مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی ۔ قسط نمبر ۱

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی ۔ قسط نمبر ۱
مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی ۔ قسط نمبر ۱

  

میاں جی کی خواہش تھی پھیکو چار جماعتیں پڑھ لے۔پورے گاوں میں سب سے کمتر حیثیت تھی مگر میاں جی کے دل میں یہ امنگ انگڑائیاں لے رہی تھی کہ پھیکو بھی پڑھ لکھ لے اور گاوں سے نکل کر کوئی ڈھنگ کی نوکری کرکے خاندان کا بوجھ بانٹ لے ،انہیں اسکی آنکھوں میں عجیب سی تابناکی دکھائی دیتی تھی جو ان  کے دوسرے   بیٹوں میں   نظرنہیں آتی تھی ۔ وہ اس کے سر پر  کتابوں کا تاج دیکھنا چاہتے تھے۔لیکن اُدھرپھیکو نے ایک عجیب عادت اپنا رکھی تھی۔

ایک دن میاں جی نے پرائمری ماسٹرکے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو وہ ان کا منہ تکنے لگا ” میاں جی اسکو پڑھنے کا شوق نہیں ۔اسکو گویّا بنا دیں “

” ہیں ....“ میاں جی نے حیرت سے ہاتھ ہاتھ نچایا ” کیا بات کرتے ہو ماسٹر “

” اسے گانے کا بڑا شوق ہے “ ماسٹر نے انکشاف کیا ” تفریح ویلے سارے بچے کھیلتے کودتے ہیں،پڑھاکو کتابیں لیکر بیٹھ جاتے اور تختیاں لکھتے ہیں۔اپنا پھیکو ہے کہ کنویں کی منڈھیر پر چڑھ جاتا اور  تانیں لگاتارہتا ہے“

یہ حیرت انگیز اور بڑی شرمندگی والی بات تھی۔میاں جی ہی کیا گاوں کا کوئی بندہ بھی یہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ ان کا بچہ سکول جائے اور وہاں گانے گاتا پھرے۔

پرائمری سکول کی بائیں جانب ایک پرانا کنواں تھا۔  درمیان میں جواں سال  برگد کا درخت تھا۔کنواں دوکمروں کے سکول کے احاطے میں ہی موجود تھا مگر ویران سا ہوا چلا جارہا تھا ۔اسکی منڈھیر کی اینٹیں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں۔جب سارا سکول بچوں کے شور شرابے میں ڈوبا ہوتا ،تیسری جماعت کا طالب علم پھیکو بستہ تختی اٹھاتا اور منڈھیر پر چڑھ کر گانے کی مشق کرنے میں مصروف ہوجاتا۔

اس روز میاں صاحب نے اسکو بہت ڈانٹا ۔اس زمانے میں بچے والد کے سامنے آنکھ نہیں اٹھا سکتے تھے ۔بزرگوں کا ادب لحاظ انہیں سکھایا جاتا تھا ۔پنجاب کے دیہاتی ماحول میں تو اسکو بڑی اہمیت حاصل تھی۔شام کو انہوں نے گھر میں اسکا ذکر کیا اور سوال اٹھایا ” کیوں نہ پھیکو کو سکول سے اٹھا لیا جائے ۔پڑھتا تو ہے نہیں،کوئی کام کاج ہی کرلے “

اس وقت پھیکو کی ماں رحمت بن کر اسکی ڈھال بن گئی اور اسکو اپنے آنچل میں چھپا لیا۔ اپنے شوہر سے وعدہ کیا کہ وہ پھیکو کو سمجھائے گی .... لیکن اسے سمجھانا کیا تھا ۔وہ جانتی تھیں کہ جس دن سے اک تارے والا فقیر بابا گلی سے گزرا ہے پھیکو پر اسکے کلام اور سوز نے دیوانگی طاری کردی ہے ۔وہ اونچی اونچی سُروں میں آوازیں لگانے لگا تھا ۔ایک دن سفید داڑھی والا فقیر ان کی کچی بستی میں کیا آیا ،پھیکو کے دل میں جیسے کوئی شے سی کھب گئی ۔فقیر انگلی سے اک تارہ بجا رہا تھا اور مست انداز میں گا رہا تھا ۔ننھے پھیکو نے اس کو روکا اور پوری توجہ سے اسکا گانا سنا اور اپنے بھائی صدیق سے کہا ” بے بے سے   آٹا لے    آ “

صدیق بھاگتا گیا اور مٹھی بھر آٹا فقیر کو لاکردیا ،وہ چلنے لگا تو پھیکو بے قرار ہوگیا ” اسکو روک ،پھر سنتے ہیں “ اس نے بھائی صدیق سے کہا تو اس نے فقیر کو آواز دیکر روکا” بابا “

فقیر نے رک کر اپنی اجلی اور گہری آنکھوں سے اسے دیکھا ”بابا پھر سنا ناں گیت“ فقیر کو ننھے پھیکو کا یہ انداز اسقدر بھایا کہ اس نے دوبارہ ایک تارے کا سحر پھونک دیا ۔پھیکو آنکھیں بند کئے سماعتوں کو کھولے،لبوں پر بول دہراتے چلا جارہا تھا ،فقیر پر اس کا وجدان آشکار ہورہا تھا ۔

” بابا میں بھی گاوں اب “پھیکو نے فقیر بابا کے خاموش ہونے پر التجا کی ۔

” گالے میرے بچے “ فقیر نے کہا

” اچھا تو آپ اسکو بجائیں “ ننھے پھیکو نے ایک تارے کی طرف اشارہ کیا۔

فقیر بابا مسکرایا اور اک تارے کی سُروں کو انگلی سے چھیڑنے لگا ۔فضا میں اک تارہ کا سوزاٹھا تو پھیکو نے بابے کے گائے بول اسی کے انداز میں گانے شروع کردئےے۔فقیر کے چہرے پر مسکان ابھر آئی ۔وہ اک تارہ اس وقت تک بجاتا رہا جب تک بچے نے گا کر اپنی تسلی نہ کرلی ۔

” بہت اچھا گاتا ہے تو۔کس سے سیکھا ہے “فقیر نے اسکی کمر پر ہاتھ پھیرا

”آپ سے سیکھا ہے بابا“ پھیکو نے معصومانہ جواب دیا

” رب سوہنا تجھے بڑی ترقی دے گا ۔تو بڑا آدمی بنے گا ،کوئی تیرے جیسا دوجا نہ ہوگا ۔تو گایا کر میرے بچے“ فقیر نے پھیکو کی پشت پر محبت سے کرموں والا ہاتھ پھیرا،اسکو دعا دی اور پھر جا کر اسی کنویں کی منڈھیر پر جابیٹھا ۔جواب ننھے پھیکو کے لئے مقدس استھان سے کم نہ تھی۔وہ سکول کے بعد سہ پہر کو جب فقیر کو اس منڈھیر پر اک تارے پر گاتے دیکھتا تو اس سے کچھ دور برگدکی اوٹ سے اسکو دیکھتا اور اسکی نقل اتارتا رہا ۔ایک دن اسکے بھائی نے کہا ” پھیکو تو گانا چاہتا ہے تو اونچی سروں میں گایا کر جیسے میلوں میں گانے والا گاتا ہے “ یہ دور لوک گیتوں کا تھا ۔میلوں ٹھیلوں میں گائیک سینے کے زور پر کانوں پر ہاتھ جما کر پورا گلا کھول کر گاتے تھے ۔ان کی آواز سازوں پر بھاری ہوتی اور پورے مجمع کو اپنے سحر میں لے لیتی تھی ۔

دیہاتوں میں جو فقیر مانگنے جاتے عام طور پر وہ بڑے عمدہ گائیک ہوتے تھے۔جس مذہب کا ہوتا اپنے صوفیانہ کلام کو گاتا،کوئی چمٹے پر اور کوئی اک تارے پر۔یہ چلتے پھرتے موسیقار ہوتے تھے۔ان کے سر سادہ مگر سوز لئے ہوتے،ا ن میں سبق اور تلقین ہوتی،دنیاداری میں الجھے ،رشتوں کی نفرتوں کا شکار ہونے والوں کے لئے وہ خاص طور پر کوئی نہ کوئی کلام پیش کرتے۔وہ گھر گھر جاتے،دروازے س پر کھڑے ہوکر    تان لگاتے، لوگ حسب توفیق روٹی یا آٹا انکو بھینٹ دیتے۔

پھیکو ں کے من میں فقیر سما گیا تھا ۔اس نے  بھی یہی وطیرہ اپنالیاتھا لیکن بھائی اور ماں سے وچن لیا کہ وہ میاں جی کو اسکے شوق کی بھنک نہ لگنے دیں گے۔ماں اور بھائی کی ہلہ شیری سے پھیکو کا مان بڑا اور وہ جمعے جمعرات کے دن نعتیں پڑھنے لگا ۔مسجد اور شوالے میں چلا جاتا ۔ایک دن میاں جی نے اسکو نعتیں پڑھتے دیکھا تو اس لئے مطمئین ہوگئے کہ ”چلو گارہا ہے مگر نیک کام کے لئے گارہا ہے ناں “ انہیں یہ امید تھی کہ پھیکو کا نعتیں پڑھنے کا شوق اسکو گانے نہیں گانے دے گا ....

کوٹ سلطان سنگھ جیسے چھوٹے سے امرتسری گاوں میں چند گھرانے مسلمانوں کے بھی تھے ،اب تو یہ گاوں کافی پھیل چکا ہے،امرتسر سے بیس تیس میل آگے یہ ہرابھرا لہلہاتے  کھیتوں والا گاوں تاریخ بن چکا ہے ۔اب یہاں سکھ  آباد ہیں ،ہجرت کے بعد مسلمانوں نے اس گاوں کو خیر باد کہہ دیا تھا ۔اس دور میں سکھوں اور مسلمانوں میں بڑا سلوک اوربھائی چارہ تھا۔ کوئی مذہبی تقریب ہوتی تو  پھیکو کو بلا لیا جاتا اور وہ سینے کا زور لگا کر ایسی ہوک لگاتا کہ سننے والوں کے سینے میں ٹھنڈ پڑجاتی ۔میاں جی اس پر مطمئن تھے کہ ان کے بچے کا رجحان مذہبی ہے ....لیکن تقدیردس گیارہ سالہ پھیکو کے سینے میں سرسنگیت کی جوت جلا چکی تھی۔پھیکو کو محمد رفیع بن کر گیتوں میں امر ہونا تھا ۔ 1934 ءکا زمانہ تھا جب پھیکو خواب دیکھ رہا تھا اور تعبیر اس کی مٹھی میں بند جگنو کی طرح دمک رہی تھی ۔اسکے سُرتانیں اسکو بے چین کررہی تھیں کہ وہ اب کوٹ سلطان سنگھ سے نکل کر لاہور چلا جائے ،لاہور میں ان کا ایک جاننے والا ملک تاج تھا جو ان کا وسیلہ بن کراسے پھیکو سے محمد رفیع کی شناخت دلوا سکتا تھا ۔قسمت آزمائی کے لئے اس نے گاوں سے لاہور جانے کا فیصلہ کیا،سکول کا بستہ تختی لپیٹ کر ایک طرف پھینکا اس میں ایک جوڑا کپڑوں کاٹھونسا ،ایک ٹینٹ قنات لی اوربھائی کے ساتھ عازم لاہور ہوگیا ۔اس وقت محمد رفیع کی عمر گیارہ بار سال سے زیادہ نہیں تھی ۔لاہور میں وہ ٹینٹ جھونپڑی لگا کر اپنے مقدرکو وصولنے کے لئے بیٹھ گیا ۔کہیں سنتا کہ کوئی میلہ لگا ہوا ہے تو وہاں پہنچ کر بڑے لوک گلوکاروں کو سنتا ،پھر میلے میں اپنی آواز کا جادو جگاتا تو لوگ اس چھوٹے سے بچے کی سروں پر گرفت دیکھ کر چونک جاتے۔وہ میلہ لوٹ نہیں پاتا تھا لیکن اس کا اعتماد جوان ہونے لگ پڑا تھا ۔ (جاری ہے )

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی ۔ قسط نمبر 2 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /مقدر کا سکندر