’ہم اسرائیل میں سفارتخانہ کھول لیں گے اگر۔۔۔‘ سعودی عرب سے بڑا اعلان ہوگیا

’ہم اسرائیل میں سفارتخانہ کھول لیں گے اگر۔۔۔‘ سعودی عرب سے بڑا اعلان ہوگیا
’ہم اسرائیل میں سفارتخانہ کھول لیں گے اگر۔۔۔‘ سعودی عرب سے بڑا اعلان ہوگیا

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب اسرائیل تعلقات کی تلخی اور کشیدگی ایک طویل تاریخ رکھتی ہے، مگر اس کے باوجود ایک انتہائی اہم سعودی شخصیت کی طرف سے اسرائیل میں سفارتخانہ کھولنے کی بات سامنے آ گئی ہے۔ نیوز سائٹ یروشلم پوسٹ کے مطابق سعودی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل انوار اشقی نے الجزیرہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم 2002ءمیں دی گئی عرب تجاویز کو مان لیں تو سعودی عرب اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ قائم کردے گا۔

ان سے انٹرویو کے دوران سوال کیا گیا تھا کہ سعودی عرب اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ کب کھولے گا، جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا، ”آپ مسٹر نیتن یاہو سے پوچھ سکتے ہیں۔ اگر وہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کو تمام حقوق دیتے ہیں تو سعودی عرب بھی تل ابیب میں سفارتخانہ بنانے کا آغاز کردے گا۔“ ان کی بات کے جواب میں اسرائیل کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سعودی عرب اپنی معیشت تیل کے بجائے صنعت و تجارت پر استوار کریگا، ویژن 2030 کا اعلان

2002ءعرب امن اقدام میں اسرائیل اور فلسطین کے لئے دو علیحدہ ریاستوں کا تصور دیتے ہوئے تجویز کیا گیا تھا کہ اسرائیل 1967ءسے پہلے کی صورتحال کے مطابق اپنی افواج واپس لے جائے، جبکہ یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دیا جائے۔ فلسطینیوں کے اپنی اسرائیلی زمینوں کی طرف لوٹنے کے حق کی بھی بات کی گئی، جو کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 194ءکے مطابق ہے۔

تہتر سالہ انوار اشقی جدہ میں قائم مڈل ایسٹ سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ لیگل سٹڈیز کے چیئرمین ہیں اور امریکا میں تعینات سعودی سفیر کے سابقہ مشیر بھی رہے ہیں۔ انہیں اعلیٰ سعودی حکام کے قریب خیال کیا جاتا ہے، اور اسی بناءپر ان کے بیانات کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔

مزید : عرب دنیا