داعش کی حکومت میں زندگی کیسی ہے؟ کئی ماہ بعد بیوی نے کیا پیغام بھیجا تو فوراً واپسی کا فیصلہ کرلیا؟ سابق کارکن نے پہلی مرتبہ ایسی تفصیلات بیان کردیں کہ دنیا دنگ رہ گئی

داعش کی حکومت میں زندگی کیسی ہے؟ کئی ماہ بعد بیوی نے کیا پیغام بھیجا تو فوراً ...
داعش کی حکومت میں زندگی کیسی ہے؟ کئی ماہ بعد بیوی نے کیا پیغام بھیجا تو فوراً واپسی کا فیصلہ کرلیا؟ سابق کارکن نے پہلی مرتبہ ایسی تفصیلات بیان کردیں کہ دنیا دنگ رہ گئی

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) جذبات کی رو میں بہہ کر شدت پسندی کی طرف مائل ہونے اور شدت پسند تنظیموں کا حصہ بن جانے والے نوجوانوں کو بالآخر احساس ہو جاتا ہے کہ وہ کس دلدل میں اتر گئے ہیں، مگر عموماً تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اردن سے تعلق رکھنے والا 38 سالہ شخص ابوعلی اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ وہ داعش جیسی تنظیم میں شامل ہوا لیکن پھر دنیا کو اپنی وحشت ناک کہانی سنانے کے لئے لوٹ بھی آیا۔

مصنف رابرٹ ورتھ کی کتاب ”اے ریج فار آرڈر (A Rage for Order) میں شائع ہونے والی اس داستان کا آغاز جنوری 2015ءسے ہوتا ہے، جب ابوعلی ترکی کی سرحد پار کرکے شام پہنچا اور داعش میں شامل ہوگیا۔ ابوعلی کا کہنا ہے کہ وہ ترک سرحد پر ایک خاکروب کی مدد سے سرحدی جنگلے میں موجود سوراخ کے زریعے شام میں داخل ہوا اور شامی پہاڑیوں کی طرف دوڑنا شروع کردیا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد ایک گاڑی نمودار ہوئی، جس میں موجود داعش کے ایک جنگجو نے ابوعلی کو ایک قریبی تربیتی مرکز پر پہنچایا۔

تنخواہوں کی عدم ادائیگی،داعش میں غیر ملکی جنگجوﺅں کی شمولیت میں کمی ہوگئی

یہاں کئی اور ملکوں کے باشندے بھی موجود تھے جو داعش میں شمولیت کے لئے آئے تھے۔ ابوعلی کا کہنا ہے کہ یہ جگہ ایک ائیرپورٹ جیسی تھی کہ جہاں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور کئی یورپی ممالک کے باشندے بھی موجود تھے۔ کچھ عرصہ یہاں رکھنے کے بعد ان افراد کو ایک تربیتی مرکز پہنچایا گیا جہاں ان کی ابتدائی ٹریننگ کا آغاز کیا گیا۔ اس مرکز میں یہ لوگ صبح ہونے سے قبل ورزش کیا کرتے تھے اور بعدازاں انہیں مذہبی و نظریاتی تعلیم دی جاتی تھی۔

اس تربیت کے دوران ہی ایک دن کمانڈر نے بتایا کہ وہ زیر تربیت لوگوں کے لئے بہت خاص چیز لایا ہے۔ سب لوگوں کو ایک غار میں پتھریلے فرش پر بٹھایا گیا اور پھر کمانڈر نے ایک پروجیکٹر آن کیا اور غار کی دیوار پر ایک ویڈیو چلنا شروع ہوگئی۔ اس ویڈیو میں اردن کا پائلٹ معاذ القساسبہ پنجرے میں کھڑا نظر آرہا تھا۔ اگلے ہی لمحے آگ کی ایک لکیر اس کی طرف بڑھی اور پھر وہ شعلوں میں لپٹ گیا۔ کمانڈر بتارہاتھا کہ اس پائلٹ نے داعش پر بمباری کی اور جب اس کا جہاز شام میں گر کر تباہ ہوا تو اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ کمانڈر کا کہنا تھا کہ اس پائلٹ کو جلا کر مارنا بالکل جائز تھا۔

ابو علی کا تعلق بھی اردن سے تھا اور اس کے سب ساتھی یہ جانتے تھے۔ سب کی نظریں اس کے چہرے پر تھیں اور وہ شدید کشمکش میں مبتلا تھا۔ اسے بچپن سے ہی سکھایا گیا تھا کہ اسلام دشمن کو بھی جلانے کی اجازت نہیںد یتا، اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اس کے ہم وطن مسلمان کو شعلوں میں جلانا کس طرح جائز ہوسکتا تھا۔ کمانڈر نے بھی اس کی کیفیت کو محسوس کرلیا اور اسے باہر لیجانے کا حکم دیا۔ بعدازاں وہ خود تفتیش کے لئے آیا لیکن ابوعلی کے جوابات سے مطمئن ہوگیا۔

دو ہفتے کی تربیت مکمل ہونے کے بعد ابوعلی کو دیگر جنگجوﺅں کے ساتھ عراقی دارالحکومت بغداد کے قریب لڑنے کے لئے بھیج دیا گیا۔ یہاں ایک بار پھر ابوعلی یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جنگجو اپنے مردہ اور زخمی ساتھیوں کو میدان جنگ میں چھوڑ کر فرار ہورہے تھے۔ اس نے ایک بار پھر اپنے کمانڈر سے سوال کیا کہ کیا مذہب اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ زخمیوں اور مرنے والوں کو چھوڑ کر فرار ہوجائیں۔ ابوعلی کی متزلزل کیفیت کے باعث اسے واپس بھیج دیا گیا اور اس بات کا امکان تھا کہ اسے سخت سزا دی جائے گی۔

انہی دنوں اس کی بیوی نے واٹس ایپ کے ذریعے اسے ایک پیغام بھیجا، جس کی عبارت کچھ یوں تھی، ”جس چیز سے محبت کرتے ہو اسے جانے دو۔ اگر وہ نہ لوٹے تو تمہاری نہ تھی، اور اگر لوٹ آئے تو پھر کبھی تم سے جدا نہ ہوگی۔“ وہ شام آنے سے پہلے بیوی سے علیحدگی اختیار کر چکا تھا، مگر اب اس کی حالت بہت نازک ہو چکی تھی۔ بیوی کا پیغام دیکھتے ہی دل ایسا بے قرار ہوا کہ واپس جانے کے لئے تڑپنے لگا۔

وہ مراکش سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجو کو جانتا تھا جو ترکی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ ابوعلی نے واٹس ایپ کے ذریعے اس سے رابطہ کیا، اور اس کی خوش قسمتی تھی کہ مراکشی جنگجو کے شام میں موجود ساتھیوں نے اپنی جان پر کھیل کر اسے فرار کروایا اور سرحد پار ترکی پہنچا دیا۔ ابو علی کہتا ہے کہ اسے اب تک یقین نہیں آ رہاکہ وہ اس بھیانک خواب سے باہر آ چکا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...