صحت کی تلاش

صحت کی تلاش
صحت کی تلاش

  

ہر شخص اور محکمہ وہ کام کررہا ہے، جو اس کے کرنے والا نہیں، وہ نہیں کر رہا، جو کرنا چاہئے یا اس کے منصب کا متقاضی ہے۔ گزشتہ دورِ حکومت میں خادمِ اعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے نیک نیتی سے پنجاب کو خوبصورت ترین بنانے کے لئے کچھ اتھارٹیز قائم کی تھیں مثلاً صاف پانی پلانٹ، فوڈ اتھارٹی اور پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کا تصور بہت دلکش،جامع اورمفیدتھا، لیکن عملاً اس کی جو درگت بنی،وہ ازحددلخراش اور اذیت ناک ہے، اول تو یہ کہ اس کے وجود میں ہی کچھ فنی خامیاں رہ گئی تھیں۔ اگر صوبہ کے کسی خطے میں بھی کارروائی کرے تو اس کی سماعت لاہوراور پھر اپیل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، لاہور کی عدالت میں لازم ٹھہرائی گئی ہے۔اب فرض کریں کارروائی راجن پور، مری یا ملتان میں ہوئی ہے۔

متاثرہ فریق کو داد رسی کے لئے صوبائی دارالحکومت ہی میں رجوع کرنا ہو گا۔ صورتِ حال یہ ہے کہ ادارے کا قیام تو جذبہ نیک نیتی سے عمل میں آیا تھا، مگر عملاً یہ عوام پر ایک بوجھ اور عذاب بن کر رہ گیا۔نئے محکمہ بنانے اور اتھارٹیز قائم کرنے کی بجائے کیا ہی اچھا تھا کہ متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے اندر ہی ایک متحرک شاخ بنا دی جاتی،جو ممکن العمل تھا۔ بھاری اخراجات نہ نئی نویلی پیچیدگیاں!

ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں ایک کروڑ سے زائد افراد نشے کی لت میں بُری طرح مبتلا ہیں اور روز بروز ان میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے،جبکہ کہیں بھی ان کے علاج کے لئے کوئی سرکاری ہسپتال موجود نہیں ہے۔

ہسپتال تو کجا، کسی جگہ ایک وارڈ بھی موجود نہیں البتہ این جی اوز کچھ کام کر رہی ہیں۔ان کے ساتھ سوتیلے پن کا سا سلوک ہو رہا ہے۔ مَیں نے خود دیکھا وزیر آباد میں کمبوہ ہیلتھ کیئر، جو ایک این جی او کے تحت اپنی مدد آپ کے تحت چل رہا تھا، کو سرکاری ہسپتال سے مریضوں کو ترک منشیات کے لئے ریفر کیاجاتارہا۔ اس کے باوجود پنجاب ہیلتھ کیئرکمیشن کے اہلکاروں نے ان کا جینا حرام کر دیا۔ ترک منشیات کا ایک سہاراتھا،جسے مقفل کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح دیگر کئی سنٹر بند ہونے سے جرائم اور منشیات میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ یوں جو نقشہ اُبھرتا ہے،بہت ہی زیادہ خطرناک ہے۔حکومت کو اس پر خاص توجہ مبذول کرنی چاہئے۔نہیں تو یہ طوفان ہر گھر کی دہلیز تک پہنچ جائے گا۔

صحت کی دُنیا میں فی الواقع بھونچال آ چکا ہے۔ جعلی ادویات کا دھندہ بھی اپنے پورے عروج پر ہے۔غریب عوام کی گویا کمر ہی ٹوٹ گئی ہے۔کینسر کے مریض اسپرین بھی نہیں لے پا رہے۔ لیبارٹریز کے ریٹ آسمان سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ علاج اس قدر مہنگا ہو چکا ہے کہ الاماں! غرباء کے لئے قلت غذا عذاب کی صورت مسلط ہے۔اس درد کی دوا تلاش بروقت ہونی چاہئے۔ویسے پورے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں ایک سے بڑھ کر ایک طرفہ تماشا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض افراد کو مسیحائی کرتے بھی دیکھا گیا،جو تپتے صحرا میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں جیسے ہیں۔

ان میں جنرل ہسپتال کے نیورو سرجن ڈاکٹر رضوان مقصود بٹ،نشتر ہسپتال ملتان کے ڈاکٹر محمد انور چودھری اور ڈاکٹر محمد اسلم کلیر، ایم ایس تحصیل ہسپتال، وزیر آباد بطور خاص قابل ذکر ٹھہرے۔پنجاب ڈینٹل ہسپتال، لاہور میں پاک ترک تعاون سے گزشتہ دورِ حکومت میں ایک یونٹ نے کام شروع کیا،جس سے عوام کو بہت فائدہ پہنچ رہاہے۔ اس کو کامیاب تربنانے میں ایم ایس ڈاکٹر محمد عاصم فاروقی کا بہت کردار ہے۔

ان کی ٹیم میں ڈاکٹر کومل مریضوں کی خیر خواہی میں انتہائی متحرک ہے۔ آخر بحیثیت مجموعی ہر شخص اور محکمہ وہ کام کیوں کر رہا ہے، جو اس کے کرنے والا نہیں، وہ نہیں کر رہا،جو کرنا چاہئے یا اس کے منصب کا متقاضی ہے۔ یہ حکومت پنجاب سے ایک سوال ہے اور اس وقت تک ہے کہ جب تک جواب نہیں مل جاتا۔

مزید :

رائے -کالم -