وزیراعظم سے استعفے کا غلط مطالبہ

وزیراعظم سے استعفے کا غلط مطالبہ
 وزیراعظم سے استعفے کا غلط مطالبہ

  



20اپریل2017ء کو سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس مقدمے کا فیصلہ سنایا تو فریقین نے مٹھائی تقسیم کی دو ججوں نے کہا کہ نواز شریف کو نااہل قرار دینا چاہئے،جبکہ تین ججوں نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا،جس سے نواز شریف کی کرسی بچ گئی ۔ ملک میں لوگ فیصلے کی اپنی اپنی تشریح کر رہے ہیں سچ تویہ ہے کہ پورا فیصلہ کسی نے نہیں پڑھا اور نہ سمجھا۔ سینئر جج آصف سعیدکھوسہ نے عدالت میں درست کہا تھا کہ کوئی جذباتی نہ ہو،بلکہ پہلے فیصلے کو پڑھے پھر کوئی رائے قائم کرے۔سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے خلاف ایک مہم ہے۔مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ وکلاء کے گروپوں نے اپنی اپنی مہم چلائی ہوئی ہے۔پیپلز پارٹی نے پانامہ لیکس پر تحریک انصاف کا ساتھ نہیں دیا تھا اب آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا اور نواز شریف چورکا نعرہ بھی لگا دیا چودھری نثار علی خان نے مزیدار بات کی ہے کہ قیامت کی نشانی ہے کہ آصف علی زرداری کرپشن کے خلاف بولے۔

بہرحال حکومت اور تحریک انصاف نے فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فیصلے کی اہم بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے(جے آئی ٹی) مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا ہے اور کہا کہ 13سوالات کے جوابات جاننے کے لئے تحقیقات کی ضرورت ہے، کیونکہ ادارے لاتعلق ہو جائیں تو دوسری جانب دیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے فیصلے میں لکھا کہ بڑی تعداد میں غیر مصدقہ کاغذات عدالت میں پیش کئے گئے اور اس صورتِ حال میں ان کاغذات کی صحت پر سوالیہ نشان اٹھانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ غیر متنازعہ شواہد کی غیر موجودگی میں عدالت آئین کے آرٹیکل(3) 183 کی رو سے فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

اس طرح سپریم کورٹ نے قراردیاکہ آئین کا آرٹیکل 62اور63 بتاتا ہے کہ کوئی بھی شخص رکن پارلیمنٹ اور ان کے بچوں کے اثاثوں کی بابت نہیں پوچھ سکتا خواہ اس کے اثاثے اس کے ذرائع آمدن سے زائد ہی کیوں نہ ہوں۔آرڈیننس کا سیکشن (A) 9 5ان سے ان کے اور ان کے خاندان کے اثاثہ جات کے حوالے سے پوچھ سکتا ہے اگر وہ ذرائع آمدن کے تناسب سے زائد ہوں،لیکن آئین کے 184 (3)کے تحت ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی ہے اورکم ازکم اس سٹیج پر وزیراعظم کو ڈس کوالیفائی نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج نے اپنے فیصلے میں بچوں کے اثاثے ظاہرنہ کرنے پر لکھا کہ قانون کی ان شقوں کے تحت عوامی عہدہ سنبھالے ہوئے شخص کے خلاف الزامات کی روشنی میں تحقیقات کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ نے آئین اورقانون کے مطابق فیصلہ دیاہے، جہاں تک تحقیقات کاتعلق ہے تواس میں کون سی بات غلط ہے۔قانون کے تحت تحقیقات ضروری ہیں تو اس پر اعتراض کیوں؟جہاں تک وزیراعظم کے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی بات ہے تو اس میں کون سی بُرائی ہے۔کیا کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ اپنے ہی تقررکردہ افسران نے حکمرانوں کے خلاف رائے نہیں دی۔ جمہوریت میں تو ادارے آزاد ہیں۔اسرائیل کے وزیراعظم کے خلاف اس کے اپنے ہی نامزد اٹارنی جنرل نے تحقیقات کرنے کا حکم دیا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو طویل عرصہ حکومت کرنے والے دوسرے وزیراعظم ہیں ان پر دو علیحدہ علیحدہ مقدمات میں تحقیقات ہوئیں اور مزیدار بات یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم ایک تھانیدار کے سامنے پیش ہوا اپوزیشن نے سخت تنقید کی، لیکن اٹارنی جنرل نے ٹھوس ثبوت کے بغیر تحقیقات شروع کرنے سے انکارکر دیا۔

