مایوس عنا صر افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں، الزام لگانے والوں کے ساتھ ’’ٹی اوآرز‘‘پرکوئی مک مکانہیں ہوگا:عرفان صدیقی

مایوس عنا صر افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں، الزام لگانے والوں کے ساتھ ’’ٹی ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کے معاون خصوصی اور سینئر کالم نگارعرفان صدیقی نے کہاہے کہ مایوس عنا صر ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں ، الزام لگانے والوں کے ساتھ کمیشن کے ٹی اوآرزپرکوئی مک مکانہیں ہوگا،میڈیاکے کچھ عناصرلوگوں کی پگڑیاں اچھالتے اورایک مخصوص طبقہ ضابطہ اخلاق کی پیروی نہیں کرتا،الزام تراشی کرنے والوں کارویہ معاشی ترقی سے متصادم ہے ۔

’’پی ٹی وی نیوز ‘‘کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ پا نامہ لیکس میں وزیراعظم کانام شامل نہیں،انہوں نے اخلاقی ذمہ داری سمجھ کرخودکارروائی کی، دھرنے میں وزیراعظم کی ذات کونشانہ بنایاگیاتھا،جس پرموجودہ حکومت نے انتخابی کمیشن کے کٹہرے میں آکرایک مثال قائم کی تھی، اب بھی پانامہ لیکس پروزیراعظم کوہی نشانہ بنایاجارہاہے لیکن اب بھی انہوں نے سپریم کورٹ کوخط لکھ کرایک اورمثال قائم کردی ہے۔عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ الزام تراشی کرنے والے خیبرپختونخواہ میں اپنی کارکردگی دکھائیں،ان پر بھی کچھ اخلاقی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کیونکہ ان کے ’’دست و بازو ‘‘ کے نام بھی پانامہ لیکس میں شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت میں سنجیدگی نظرنہیں آتی ،تسنیم نورانی ،اکبرایس بابرکے ساتھ جوسلوک ہواوہ سب نے دیکھا،تحریک انصاف کے جلسے میں خواتین سے جونارواسلوک کیاگیاوہ کہیں بھی کسی اورجگہ نہیں دیکھا۔عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ قرضوں اورمنی لانڈرنگ کے معاملات پرکیوں تحقیقات نہ کی جائیں ،احتساب سب کاہوگا،پانامہ لیکس کی تحقیقاتی کمیشن میں تمام اداروں کوتعاون کاپابندکیاگیاہے ،الزام تراشی کرنے والوں کے ساتھ کمیشن کے ٹی اوآرزپرکوئی مک مکانہیں ہوگا۔عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی عوامی رابطہ مہم کامقصدعوام تک سچائی اورحقائق پہنچاناہے اور وہ ان عوامی جلسوں میں عوام کومثبت پیغام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ک چین اقتصادی راہداری کے خلاف بیرونی سازشیں ہورہی ہیں ،ترقیاتی کام نہ ہونے سے ملک کونقصان ہوگا، میڈیاکے کچھ عناصرلوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہیں ،میڈیانے خودضابطہ اخلاق پراتفاق کیاتھااس ضابطہ اخلاق پرعملدرآمدنہ ہوناافسوسناک ہے ،ایسے میڈیاوالے بھی ہیں جوضابطہ اخلاق کامکمل احترام کرتے ہیں ،اورکچھ ایسے بھی ہیں جوکسی ضابطے کی پیروی نہیں کرتے ۔

مزید : اسلام آباد

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...