مقامی وکیل کا نام انسداد دہشتگردی کی دفعہ میں شامل کرنے پر جواب طلب

مقامی وکیل کا نام انسداد دہشتگردی کی دفعہ میں شامل کرنے پر جواب طلب

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہرعالم میانخیل اور جسٹس محمدداؤدخان پرمشتمل دورکنی بنچ مقامی وکیل کانام انسداددہشت گردی کی دفعہ4میں شامل کرنے کے خلاف دائررٹ پروفاقی اورصوبائی حکومت سے جواب مانگ لیاہے فاضل بنچ نے امین الرحمان ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائروحیداللہ ا یڈوکیٹ کی رٹ سماعت کی جس میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ درخواست گذار وکیل ہے اورپشاورہائی کورٹ اورماتحت عدالتوں میں باقاعدگی سے پیش ہوتاہے تاہم اس کانام انسداددہشت گردی کے شیڈول 4 میں شامل کیاگیاہے اورانہیں اس بات کاپابندبنایاگیاہے کہ وہ متعلقہ تھانہ لعل قلعہ دیرتیمرگرہ کی حدود سے باہرجانے کی صورت میں متعلقہ تھانے کو اطلاع دے گا اورچند روز قبل بھی اسے کئی گھنٹوں تک تھانے میں بٹھایارکھاگیااورتیس لاکھ کے مچلکے داخل کرنے کے بعد چھوڑاگیاانہوں نے دلائل دئیے کہ مقامی پولیس ایک اوروحیداللہ کی تلاش میں ہیں جو پولیس اورسکیورٹی فورسزپرحملوں میں ملوث ہے مگرجب و ہ نہ ملاتو درخواست گذارکانام شیڈول4میں شامل گیااس حوالے سے اے ٹی سی سوات کے جج کو بھی باقاعدہ طورپر تحریری درخواست دی گئی تھی جس میں تمام حقائق سامنے لائے گئے جبکہ سکیورٹی فورسز نے انہیں زبانی طورپرتو کلیئرکردیاہے تاہم تحریری طورپر کچھ نہیں دیاگیااوراس کی اپیل بھی گذشتہ ایک سال سے سیکرٹری ہوم کے پاس پڑی ہے لہذااس کانام شیڈول 4سے خارج کیاجائے کیونکہ وہ کسی بھی جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے فاضل بنچ نے وفاقی اورصوبائی حکومت کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر