مقدس پانی میں ڈبکی کی اجازت نہ ملنے پرسادھو خاتون قبر میں جابیٹھیں

مقدس پانی میں ڈبکی کی اجازت نہ ملنے پرسادھو خاتون قبر میں جابیٹھیں
مقدس پانی میں ڈبکی کی اجازت نہ ملنے پرسادھو خاتون قبر میں جابیٹھیں

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں جاری کمبھ میلے میں خاتون سادھو مقدس پانی میں ڈبکی لگانے کی اجازت نہ ملنے پر زندہ درگور ہونے کیلئے احتجاجا ًقبر میں جا بیٹھیں۔جہاں سے پولیس نے انہیں باہر نکالا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں ایک خاتون سادھو یا مذہبی رہنما نے قبر کے اندر بیٹھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ان کا احتجاج اس بات پر تھا کہ انہیں ان کے گروہ کے ساتھ مقدس پانی میں ڈبکی لگانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا گروہ خواتین ارکان پر مشتمل ہے۔پری اکھاڑے کی بانی تریکال بھونتا دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع کے دوران مقدس پانی میں ڈبکی لگانا چاہتی تھیں۔

منگل کو اپنے احتجاج میں تریکال بھونتا ایک قبر نما گڑھے میں بیٹھ گئی اور یہ قبر ان کی ساتھ دیگر خواتین سادھوو¿ں نے کھودی تھی اور ان کے وہاں بیٹھنے کے بعد انھوں نے تریکال بھونتا پر پھول کی پتیاں اور مٹی پھینکنا شروع کیا۔

انڈیا میں وسیع طور پر 13 اکھاڑوں کو مقبولیت حاصل ہے اور یہ سارے کے سارے مردوں کے زیر انتظام ہیں اور ان میں سے بہت سے اکھاڑے تمام خواتین یا پری اکھاڑے کے خلاف ہیں۔ہندوو¿ں کے مذہبی مقامات پر مردوں اور خواتین میں مساوات متنازع معاملہ ہے۔یہ معاملہ اس وقت ختم ہوا جب پولیس نے اور مقامی اہلکاروں نے انھیں وہاں سے ہٹایا۔

بی بی سی کے مطابق تریکال بھونتا نے سنہ 2000 میں اپنے اکھاڑے کی بنیاد ڈالی تھی جس میں دنیا کو ترک کردینے والی اور گھومنے والی خواتین سادھو شامل ہوئیں اور انھیں ترک دنیا کے سبب عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ خواتین پر مبنی سادھوو¿ں کا پہلا گروہ ہے۔

مزید : بین الاقوامی