رشکِ وطن۔۔۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان

رشکِ وطن۔۔۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان
 رشکِ وطن۔۔۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان

  



بزرگوں کی کہاوت ہے کہ بڑا آدمی بنایا نہیں جاتا، بلکہ رب العزت اسے پیدائشی طور پر بنا بنایا ہی بھیجتا ہے تاہم اس کے ظہور کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور جب خداوندِ کریم کو مقصود ہوتا ہے تو وہ اسے ظاہر کر دیتا ہے ہمارے ممدوح جب محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر بھی یہ بات من وعن منطبق ہوتی ہے۔ 27اپریل 1936ء میں بھوپال میں پیدا ہونے والے عبدالقدیر خان 14اگست 1952ء میں ایک لوہے کے ٹرنک اور ننگے پاؤں کے ساتھ کھوکھرا پار کی سرحد سے پاکستان آئے اور چند دن کھلے آسمان کے نیچے انہوں نے کھوکھرا پار میں ہی گزارے کہ سفر کے لئے کوئی سواری میسرنہیں تھی، وہ کہتے ہیں کہ تکلیف اور پریشانی ضرور تھی، لیکن پاکستان کا یوم آزادی ہونے کے باعث ہر طرف سبز ہلالی پرچم لہراتے دیکھ کر مَیں اپنی تمام تر تکالیف کو بھول کر خوشی اور انبساط میں سرشاررہا۔ جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان سرحد عبور کر رہے تھے تو وہاں تعینات ایک بھارتی سکھ سپاہی نے ان سے ان کا پسندیدہ پارکر کا قلم طنزاً یہ کہہ کر لے لیا کہ آپ پاکستان جا کر دوسرا لے لینا تو ڈاکٹر صاحب نے برجستہ جواب دیا قلم تو کیا ،مَیں پاکستان جا کر بہت کچھ کروں گا، جس کا آپ کو اگر آپ زندہ رہے تو علم ہوجائے گا اور پھر ایک مال گاڑی آئی، جس پر بیٹھ کر کراچی پہنچ گیا۔ آپ نے میٹرک تک تعلیم بھوپال میں ہی حاصل کی۔بعدازاں باقی تعلیم کراچی میں،جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لئے وہ ہالینڈ موجودہ (نیدر لینڈ) چلے گئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہالینڈ کے لئے ان کے پاس صرف جانے کا ٹکٹ تھا واپسی کا نہیں ۔ اگر خدانخواستہ انہیں نیدر لینڈ میں داخلہ نہ ملتا تو واپسی ان کے لئے ایک دشوار مرحلہ ہوتا۔ تاہم اُنہیں وہاں داخلہ مل گیا۔ نیدرلینڈ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوجوان عبدالقدیر خان وہاں کے ایک سائنسی ادارے سے منسلک ہوگئے۔

مئی 1974ء میں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کر کے عالمی خصوصاً برصغیر کے امن کو سنگین خطرات سے دوچار کردیا۔ اُس وقت کے ایک بھارتی وزیر ایل کے ایڈوانی نے پاکستانی قوم کو للکارتے ہوئے کہا کہ بھارت اب ایک ایٹمی قوت ہے اور پاکستانی قوم اب ہمارے سامنے سر جھکا کر چلنا سیکھے، جس سے واضح طور پر پاکستان کو یہ پیغام دیا گیا کہ بھارت نے ایٹم بم اپنے دفاع کے لئے نہیں، بلکہ اسے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لئے بنایا ہے۔ ظاہر ہے کہ امن پسند پاکستانی قوم ایٹم بم کی تباہ کاریوں سے بخوبی آشنا تھی، اور اس کے لئے یہ ایک لمحہ فکریہ تھا اور وہ بار گاہِ خدا وندی سے کسی معجزہ کے ملتجی تھے اور پھر معجزہ ہوہی گیا کہ جذبہ حب الوطنی سے سرشار ایک نوجوان نے جو اس وقت نیدر لینڈ کے ایک سائنسی ادارے سے منسلک تھے، نے اس وقت کے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو ایک مراسلہ تحریر کیا کہ مَیں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں ایک اہم ، موثراور نتیجہ خیز کردار ادا کر سکتا ہوں ۔ یہ نوجوان محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے۔ نیدر لینڈ جیسے خوشحال مُلک کے سائنسی ادارے سے وابستگی کے باعث وہ زندگی کی تمام تر سہولیات سے لطف اندوز ہورہے تھے، لیکن انہوں نے وطنِ عزیز کے تحفظ اور سلامتی کے لئے سب کچھ قربان کردیا اور خود کو دفاعِ پاکستان کے لئے وقف کر دیا۔ اُن کی اِن قربانیوں میں اُن کی بیگم صاحبہ جن کا تعلق نیدر لینڈ سے ہے اور اُن کی دو صاحبزادیوں نے بھی اُن کا بھر پور ساتھ دیا او ر ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ ہماری پروا کئے بغیر پاکستان اور پاکستانی قوم کے لئے جو کچھ کررہے ہیں وہ کہیں اہم اور بلند ہے۔آپ اپنا کام جاری رکھیں اور پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے رات کو رات اور دِن کو دِن نہیں سمجھا اور شبانہ روز پاکستان کو ایک ایٹمی قوت بنانے میں مصروف ہوگئے۔

