آئین سے انحراف کی کوششوں کے خطر ناک نتائج نکلیں گے :میاں رضا ربانی

آئین سے انحراف کی کوششوں کے خطر ناک نتائج نکلیں گے :میاں رضا ربانی

لاہور ( این این آئی) چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہاہے کہ ہم اخلاقی طور پر ملک میں بڑی تبدیلی کیلئے تیار نہیں ،آئین سے انحراف کی کوششوں کے خطر ناک نتائج نکلیں گے ،موجودہ سیاسی صورتحال کے باوجود جمہوریت کے سوا کوئی راستہ نہیں ، سسٹم چلتا رہے تو ٹھیک بھی ہو جائے گا ، دریا سمت بدلیں گے تو تباہی اور بربادی آئے گی ، کوئی مقدس گائے نہیں سب کا احتساب ایک ہی ادارے کے ذریعے ہونا چاہیے ، اگر سسٹم سے کرپشن ختم کرنی ہے تو پارلیمان کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے سب لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں سابق وفاقی وزیر چوہدری عبدالغفور کے انتقال پر ان کی رہائش گاہ پر اہل خانہ سے اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے مر کزی رہنما نوید چوہدری بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان کے قومی اداروں کی جانب سے ملک میں اپنے اداروں کے اندر بھی احتساب کا آغاز خوش آئند ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ احتساب کے مختلف ادارے نہیں ہو نا چاہیے بلکہ احتساب ایک ہی ادارے سے ہونا چاہیے جہاں کوئی مقدس گائے نہ ہو۔ ایک ہی ادارے سے احتساب کے باعث عوام میں بھی اعتماد پیدا ہوتا ہے، ہم عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عدالتوں اور احتساب کا سامنا کیا ہے اور احتساب ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں،1947ء سے پاکستان پیپلز پارٹی کا بھی احتساب ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں تمام سیاسی جماعتوں نے سفارشات کی تائید کی تھی لیکن حکومت کی جانب سے ہماری سفارشات پر تاحال کوئی عملدرآمد نظر نہیں آ رہا۔سسٹم سے اگر کرپشن کو ختم کرنا ہے تو پارلیمان کی سفارش پر عمل کرنا ہو گا اور اس کے ساتھ ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومتیں کتنی بھی سست ہوں جمہوریت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوتا۔تاریخ بتاتی ہے جس سمت میں دریا بہہ رہا ہو اسے بہتے رہنے دینا چاہیے کیونکہ اگر دریا کی سمت بدلیں گے تو تباہی اور بربادی ہو جائے گیلیکن آج وفاق جس نہج پر کھڑا ہے ، وہاں جمہوریت کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش ہے ۔موجودہ سیاسی صورتحال میں بھی حکومت کے پاس جمہوریت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ہم بھی اخلاقی طور پر بڑی تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہیں لہٰذا آئین سے انحراف کی کوششوں کے خطر ناک نتائج نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ کر پشن کے خاتمے کیلئے سینٹ جو تجاویز دیں ان پر عمل ہونا چاہیے مگر فی الحال عمل ہوتا نظر نہیں آتا ۔کر پشن کے خاتمے کیلئے تمام جماعتیں متحد ہیں اور ملک سے ہر صورت کر پشن کا خاتمہ ہو نا چاہیے کیونکہ اگر ملک کو آگے لیکر چلنا ہے تو ملک میں شفاف احتساب وقت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر شعبے میں داغدار لوگ موجود ہوتے ہیں ۔ان سے سوال کیاگیا کہ کیا ملک میں موجودہ نظام کے سامنے کوئی بند بنا رہا ہے تواسکے جواب میں چیئر مین سینٹ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ اللہ کر یں موجودہ جمہوری نظام کے آگے کوئی بند نہ بندھے۔

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...