وکٹ تو گر چکی ہے

وکٹ تو گر چکی ہے
وکٹ تو گر چکی ہے

  

بہت سال پہلے کی بات ہے، ہمارے ایک دوست عمران خان کی محبت کے اسیر ہو گئے۔ یہ دوست ایک بڑے اخبار میں ملازم تھے، اچھی بھلی تنخواہ تھی۔۔۔ مگر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر عمران خان کے لاہور آفس میں جا بیٹھے، عمران خان ان دنوں مشہور تو اب سے بھی زیاد تھے مگر سیاسی طور پر ان کی جماعت ق لیگ سے بھی دو ہاتھ پیچھے تھی۔

ہمارے دوست نے اپنی صحافیانہ مہارت اور تعلقات کے بل بوتے پر روزانہ کی بنیاد پر خبریں شائع کرانی شروع کر دیں۔۔۔ انہی دنوں جنرل مشرف کو بھی ایک وزیراعظم کی تلاش تھی، افواہ عام تھی کہ وہ بطور وزیراعظم عمران خان کے سر پر ہاتھ رکھ سکتے ہیں۔ عمران خان کے علاوہ طاہر القادری بھی باقاعدہ وزیراعظم بنتے ہوئے نظر آتے تھے جبکہ مسلم لیگ ق والے بھی پوری طرح تیاریوں میں تھے، مگر مشرف کے ریفرنڈم کے دوران عمران خان اور طاہر القادری باقاعدہ ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے ہوئے اور ظاہر ہے کہ مسلم لیگ ق نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنوا لیا۔۔۔ مَیں جو واقعہ بتانے جا رہا ہوں، وہ انہی دنوں کا ہے۔ عمران خان نے ہمارے دوست کے مشورے پر میانوالی میں جلسوں کا اہتمام کیا۔۔۔ ہمارے دوست کئی دنوں تک جلسوں کے اہتمام میں مصروف رہے، دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے گاؤں میں بھی ایک جلسہ رکھ دیا، اچھا خاصا اہتمام کیا اور لوگوں کی ایک معقول تعداد بھی اکٹھی کر لی۔۔۔ عمران خان دیگر جلسے کرتے کرتے جب ہمارے دوست کے گاؤں پہنچے تو اچانک عمران خان نے ہمارے دوست کو کہا کہ سوری مَیں آپ کے جلسے میں نہیں آ سکتا کیونکہ مجھے اسلام آباد سے ایک ضروری فون آ گیا ہے۔

ہمارے دوست کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، انہوں نے عمران خان کی بہت منت کی اور کہا کہ مَیں گزشتہ پندرہ دنوں سے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے محنت کرتا رہا ہوں، علاقے میں میری اور میرے خاندان کی بھی عزت ہے، اب اس وقت جب کہ آپ میرے گھر یعنی جلسہ گاہ سے صرف پندرہ منٹ کے فاصلے پر ہیں اگر یہاں سے واپس چلے گئے تو میری بہت بے عزتی ہوگی۔

آپ مہربانی کریں جلسہ گاہ میں آ جائیں، لوگوں سے صرف سلام دعا کر لیں تو میری اور آپ کی سیاسی پوزیشن بہتر ہو جائے گی اور اگر آپ واپس چلے گئے تو مَیں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا، مگر عمران خان نے ان کی ایک نہ سنی اور راستے سے ہی واپس چلے گئے، ہمارے دوست کے پاس اب ایک ہی راستہ تھا کہ وہ بھی چپکے سے لاہور نکل جاتا لہٰذا وہ لاہور چلا گیا، مجھے جب اس نے یہ واقعہ سنایا تو مَیں نے بہت افسوس کا اظہار کیا اور پوچھا کہ اب تمہارا کیا ارادہ ہے۔ اس نے کہا مَیں اب زندگی بھر تحریک انصاف کی ’’خیر‘‘ نہیں مانگوں گا، وہ اب بھی یہ دن یاد کرکے خاصا افسردہ ہو جاتا ہے اور جواباً کوئی دوسری گفتگو چھیڑ دیتا ہے۔

اس طرح کے اور بھی لوگ موجود ہیں جو عمران خان کے اس طرح کے رویئے سے دلبرداشتہ ہوکر خاموش ہو چکے ہیں۔

گزشتہ روز لاہور کے کارکنوں اور شہریوں کے ساتھ بھی عمران خان نے ایسا ہی سلوک دھرایا، وہ لندن سے سیدھے لاہور تشریف لائے، مقامی قیادت نے پورے لاہور کی شاہراؤں کو چھوٹے بڑے پوسٹوں کے ساتھ بھر دیا۔۔۔ ضلعی انتظامیہ نے بھی ان کے ’’پروٹوکول‘‘ کے لئے پورا بندوبست کر رکھا تھا۔

