سندھ اسمبلی ،رواں مالی سال کے بجٹ کی 3سہ ماہی رپورٹس پر بحث کا آغاز

سندھ اسمبلی ،رواں مالی سال کے بجٹ کی 3سہ ماہی رپورٹس پر بحث کا آغاز

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سندھ اسمبلی میں رواں مالی سال 2015-16کے بجٹ کی تین سہ ماہی رپورٹس اور آئندہ مالی سال 2016-17 کی بجٹ تجاویز پر بحث کا آغاز ہوا ۔ بحث میں 16 ارکان نے حصہ لیا۔ ایم کیو ایم کے محمود رزاق نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 9 ماہ میں صرف 11.22 فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ ہوا ہے ، جو انتہائی افسوس ناک بات ہے ۔ ایم کیو ایم کی ہیر اسماعیل سوہو نے کہا کہ 590 نئی ترقیاتی اسکیمز میں سے 263 اسکیمز کے لیے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا ۔ یہ بات تشویش ناک ہے ۔ جن محکموں یا اسکیمز میں کرپشن ہو سکتی ہے ، ان کے لیے 100 فیصد فنڈز جاری کیے گئے ہیں اور جو اسکیمز عوامی مفاد ی ہے ، ان کے لیے فنڈز جاری نہیں ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈیز ، گرانٹس اور قرضوں کی معافی پر 11 ارب روپے خرچ کیے گئے ۔ اس کی وضاحت نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خزانہ سندھ نے کرپشن کے دروازے کھول دیئے ہیں ۔ کمیشن لے کر فنڈز جاری کیے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے لوگ سوال کرتے ہیں کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھ کے لیے کیا کیا ۔ پیپلز پارٹی کی ریحانہ لغاری نے کہا کہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں تیمر کے لاکھوں درخت لگائے گئے ۔ متبادل توانائی کے منصوبوں پر بہت کام ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سجاول ضلع انتہائی پسماندہ ہے ۔ کیا وہ سندھ کا حصہ نہیں ہے ۔ تین سالوں میں سجاول کو صرف 9 کروڑ 30 لاکھ روپے کا بجٹ ملا ہے ۔ میری درخواست ہے کہ سجاول کی ترقی کے لیے خصوصی پیکیج دیا جائے ۔ ایم کیو ایم کے محمد راشد خلجی نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے جو بجٹ منظور کیا تھا ، اس میں ترامیم اور تبدیلیاں کر دی گئی ہیں ۔ بیورو کریسی کو ایوان کے فیصلے تبدیل کرنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ پیپلز پارٹی کی خیر النساء مغل نے کہا کہ میرپور خاص کے لیے انفرا سٹرکچر ، پانی اور سیوریج کی متعدد اسکیمز پر عمل نہیں کیا گیا ہے ۔ اس کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے ۔ ایم کیو ایم کے رکن سید وقار حسین شاہ نے کہا کہ گرانٹس اور سبسڈیز کس کو دی گئیں ، اس کی وضاحت ہونی چاہئے ۔ اتنا بجٹ خرچ ہونے کے باوجود زمین پر ترقی نظر نہیں آتی ۔ پولیس موبائلوں کے لیے ڈیزل نہیں ہے ۔ سندھ کے عوام باشعور ہو چکے ہیں ۔ اب وہ صرف اعدادوشمار پر ووٹ نہیں دیں گے ۔ حقیقی ترقی کے لیے کام کرنا ہو گا ۔ پیپلز پارٹی کے رکن ڈاکٹر سہراب خان سرکی نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں رکھی گئی رقم خرچ کر لی جاتی تو صورت حال مختلف ہوتی ۔ ترقیاتی اسکیمز کی پیش رفت کی مانیٹرنگ ہونی چاہئے ۔ ایم کیو ایم کی خاتون رکن رعنا انصار نے کہا کہ ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے حیدر آباد کو نظرانداز کیا گیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کی شہناز بیگم نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کراچی میں ترقیاتی کام نہیں کرا رہی ہے ۔ کراچی سندھ کا حصہ ہے ۔ کراچی میں کئی بڑے ترقیاتی منصوبوں پر ایک ساتھ کام ہو رہا ہے ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا ہے ۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر ظفر احمد خان کمالی نے کہا کہ محکمہ صحت میں 32 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں لیکن پورے صوبے میں اسپتالوں کی خالت خراب ہے ۔ میرپورخاص کے سول اسپتال میں منظور شدہ اسامیوں پر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا تقرر نہیں کیا گیا ۔ لوگوں کو دوائین میسر نہیں ہیں ۔ اسے اسپتال کی بجائے مذبح خانہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا ۔ میرپورخاص میڈیکل کالج کی تعمیر پر 101 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں لیکن زمین پر عمارت کہیں نظر نہیں آتی ۔ انہوں نے کہا کہ میرپورخاص کے انفرا سٹرکچر کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے لیے آئندہ بجٹ میں خصوصی پیکیج رکھا جائے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سید امیر حیدر شاہ شیرازی نے کہا کہ ٹھٹھہ ضلع کی تاریخی اہمیت ہے لیکن اسے بہت نظرانداز کیا گیا ہے ۔ پورے ضلع میں اسپتالوں کی حالت بہت خراب ہے ۔ ضلع بھر میں کئی سو اسکولز بندہیں ۔ استاد نہیں ہیں ۔ اسکولز کی عمارتیں خستہ حال ہیں ۔ اسکولز میں بنیادی سہولتیں نہیں ہیں ۔ ٹھٹھہ شہر کھنڈر بن گیا ہے ۔ پانی کی شدید قلت ہے ۔ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے میر اللہ بخش تالپور نے کہاکہ کراچی کی ترقی کو دیکھ کر جب ہم دیہی علاقوں میں جاتے ہیں تو آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کیونکہ وہاں لوگوں کو بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں ۔ سندھ کے بجٹ کا بہت بڑا حصہ کراچی میں امن وامان پر خرچ ہو جاتا ہے ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی کے لیے جو کام کیے ہیں ، انہیں سراہا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بدین ضلع کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ وہاں ترقیاتی کام نہیں ہوئے ۔ اسپتالوں کی حالت خراب ہے ۔ 80 فیصد اسکولز تباہ حال ہیں ۔ سڑکیں بھی ٹوٹی ہوئی ہیں ۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کے وریام فقیر نے کہا کہ بجٹ کا صحیح استعمال نہیں ہوتا ۔ چوٹیاریوں ڈیم کے لیے مختص رقم کہاں گئی ۔ اس کے بارے میں کسی کو علم نہیں ۔ سانگھڑ سے نکلنے والی بڑی سڑکوں اور لنک روڈز کی حالت بہت خراب ہے ۔ ایم کیو ایم کے محمد حسین نے کہاکہ 9 ماہ میں ترقیاتی بجٹ کا 34 فیصد خرچ ہوا ہے ۔ غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں پر بھی کام کی رفتار غیر تسلی بخش ہے ۔ امداد دینے والے اداروں نے بھی حکومت سندھ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ آخری تین ماہ میں دھڑا دھڑ بجٹ خرچ ہو گا اور بل بنائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی زیادہ تر ترقیاتی اسکیموں پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا گیا ۔ ایم کیو ایم کے دیوان چند چاولہ نے کہا کہ سندھ کی ترقی و خوش حالی کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول