیں ہے، تاہم ایک سوال بہت اہم ہے کہ جس جماعت کے سینئر رہنماؤں کا یہ حال ہے جو آپ نے اوپر پڑھا ہے اور جس کے اندر اور بھی چھوٹے چھوٹے گروپ موجود ہیں کیا وہ انتخابات میں کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے؟ اس کے باوجود وہ اگر حکومت بنانے کے بارے میں پرامید ہے تو حکومت چلانے کے لئے کیا چودھری سرور اور شاہ محمود کی لڑائیوں کو ختم کرنا ضروری نہیں ہوگا؟

24اپریل کے جلسے کے لئے تمام رہنماؤں نے جہاں اپنی اپنی قوت کا مظاہرہ کیا وہاں ایک بار پھر یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات کی شکایات اگر دھرنے کے دنوں میں سامنے آرہی تھیں تو اب بھی اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ جلسے کے روز خواتین کے انکلوژر میں خواتین سے بدتمیزی کے واقعات ہوئے جس کی تحقیقات کے لئے اب کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ تحریک انصاف میں خواتین کافی متحرک کردار ادا کررہی ہیں لیکن اگر ان کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات اسی تسلسل کے ساتھ ہوتے رہے تو خواتین کی اس جماعت میں دلچسپی کم ہوجائے گی جس کا بہرحال پارٹی کو نقصان ہوگا۔ اس لئے تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنا بھی ضروری ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے مالی سال کے صرف دومہینے باقی رہ گئے ہیں اور اطلاعات یہ ہیں کہ ترقیاتی بجٹ کا ایک تہائی بھی استعمال نہیں ہوسکا، اس کی وجہ بظاہر یہ محسوس ہوتی ہے کہ وہ ترقیاتی منصوبے ہی نہیں بن سکے جن پر یہ ترقیاتی رقوم خرچ ہونا تھیں ،صوبائی حکومت تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانا چاہتی ہے، لیکن بجٹ ہونے کے باوجود ان کی حالت جوں کی توں ہے۔ پچھلے دنوں ایک چینل پر جب سکولوں کی ناگفتہ بہ حالت کے متعلق ایک رپورٹ پیش کی گئی تو یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ وہ سکول ہیں جن کا بجٹ وفاقی حکومت نے دینا تھا جو ابھی تک نہیں دیا گیا اس لئے ان کی حالت بہتر نہیں بنائی جاسکی۔ سوال یہ ہے کہ جب صوبائی حکومت کا اپنا بجٹ غیر استعمال شدہ پڑا ہے تو پھر رقم کے لئے وفاقی حکومت کی جانب دیکھنے کی کیا ضرورت ہے، صوبائی حکومت پہلے اپنا بجٹ تو خرچ کرے پھر وفاقی حکومت کی جانب دیکھے۔

مزید : تجزیہ