پروگرام کے مطابق عمران خان نے پوری رات جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اہل لاہور کو مینار پاکستان کے جلسے میں شرکت کی دعوت دینی تھی۔۔۔ مگر جب وہ داتا دربار پہنچے تو اچانک انہوں نے اسلام آباد کی طرف اڑان بھرنے کا اعلان کر دیا۔

اخبار نویسوں نے جب اس اچانک فیصلے کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایک بہت بڑی وکٹ گرنے والی ہے مگر تادم تحریر ابھی تک اسلام آباد سے کسی بڑی وکٹ گرنے کی کوئی خبر نہیں آئی، البتہ وزیرخارجہ کے حوالے سے ابھی خبر آئی ہے کہ عدالت نے انہیں نااہل قرار دے دیا ہے۔ میرے خیال میں وزیر خارجہ کی نااہلی کوئی خبر نہیں تھی، یہ طے شدہ بات تھی کہ وہ نااہل ہو جائیں گے، کیونکہ ایسے ہی کیس میں سپریم کورٹ نے نوازشریف اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے رکھا ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیرخارجہ اہل قرار پاتے۔

سو یہ وکٹ تو عدالت نے گرائی ہے، اس میں عمران خان کا تو کوئی کمال نظر نہیں آتا۔۔۔ البتہ ایک اور ’’وکٹ‘‘ بھی گری ہے یا گرنے والی ہے۔ مَیں دانستہ اس ’’وکٹ‘‘ کے تفصیلی تذکرے سے گریز کر رہا ہوں۔ امید یہی ہے کہ اس کی تفصیل بھی آئندہ دو چار دنوں تک خود تحریک انصاف کے کوئی ترجمان بتاتے نظر آئیں گے، البتہ بنی گالہ میں ’’کتوں‘‘ کی واپسی کے حوالے سے تو میڈیا لگاتار بتا رہا ہے، کتے سے مجھے یاد آیا کہ عمران خان نے ندیم افضل چن کے گاؤں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، ندیم افضل چن مَیں نے کتے رکھے ہوئے ہیں اور وہ میرے وفادار بھی ہیں اور ساری عمر میرے وفادار رہیں گے، مگر انسان کا معاملہ مختلف ہے اگر کسی دن آپ کو لگے کہ مَیں ’’راہ حق‘‘ سے بھٹک گیا ہوں تو مجھ سے وفاداری چھوڑ دینا۔۔۔ میرے خیال میں عمران خان کو اس موقع پر ’’راہ حق‘‘ پر ہونے کے اوصاف بھی بتا دینا چاہئے تھے، کہ راہ حق پر ہونا کیا ہوتا ہے، کیا جب انہوں نے سینیٹ کے انتخاب میں پی پی پی کے ساتھ اتحاد کیا تو وہ ’’راہ حق‘‘ پر تھے؟

کیا جب انہوں نے لاہور میں اپنے سینکڑوں کارکنوں سے وعدہ کیا کہ وہ ایک دن ان کے ساتھ گزاریں گے تو ’’اچانک‘‘ اپنا ارادہ بدلتے ہوئے اسلام آباد چلے گئے تو یہ ’’راہ حق‘‘ ہے۔

عام خیال یہ ہے کہ لاہور میں عمران خان نے اپنے ابتدائی جلسے سے ہی محسوس کر لیا کہ لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور اگر یہی صورت حال رہی تو میڈیا کے ذریعے کوئی اچھا تاثر نہیں جائے گا۔۔۔ سو انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ واپس اسلام آبا چلے جانا چاہئے اور 29 اپریل کو مینار پاکستان کے جلسے کے لئے دوبارہ سے سوچ و بچار کیا جانا چاہئے کہ مینار پاکستان کا پنڈال کیسے بھرے گا اور کم و بیش ڈھائی تین لاکھ لوگ کہاں سے لائیں گے، البتہ وہ لاہور سے یہ اطمینان کرکے گئے ہیں کہ محض لاہور سے اتنے لوگ اکٹھے نہیں ہوں گے کہ جس سے مینار پاکستان کا پنڈال بھر جائے، رہی بات ’’وکٹ‘‘ کی تو میرے خیال میں وہ ’’لاہور‘‘ کی وکٹ کھو چکے ہیں۔ آخر میں شعر بھی پڑھ لیجئے:

جس کی بنیادوں میں پانی بھر چکا

ایسی اک دیوار کے سائے میں مَیں

مزید :

رائے -کالم -