اِس مرحلے پر اٹامک انرجی کمیشن میں ان کے خلاف کچھ اندرونی سازشیں شروع ہو گئیں ،جن کا انہوں نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ذکر کیا تو بھٹو صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو کہوٹہ میں ایک الگ ادارہ بنانے کو کہا اور خود ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا۔ا س کے بعد ڈاکٹر صاحب نے سود و زیاں سے بے نیاز ہوکر شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کے خواب اور اس کی تعبیر کو تکمیل تک پہنچانے والے بابائے قوم قائد اعظم محمدعلی جناح ؒ کے پاکستان کو ایک ناقابلِ تسخیر ایٹمی قوت بنا دیا۔1976ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے ایٹم بم پر کام شروع کیا اور چھ سات سال کے مختصر عرصہ میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا 1982ء میں بم تیار ہو گیا تھا، جس کا کامیاب تجربہ 28مئی 1998ء میں کیا گیا،جس سے نہ صرف پاکستانی قوم، بلکہ افواجِ پاکستان کا مورال بھی بلند ہوا اور دُنیا کے سات ایٹمی ممالک میں پاکستان کا نام بھی شامل ہو گیا۔پاکستان کے ایٹمی سفر میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے علاوہ سابق صدور غلام اسحاق خان، ضیاء الحق اور موجودہ وزیراعظم میاں نوازشریف اور افواجِ پاکستان نے بھی نمایاں اور موثر کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جن نامساعد اور مشکل اور حالات میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی جدوجہد ، محنت اور کوششیں کیں وہ انتہائی قابلِ قدر ہیں اور یہ ان کا پاکستانی قوم پر احسانِ عظیم ہے کہ آج ہمارا بڑے سے بڑا دشمن بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک تاریخی جملہ کہا تھا ’’ ہم ایک ہزار سال تک گھاس کھائیں گے، مگر پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر دکھائیں گے‘‘ اور محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اسے سچ کر دکھایا اور پاکستان کو ناقابلِ شکست بنا دیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی اس فقید المثال کامیابی کے بعد محترمہ بے نظر بھٹو نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے میزائل بنانے کی بات کی تو خان صاحب نے پاکستان کا پہلا ’’غوری میزائل‘‘ تخلیق کیا،جس کی رینج 1500 کلو میٹر ہے،جس کا کامیاب تجریہ 8اپریل 1998ء میں کیا گیا اور اس میزائل کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رکھی گئی بنیادوں پر اب تک میزائلوں کے کئی کامیاب تجربے ہوچکے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کہتے ہیں مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ اسلام آباد میں ہوتے ہوئے میں کئی کئی دن اپنے گھر والوں تک کو نہیں مل سکتا تھا اور طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ،مَیں سب برداشت کرتا رہا، مگر پُرخلوص لگن کے ساتھ اپنے کام میں لگا رہا کیونکہ مَیں بھارتی وزیر ایل کے ایڈوانی کی گیڈر بھبھکی کا جلد سے جلد جواب دینا چاہتا تھا اور مَیں خداوندِ کریم کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے مُلک و قوم کے سامنے سرخرو کیا ۔میری یہ دلی خواہش ہے کہ مَیں سائنس، زراعت اورتوانائی کے شعبوں میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کروں اور مُلک کو ان شعبوں میں بھی خود کفیل بناؤں، مگر مَیں نہیں جانتا کہ حکمران کن قوتوں کے خوف سے مجھے ایسانہیں کرنے دے رہے ۔ آج بھی مَیں ملک و قوم کے لئے حاضر ہوں میں کسی عہدے اور مقام کا خواہشمندنہیں ہوں صرف اور صرف خلوص کی بنیاد پر اپنے مُلک اور قوم کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ مجھ سے اب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کی گئی میری 20فیصد صلاحیتوں سے استفادہ کیا گیا ہے کیا باقی 80فیصد صلاحتیں مَیں اپنے ساتھ قبر میں لے جاؤں گا۔؟

مزید : کالم