عزیر بلوچ کا 197 افراد کے قتل کا اعتراف، غیر قانونی کاموں سے حاصل رقم بیرون ملک بھیجتا رہا: جے آئی ٹی

عزیر بلوچ کا 197 افراد کے قتل کا اعتراف، غیر قانونی کاموں سے حاصل رقم بیرون ملک ...
عزیر بلوچ کا 197 افراد کے قتل کا اعتراف، غیر قانونی کاموں سے حاصل رقم بیرون ملک بھیجتا رہا: جے آئی ٹی

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کے سامنے تفتیش میں انکشافات کرتے ہوئے شیرشاہ کباڑی مارکیٹ کے تاجروں ، پولیس اہلکاروں ، ارشد پپو کے قتل سمیت197 قتل کی وارداتوںاور گینگ وار، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان سے حاصل رقم بیرون ملک بھجوانے کا اعتراف کرلیا ہے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی ) کے سامنے دوران تفتیش لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے بالواسطہ یا بلاواسطہ 197 قتل کی وارداتوں کا اعتراف کرلیا ہے ۔ اس نے شیرشاہ کباڑی مارکیٹ کے تاجروں کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ 18 اکتوبر 2010 کو بھتہ نہ دینے پر 12 تاجروں کو فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ ڈالمیا کے حاجی اسلم اوراس کے 5 بیٹوں ، ڈی آئی جی ساؤتھ کی سپیشل ٹیم کے اہلکار ہیڈ کانسٹیبل شجاع، ارشدپپوسمیت 3افرادکے اغوااور قتل کی واردات کروائی۔ عزیر بلوچ نے بتایا کہ ارشد پپو اور اس کے ساتھیوں کے اغوا کی واردات کیلئے اپنی 2 گاڑیاں فراہم کیں جبکہ اغوا اور قتل کیلئے کلری تھانے کی ایک پولیس موبائل بھی استعمال کی گئی۔

عزیر بلوچ نے مزید انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ سعید جان بلوچ کو فشرمین کو آپریٹو سوسائٹی کا چیئرمین لگوایا جو ماہانہ ایک کروڑ روپے بھتہ فراہم کرتا تھا ۔ اس نے سابق ٹاو¿ن ایڈمنسٹریٹرلیاری محمدرئیس سے قریبی تعلقات کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ہرٹھیکے میں سے محمدرئیس 20 فیصد رقم فراہم کرتا تھا جبکہ گینگ وار، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان سے حاصل رقم بیرون ملک بھی بھجوائی گئی۔

مزید : کراچی