بلامبٹ ،پانامہ لیکس اور خیبر لیکس آنے کے بعد پرنٹ میڈیا کی چاندنی

بلامبٹ ،پانامہ لیکس اور خیبر لیکس آنے کے بعد پرنٹ میڈیا کی چاندنی

بلامبٹ (نمائندہ پاکستان)پانامہ لیکس اور خیبر لیکس سامنے آنے کے بعد اخبارات کی فروخت میں زبردست اضافہ،لوئر دیرکے مختلف اخباری ا سٹالوں پر لوگوں کا زبردست رش ،12 بجے سے پہلے اخبارات سے اسٹال خالی ہونے کیوجہ سے ہاکروں کی چہروں پر خوشیوں کی اثرات نمایاں ہونے لگی ہے ۔تفصیلات کیمطابق جب سے پانامہ لیکس کی خبریں اخبارات کی زینت بن گئے ہے تو عام شہری پانامہ لیکس کیبارے پوچھتے رہے کہ یہ پانامہ لیکس کیا ہے لیکن جب خبر عام ہو نے لگی تو ایک سروے میں فاروق اقبال ،فرید خان یوسفزئی اور اظہر تقویم کا کہنا تھا کہ نوازشریف جو کہ ایک محب وطن رہنماء ہے اور وہ اس کاروبار میں براہ راست ملوث نہیں تو ان کو کیونکر بدنام کیا جارہا ہے ۔اگر ان کے بیٹے ملک سے باہر کاروبار کرتے ہیں تو کیا وہ کارو بار نہیں کرسکتے وہ توکاروبار کرکے کافی زرمبادلہ یہاں اپنے ملک لاکر اپنے ملک کو سنوار سکتے ہے اسی طرح اور بھی بہت سے کاروباری لوگ ہیں جو ملک سے باہر رہ کر کاروبار کرتے ہے پھر تو وہ بھی پانامہ لیکس کا شکار ہو سکتے ہے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیاستدان کا خاندان ملک کی اندر کاروبار کرکے بھی بدنام اور باہر رہ کر بھی بدنام تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔بہر ہ مند سید کا کہنا تھا کہ اب جبکہ وزیر اعظم نوازشریف نے اپوزیشن قیادت کی مطالبہ پر پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس کی سربراہی یا کوئی بھی ادارہ ہو کا مطالبہ مان لیا ہے تو اب فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے کیونکہ الزام لگانے سے کوئی مجرم نہیں بن سکتا ۔محمد علی نے اس حوالے سے بتایا کہ ملک میں سیاسی قیادت کا فقدان ہے اور ملک میں ہر وقت غیر یقینی صورتحال ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک ترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہے جس کی ساری زمہ داری ہماری سیاسی قیادت پر آتی ہے۔پانامہ لیکس کے بعد خیبر لیکس کی خبروں نے بھی خیبر پختونخواہ کی سیاسی ماحول کو کافی گرما گرم کردیا ہے۔اور خیبر بینک کے سرکاری زمہ داروں کیطرف سے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ کیخلاف اشتھار نے صوبائی حکومت اور خصوصاحکومتی اتحادی جماعت ،جماعت اسلامی کوجوابی وضاحتی اخباری اشتہار شائع کرنے پر مجبور کردیا ۔اس حوالے سے امتیاز علی کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ کا وزارت سنبھالنے کے بعد افسر شاہی کیطرف سے بے اختیار رکھنے کی کوشش رکھی گئی جس کیوجہ سے ایک موقع پر وزیر اعلی پرویز خٹک کو مداخلت بھی کرنا پڑی لیکن وقتی طور پر معاملہ تو ٹل گیا تھا لیکن آخر کار لاوہ پھٹ گیا اور بات خیبر لیکس تک پہنچ گئی اس حوالے سے شاہ وزیر خان کا کہنا تھا کہ مذکورہ اشتھار جماعت اسلامی کی کرپشن فری پاکستان مہم کو نقصان پہنچنے کی ایک ناکام کوشش ہے اور اب چونکہ سینئر وزیر سکندر شیرپاو جو کہ خیبر بینک کے معاملے میں تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ ہے نے تحقیقات مکمل کرلی ہے اور امکان ہے کہ ائندہ ایک دو دن میں باضابطہ طور پر اس کا اعلان کرینگے ۔

 

مزید : پشاورصفحہ آخر