A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

وفاقی بجٹ آج پیش ہوگا، دفاعی بجٹ میں 10 فیصد اضافے کا امکان لیکن تنخواہوں اور پنشن میں کتنا اضافہ ہوگا؟ صبح صبح سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری آگئی

وفاقی بجٹ آج پیش ہوگا، دفاعی بجٹ میں 10 فیصد اضافے کا امکان لیکن تنخواہوں اور پنشن میں کتنا اضافہ ہوگا؟ صبح صبح سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری آگئی

Apr 27, 2018 | 10:22:AM

اسلام آباد (ویب ڈیسک)آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام 5 بجے طلب کیا گیا ہے، اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کریں گے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق دفاعی بجٹ میں 10 فیصد اضافے کے بعد رواں سال 920 ارب روپے کے مقابلے میں 1200 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران وفاقی ترقیاتی بجٹ کے لیے 800 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔

سول انتظامیہ کے جاری اخراجات کے لیے 448ارب روپے مختص کرنے، آئندہ مالی سال کے لیے ریونیو وصولی کا ہدف 4435 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ترقیاتی پروگرام کا حجم رواں سال کے مقابلے میں 201 ارب روپے کم تجویز کیے جانے کا امکان ہے۔آئندہ مالی سال کے دوران قرضوں کی ادائیگی کے لئے کل بجٹ کا 29.3 فیصد 1607ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10سے 15 فیصد اضافہ کیے جانے کا بھی امکان ہے۔بجٹ خسارہ 2029 ارب روپے مقرر کیے جانے اور آئندہ مالی سال کے دوران 2300 ارب روپے کے قرضے لئے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق بجٹ سیشن کے لئے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

بجٹ اجلاس سے قبل پارلیمانی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس بھی منعقد ہوں گے۔حکومت نے بجٹ دستاویز کی تیاری کیلئے تمام شراکت داروں کے ساتھ مشاورت مکمل کر لی ہے۔ بجٹ میں حکومتی پالیسیوں کے تسلسل کی عکاسی کی جائے گی اور ان میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے تمام محکموں، وزارتوں کے ساتھ ساتھ دیگر شراکت داروں بشمول کاروباری برادری کے نمائندوں سے بھی مشاورت کی گئی ہے اور ان سے تجاویز حاصل کی گئی ہیں۔آئندہ مالی سال کے دوران قومی محصولات بڑھانے اور ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کیلئے ٹیکس نظام میں مزید بہتری کیلئے اقدامات کئے جائیں گے جس سے ٹیکس دہندگان کو سہولت ہو گی۔

مزیدخبریں