وزیراعظم نواز شریف تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے تو قیامت نہیں آ جائے گی۔جمہوریت آئین اورقانون کی فتح ہو گی۔ ادارے مضبوط ہوں گے۔قانون کی پاسداری کا علم بلند ہو گا، جہاں تک میاں نواز شریف کے مستعفی ہونے کے مطالبے کا تعلق ہے اس کا کوئی جواز نہیں۔اپوزیشن پارٹیاں اس مطالبے پر اکٹھی ہو رہی ہیں اسمبلیوں میں قراردادیں منظور ہو رہی ہیں اور لاہور ہائی کورٹ بار کے عہدیداروں نے بھی مطالبہ کیا ہے، جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وزیراعظم کو کرسی خالی کرنے کے لئے نہیں کہا تو پھر سیاست دان اور وکلاء کیوں ایسا مطالبہ کر رہے ہیں کچھ لوگ یوسف رضا گیلانی کے خلاف نواز شریف کے مطالبے کا ذکر کرتے ہیں تو بتانا چاہتا ہوں کہ نواز شریف نے مطالبہ وزیراعظم گیلانی کو سزا ہونے کے بعد کیا تھا اور کہا تھا کہ اپیل کے فیصلے تک مستعفی ہو جائے۔ پانامہ لیکس میں سپریم کورٹ نے کوئی سزا نہیں دی اِس لئے دونوں مقدمات میں کوئی مماثلت نہیں۔ اگر مطالبہ اس لئے کیا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف کرسی پر ہوتے ہوئے تحقیقات پر اثر انداز ہوں گے تو پھر میں پوچھتاہوں کہ نواز شریف کے علیحدہ ہونے کے بعد حکومت کسی اور کے پاس چلی جائے گی؟قومی اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کی اکثریت ہے اگر وزیراعظم نواز شریف نہیں ہو گا تو ان کا نامزد کردہ رکن قومی اسمبلی وزیراعظم بن جائے گا۔سوال یہ ہے کہ کیا وہ شخص اپنے لیڈرکے لئے دباؤ نہیں ڈال سکتا؟ سپریم کورٹ نے جہاں جے آئی ٹی بنائی ہے وہاں اس کی نگرانی بھی سپریم کورٹ نے ہی کرنی ہے، جس پر کوئی حکمران دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ہمیں فیئر ٹرائل کا موقع دینا چاہئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ مطالبے کرتے کرتے گالی کی زبان شروع ہو گئی ہے ۔پیپلز پارٹی نے اپنے آپ کو اپوزیشن کی بڑی پارٹی ثابت کرنے کے لئے بڑی بڑی باتیں اور بڑے بڑے الزامات لگانے شروع کر دیئے ہیں۔سندھ اسمبلی میں مستعفی ہونے کی قرارداد بھی پیش کر دی ہے۔

مسلم لیگ(ن) کے عابد شیر علی کہاں پیچھے رہنے والے تھے انہوں نے جواباً زبان درازی ،الزامات لگانے اور غلط زبان استعمال کرنے کی حد کر دی، جس کی نہ ضرورت تھی نہ اس کا کوئی جواز تھا۔میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو عابد شیر علی جیسے وزیروں کو لگام ڈالنی چاہئے۔گندی سیاست شروع نہیں کرنی چاہئے اور سیاست کو اخلاق سے نیچے نہیں آنا چاہئے اپوزیشن پارٹیاں ضرور متحدہ محاز بنائیں یہ ان کا حق ہے، لیکن کس نقطے پر؟ کرپشن کے خلاف یا وزیراعظم کے خلاف؟ پاکستان کا اصل مسئلہ توکرپشن ہے چاہے وہ نواز شریف کرے یا زرداری۔اس سے بڑی بات اورکیا ہو سکتی ہے کہ وزیراعظم کے خاندان کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ چلا اور اس سے بڑھ کر اورکیا بات ہو سکتی ہے کہ وزیراعظم کے خلاف 6 رکنی تحقیقاتی ٹیم 13سوالات پر تحقیقات کرے گی۔ وزیراعظم اور ان کے بچے پیش ہوں گے۔ اگر وزیراعظم مستعفی ہو جائیں تو پھرکوئی مزیدار اور بڑی بات نہیں ہو گی۔سابق وزیراعظم اور سابق صدرِ پاکستان میں کئی بار تحقیقاتی ٹیموں کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔اِس لئے اب توتاریخ لکھی جا رہی ہے مستعفی ہونے کے مطالبے کو واپس لیں اور مٹھائی اس بات پر تقسیم کریں کہ وزیراعظم پیش ہوں گے ۔یہ بھی یاد رکھیں کہ اس سے وزیراعظم کے عہدے کی کوئی توہین نہیں ہو گی۔تحقیقات ہونے دیں، جس کے مکمل ہونے کے بعد عدالت ہی اہلیت اور نااہلی پر فیصلہ کرے گی۔عدالتیں حقائق پر فیصلہ کرتی ہیں نہ کہ مفروضوں پر۔مخالفت برائے مخالفت کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی اس سے جمہوریت مضبوط ہو گی۔ اسرائیل کے ہم خلاف ہیں وہاں تو اپوزیشن نے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہیں کیا لہٰذا ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے۔چودھری شجاعت حسین کے گھر چار جماعتی اتحادکی قرارداد بہت اچھی ہے کہ جے آئی ٹی کی 15روزہ رپورٹ کو پبلک کیا جانا چاہیے۔تھنک ٹینکNipeکے کوارڈینیٹر طاہر خلیق کا مطالبہ بھی درست ہے کہ سپریم کورٹ سرکاری طور پر پانامہ لیکس کے مقدمے کا اُردو ترجمہ جاری کرے تاکہ عام لوگوں کو فیصلے سے اچھی طرح آگاہی ہو سکے۔’’ کھیلیں گے اور نہ کھیلنے دیں گے‘‘ کی پالیسی مُلک وقوم اور جمہوریت کے لئے نیک شگون نہیں۔

مزید : کالم