باردانہ کی منصفانہ تقسیم کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے،ناصر شاہ

باردانہ کی منصفانہ تقسیم کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے،ناصر شاہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر خوراک سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں باردانہ کی منصفانہ تقسیم پر شکایات پر سیکرٹری خوراک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور جہاں جہاں بھی چھوٹے اور عام کاشتکاروں کی بجائے بیوپاریوں یا بااثر افراد نے باردانہ حاصل کیا ہے، ان کی ادائیگیاں روک دی جائیں گی۔ سیکرٹری خوراک سجاد عباسی اور ڈائریکٹر فوڈ سندھ محمد بچل راہو صوبے بھر کے اضلاع کے فوڈ سینٹرز کا دورہ کریں گے اور وہاں کا مکمل ریکارڈ بھی حاصل کریں گے۔ باردانے کے حوالے سے سیاست چمکانے والوں کو اس بار کوئی موقع نہیں مل سکا ہے اس لئے وہ میڈیا کے ذریعے اس معاملے کو طول دینے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ 60 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی رواں سال پیداوار کے مقابلے سندھ حکومت اس سال 11 لاکھ میٹرک ٹن گندم 1300 روپے من کی نرخ پر خرید کررہی ہے اور باقی مانندہ گندم کاشتکار اور زمیندار کو مارکیٹ میں ہی فروخت کرنا ہے اور اس وقت مارکیٹ قیمت بھی مستحکم ہے لیکن ہر کاشتکار اور زمیندار چاہتا ہے کہ اس کی گندم سندھ حکومت خرید کرے، جو کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اپنے دفتر میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری فوڈ سجاد عباسی، ڈائریکٹر فوڈ سندھ محمد بچل راہو، تمام اضلاع کے ڈی ایف سیز اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ سید ناصر حسین شاہ نے تمام اضلاع کی رپورٹ طلب کی اور کہا کہ جن جن ڈسٹرکٹ یا سینٹرز پر شکایات ہیں ان کی تحقیقات کی جائے اور اس سلسلے میں سیکرٹری اور ڈائریکٹر فوڈ خود ان سینٹرز کا دورہ کرکے وہاں کے کاشتکاروں اور شکایات کنندہ سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے سختی سے ہدایات تھی کہ باردانہ صرف اور صرف چھوٹے اور عام کاشتکاروں کو ہی مہیا کیا جائے اور اگر اس پر کسی بھی ڈسٹرکٹ یا سینٹر پر عمل درآمد نہیں ہوا تو وہاں کے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال صوبے میں ریکارڈ 60 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی فصل ہوئی ہے اور اس میں سے 11 لاکھ میٹرک ٹن گندم سندھ حکومت خرید کرے گی اور باقی مانندہ 49 لاکھ میٹرک ٹن گندم کاشتکاروں اور زمینداروں کومارکیٹ میں ہی فروخت کرنا ہوگی اور اس وقت صوبے میں گندم کی مارکیٹ قیمتوں میں استحکام ہے اور کاشتکاروں اور زمینداروں کو نقصان نہیں ہوگا۔ اس موقع پر موجود افسران نے بتایا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں باردانہ کی تقسیم منصفانہ اور ہدایات کے مطابق ہوئی ہے تاہم کچھ سیاسی عناصر اس کو اشیو بنا کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم عوامی خدمت کا عزم رکھتے ہیں اور ہم خدمت میں کسی سیاست کی مداخلت نہ کرتے ہیں اور کسی کو کرنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال گندم کے باردانے کی منصفانہ تقسیم کے لئے پہلے سے ہی حکمت عملی طے کرلی گئی تھی تاہم شکایات کے ازالے کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور یہ کمیٹی تمام 450 سینٹرز کو ریکارڈ مرتب کرکے باردانے کی فراہمی کی رپورٹ تیار کرے گی اور اگر کسی بھی جگہ کوئی غلط کام کیا ہوا نظر آیا یا باردانہ کسی بیوپاری یا بڑے یا بااثر افراد کو فراہم کیا ہوا پایا گیا تو اس کی ادائیگی روک دی جائے گی اور اس سینٹر کے افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ باردانے پر سیاست کرنے والوں کا ساتھ دینے کی بجائے حقیقی صورتحال سے آگاہ کریں اور اگر کہی پر کوئی کرپشن ہے تو اس کو ضرور بے نقاب کریں میں خود اس پر ایکشن لوں گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ گذشتہ تین روز سے اندرون سندھ کے مختلف اضلاع کا خود دورہ کرکے آئے ہیں اور اب سیکرٹری اور دائریکٹر فوڈ دورہ شروع کریں گے جبکہ وہ خود بھی دو سے تین روز میں دیگر باقی مانندہ اضلاع میں جائیں گے اور وہاں عام اور چھوٹے کاشتکاروں کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔

مزید : کراچی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...