خواجہ آصف نااہلی کیس ، آئینی ترمیم کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا

خواجہ آصف نااہلی کیس ، آئینی ترمیم کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا

  

تجزیہ :سعید چودھری

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف کو بھی اقامہ اور دبئی کی ایک نجی فرم میں ملازمت کا معاملہ کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے کی بناء پر نااہل قرار دے دیا ہے ۔اس سے قبل ان ہی بنیادوں پر سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو سپریم کورٹ نااہل قرار دے چکی ہے ۔علاوہ ازیں عمران خان نے وزیرداخلہ احسن اقبال کی سعودی عرب کے اقامہ اور وہاں ملازمت کی بناء پر نااہلی کے لئے ابرارالحق کو اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی ہے ۔پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ نے جو معیار مقرر کردیا ہے اس کے بعد اثاثے چھپانے والے سیاستدانوں کی جان چھوٹتی نظر نہیں آرہی ۔شیخ رشید نااہلی کیس میں سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پاناما لیکس کیس میں مقرر کئے گئے انصاف کے معیار کو سخت قراردے چکے ہیں جبکہ خواجہ آصف کیس میں بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل بنچ نے قرار دیا ہے کہ وہ بوجھل دل کے ساتھ یہ فیصلہ دے رہے ہیں ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس حکم اور پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو دیکھا جائے تو نہ صرف احسن اقبال بلکہ شیخ رشید کے لئے بھی مشکل گھڑی آسکتی ہے ۔آئین کے آرٹیکل 62اور63میں ارکان اسمبلی کی اہلیت اور نا اہلیت کے لئے جو شرائط مقرر کی گئی ہیں ان پر عدالتیں اسی طرح عمل درآمد کرواتی ہیں جس طرح پاناما لیکس کیس میں کروایا گیا ہے تو متعددسیاستدانوں کے سر پر نااہلی کی تلوار مستقبل میں بھی لٹکتی نظر آرہی ہے جب تک کہ ان آرٹیکلز میں مناسب ترامیم نہیں کرلی جاتیں۔1973ء کے آئین کو بنظر غور دیکھا جائے تو اس میں انتخابی عمل کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ انتخابی تنازعات کو عدالتوں میں لے جانے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے ۔آئین کے آرٹیکل 225میں واضح کیا گیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل کے سامنے انتخابی عذرداری کے سوا پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پر اعتراض نہیں کیا جاسکتاتاہم عدالتوں نے اپنے آئینی اختیارات کی اس طرح تشریح کررکھی ہے کہ رٹ اور آئینی درخواستوں کے ذریعے بھی ارکان اسمبلی اور عوامی عہدیداروں کی اہلیت کا سوال اعلیٰ عدالتوں میں اٹھایا جاسکتا ہے ۔

وقت کا تقاضہ ہے کہ سیاسی جماعتیں آئین کے آرٹیکلز 62اور 63میں مناسب ترامیم پر سنجیدگی سے غور کریں جہاں تک آئین کے آرٹیکل 62(1)ایف کے تحت رکن پارلیمنٹ کی نااہلیت کا سوال ہے اس میں ترمیم سپریم کورٹ کی طرف سے قرار دیئے گئے بنیادی آئینی ڈھانچے سے بادی النظر میں متصادم نہیں ہے،چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم 5رکنی بنچ نے تاحیات نااہلی کیس کے اپنے فیصلہ میں یہ بھی قراردے رکھا ہے کہ آرٹیکل 62(1)ایف کا اطلاق مسلم اور غیر مسلم دونوں پر ہوگا۔دوسرے لفظوں میں فاضل بنچ نے اس آرٹیکل کو آئین کے بنیادی اسلامی ڈھانچے میں شامل نہیں کیا ہے ،اب پارلیمنٹ کو اس آرٹیکل میں ترمیم یا اسے منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہے کہ یہ معاملہ اسلامی احکامات کے تحت آئین کے بنیادی ڈھانچہ میں شمار نہیں کیا گیا۔ اگرمزید احتیاط مقصود ہو تو اس آرٹیکل میں صادق اور امین کی شرط کو برقرار رکھتے ہوئے بھی ایسی ترمیم عمل میں لائی جاسکتی ہے جس سے سابق وزیراعظم سمیت مختلف سیاستدانوں کی نااہلی سے متعلق عدالتی فیصلے غیر موثر ہوجائیں گے۔جیسا کہ 2010ء میں( 18ویں آئینی ترمیم کے تحت )آئین کے آرٹیکل62،63اور63(اے)میں متعدد ترامیم کی گئی تھیں۔ان ترامیم کو کسی عدالت میں چیلنج کیا گیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالت نے آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار دیا۔یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ جس آئینی آرٹیکل کو سپریم کورٹ یا دیگر اعلیٰ عدالتیں جائز قرار دے چکی ہوں انہیں منسوخ یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔مختلف مقدمات میں سپریم کورٹ نے صدر کے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اختیار سے متعلق آئین کے آرٹیکل 58(2)بی کو "سیفٹی والو "قراردیا تھا اس کے باوجود پارلیمنٹ نے اس آرٹیکل کو منسوخ کردیا تھا۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ کواختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے سابقہ فیصلوں کو نظر انداز کردے اور زیرسماعت مقدمے کا حالات وواقعات کی روشنی میں ایسا فیصلہ جاری کردے جو ماضی کے فیصلوں سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار سمیت سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ فوجی عدالتوں کے کیس میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کے تصور کو قبول کرنے سے انکار کرچکے ہیں اور قرار دے چکے ہیں کہ پارلیمنٹ کو ہر قسم کی آئینی ترمیم کا اختیار حاصل ہے۔پارٹی صدارت کیس میں بھی چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم بنچ نے آئینی ترمیم کو کالعدم نہیں کیا تھا بلکہ آئین اور قانون کے متعلقہ آرٹیکلز کی تشریح کرکے قرار دیا تھا کہ اسمبلی کی رکنیت کے لئے نااہل شخص کسی پارٹی کا سربراہ نہیں ہوسکتا۔

تجزیہ :سعید چودھری

مزید :

تجزیہ -