چارسدہ ،شبقدر میں کرسچن نوجوان کی جوانسال لڑکی سے بدفعلی

چارسدہ ،شبقدر میں کرسچن نوجوان کی جوانسال لڑکی سے بدفعلی

(بیورورپورٹ)واپڈاگرڈ سٹیشن شبقدر میں کرسچےئن نوجوان نے 18سالہ لڑکی کو یرغمال بنا کر سات روز تک زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ ایس ایچ او شبقدر نے ملزمان سے ساز باز کرکے زنا بالجبر کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا اور متاثرہ لڑکی کے والد ین کو تھانے میں ذد و کوب کرکے ان کے دانت توڑ دئیے ۔ پولیس کی طرف سے متاثرہ خاندان پر راضی نامہ کیلئے دباؤ ۔متاثرہ لڑکی نے داد رسی کیلئے ڈسٹرکٹ سیشن جج کے عدالت سے رجوع کر لیا ۔تفصیلات کے مطابق مسماۃ شازیہ دختر عبدالحمد ساکن اٹک حال شیر پاؤ چارسدہ نے اپنی والدہ مسماۃ مرجانہ کے ہمراہ میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 28مارچ 2016کو وہ اپنے چھوٹی بہن کے ہمراہ واپڈا کالونی میں برتن فروخت کر رہی تھی کہ اس دوران کرسچےئن کمیونٹی کے مسمی ادرک ولد ڈیوس برتن خریدنے کے بہانے اپنے کوآرٹر میں لے گئے اور زبر دستی ان سے زیادتی کی ۔انہوں نے کہاکہ ملزم ادرک اور اس کے والد نے سات روز تک ان کو یر غمال بنا یا اور ملزم ادرک بار بار ان سے زیادتی کر تے رہے ۔ سات دن بعد پولیس نے مجھے بازیاب کر ایا اور سرکاری ہسپتال میں میڈیکل کرنے کی بجائے گھر میں قائم نجی کلینک سے معائنہ کر وایا جس میں زیادتی ثابت ہو ئی ۔ انہوں ایس ایچ او تھانہ شبقدر مرتضیٰ خان پر الزام لگایا کہ ملزمان سے بھاری رشوت وصول کرکے انہوں نے ایف آئی آر میں زنا بالجبر کے دفعات شامل نہیں کی اور الٹا میرے والد کو ذد وکوب کرکے ان کادانت توڑ دیا جبکہ والدہ کے کپڑے پھاڑ کرتھانے میں لٹکا دئیے ۔ انہوں نے کہاکہ ایس ایچ او تھانہ شبقدر مرتضیٰ خان نے دھمکی دی ہے کہ ملزمان سے راضی نامہ نہ کیا تو آپ اور آپ کی والدہ کو برہنہ کرکے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرینگے اور ساتھ ساتھ ہیروئن اور چرس کے مقدمات بھی درج کرینگے ۔ انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے انہوں نے ڈسٹرکٹ سیشن جج کی عدالت میں داد رسی کیلئے درخواست دائر کی ہے مگر ایس ایچ او خود کو قانون سے بالا تر سمجھ رہے ہیں ۔انہوں نے آئی جی خیبر پختون خواہ اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے اس حوالے سے فوری ایکشن لینے اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔

 

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر