کمرہئ عدالت میں جج پر وکیل کا حملہ

کمرہئ عدالت میں جج پر وکیل کا حملہ

  

جڑانوالہ کچہری میں ایک اور افسوسناک واقع پیش آیا ہے،جس کے مطابق ایک وکیل عمران منج نے دوران سماعت مرضی کے مطابق فیصلہ نہ کئے جانے پر فاضل جج پر کرسی سے حملہ کر دیا اور وہ زخمی ہو گئے۔خبر کے مطابق فاضل جج کو علاج کے لئے ہسپتال لے جایا گیا اور اطلاع ملنے پر فیصل آباد سمیت تمام جج حضرات نے کام چھوڑ دیا ارو ڈسٹرکٹ سیشن جج نے بھی نوٹس لیا۔ مزید اطلاع یہ ہے کہ وکیل کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا اور بار ایسوسی ایشن نے وکیل کا وکالتی لائسنس منسوخ کرنے کی سفارش کر دی ہے۔عدالت کے اندر کسی محترم وکیل کی طرف سے ایسی دست درازی کا یہ پہلا واقع نہیں ہے۔ اس سے قبل نہ صرف عدالتوں کے اندر بلکہ باہر کچہریوں کے احاطوں میں بھی وکلا کی طرف سے انفرادی اور مجمع کی صورت میں ایسے حملوں کی خبریں آتی رہتی ہیں،حتیٰ کہ عام طور پر پولیس افسروں اور اہلکاروں کو مارا جاتا ہے اور جب تھانے میں مقدمہ درج ہوتا ہے تو پھر احتجاج ہوتا ہے۔اس سلسلے میں بہت زیادہ تشویش پائی جاتی ہے اور اسے وکلا گردی پکارا جانے لگا ہے کہ بار اور فاضل جج حضرات کی باہمی کوششوں کے باوجود یہ سلسلہ اب تک نہیں رُک پایا، حتیٰ کہ خود پاکستان اور پنجاب بار کونسلوں کی طرف سے تحقیق اور سروے کے نتیجے میں بیسیوں وکلا کی ڈگریاں بھی جعلی نکلیں، عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کی طرف سے وکلا کے نمائندہ اداروں بار کونسلوں کے تعاون سے اِس وبا پر قابو پانے کی کوشش کامیاب نہیں ہو پائی،فاضل چیف جسٹس صاحبان اور پاکستان بار کونسل کو صوبائی بار کونسلوں اور ضلعی بار ایسوسی ایشنوں کے باہمی اور مربوط تعاون کے ساتھ اس ناروا طرزِ عمل کا مکمل خاتمہ کرنا ہو گا کہ سائلین کو انصاف مل سکے۔عدالتی نظام میں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ہے تو پھر پسند کا فیصلہ لینے کے لئے تشدد کا راستہ کیوں؟ اس وباء کا مکمل خاتمہ معاشرے کے امن کے لئے بھی ضروری ہے۔یوں بھی یہ شعبہ قابل احترام ہے کہ بانی ئ پاکستان بھی وکیل تھے وکلا کو اس کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -