کتابوں کی دُنیا

کتابوں کی دُنیا
کتابوں کی دُنیا

  

صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی وہ بات مجھے ابھی تک قائل نہیں کرپا رہی کہ علم زندہ رہے گا چاہے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی وجہ سے کتاب معدوم بھی ہو جائے۔یہ بات انہوں نے قومی کتاب میلہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھی۔اُن کا استدلال تھا کہ اصل چیز علم کی ترسیل ہے،وہ کسی بھی فارم میں ہو۔

اب اگر وہ کتاب کی بجائے انٹرنیٹ، چپ یا کسی دوسری ڈیجیٹل فارم میں زیادہ آسانی سے دستیاب ہے تو لوگ اُس طرف جائیں گے، کتاب شاید پیچھے رہ جائے،تاہم مَیں نے پی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ کتاب کا آج اور آنے والے کل میں بھی کوئی بدل نہیں ہو سکتا، کیونکہ کتاب ایک مجسم شکل میں سامنے ہوتی ہے۔ اُس کا لمس اور گھر میں اُس کا وجود خواہ مخواہ پڑھنے پر اُکساتا ہے۔

جس گھر میں کتابیں ہوں گی، اُس گھر کے بچے بھی کتاب سے مانوس رہیں گے، وگرنہ شاید وہ اِس نعمت سے محروم ہو جائیں گے۔یہ باتیں مجھے اِس لئے یاد آئیں کہ آج مَیں جن کتابوں کا تذکرہ کرنے والا ہوں، انہیں پڑھ کر مجھے اسی قسم کا ترفع محسوس ہوا ہے،جیسا کہ بہت بڑی راحت اور آسودگی کے بعد حاصل ہوتا ہے۔

کتاب ایک دُنیا ہے اور اِس دُنیا میں داخل ہو کر ہم مصنف کے ساتھ ساتھ نئے مناظر،نئے محسوسات اور نئی آشاؤں سے ہمکنار ہوتے ہیں۔

آج میرے سامنے پہلی کتاب معروف دانشور، صحافی اور محقق جبار مرز کی تصنیف ”نشانِ امتیاز“ ہے۔یہ دراصل ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حوالے سے34برسوں پر مشتمل اُن کی یاد داشتوں کا مجموعہ ہے۔ اتنی طویل رفاقت کے بعد کسی شخصیت کے لئے جو محبت اور گداز پیدا ہو جاتا ہے، وہ جبار مرزا کی اِس کتاب میں قدم قدم پر نظر آتا ہے۔یہ کتاب کیا ہے،ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی کا احاطہ کرتی ایک ایسی زنبیل ہے، جس میں ہر عکس موجود ہے۔اُن کی زندگی کے ہر ہر لمحے کا احوال، انہیں ملنے والے اعزازات کی تفصیل، اُن کے خاندانی حالات، ایٹمی دھماکوں کی کہانی، غرض وہ سب کچھ جو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی کا حصہ بنا،اِس کتاب میں سمو دیا گیا ہے۔

مصنف کی عرق ریزی اور محنت ہر صفحہ پر نظر آتی ہے، پھر اُن کا جادو اثر بیان قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ سات ابواب پر مشتمل اِس کتاب کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت اپنے پورے قدو قامت کے ساتھ سامنے آ جاتی ہے۔پھر اُن حالات و واقعات کو پورے پس منظر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔اس کتاب میں چونکا دینے والے انکشافات بھی کئے گئے ہیں،جوایک قومی ہیرو کو زیرو کرنے کے لئے اقتدار کی غلام گردشوں میں ہونے والی سازشوں اور واقعات پر مبنی ہیں۔

یہ ممکن ہے کہ مصنف اپنے ممدوح سے بے پناہ محبت کے سبب کہیں زیادہ ہی اظہارِ عقیدت کر گئے ہوں، مگر جس طرح انہوں نے جیتے جاگتے کرداروں کے ذریعے تاریخ کے صفحات کو اس کتاب میں عکس ریز کیا ہے،اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسی شخصیت کو متنازعہ بنانے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا گیا۔میری جبار مرزا سے ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں اور مَیں نے دیکھا ہے کہ وہ اپنی دوسری کتابوں کے برعکس اِس کتاب کو اپنی زندگی کا اثاثہ سمجھتے ہیں اور واقعی یہ کتاب پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کس قدر محنت، عرق ریزی اور تحقیق کے بعد یہ کتاب تخلیق کی ہے، جو خود اُن کے لئے بھی نشانِ امتیاز بن گئی ہے۔

ریڈنگ برکشائر برطانیہ سے معروف شاعرہ، افسانہ نگار اور نقاد فرخندہ رضوی خندہ نے اپنا تازہ شعری مجموعہ ”خوشبوئے خندہ“ بھجوایا ہے۔برطانیہ میں اُردو کی ادبی شمعیں جن شخصیات نے جلا رکھی ہیں،اُن میں فرخندہ رضوی خندہ کا نام سرفہرست ہے۔اس سے پہلے اُن کا شعری مجموعہ ”زیرلب خندہ“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے،جبکہ مضامین کی کتاب ”قلم خندہ“ کے عنوان سے چھپ چکی ہے۔

انہوں نے اپنی شاعری میں ہر صنف کو برتا ہے۔ نظم، غزل، نعت، سلام اُن کی شاعری کا سانچہ بنتے ہیں،تاہم غزل اور نظم میں اُن کی تخلیقی صلاحیتیں زیادہ اُبھر کر سامنے آئی ہیں۔اپنے ادبی سفر کے بارے میں وہ لکھتی ہیں:”مَیں نے اپنے ادبی سفر کو بہت مشکل سے طے کیا،کیونکہ نہ تو میرا کسی ایسی فیملی سے تعلق تھا،جہاں اُردو اب پلتا ہے، آباؤاجداد میں دور دور تک کوئی ایسی روشنی نہیں ملی، جس سے کچھ ادبی کرنیں ہی اپنے نام کر لیتی، مگر میرے شوق اور اُردو سے محبت نے میرے قلم کو زنگ آلود نہیں ہونے دیا“۔

گوجرانوالہ سے تعلق کھنے والی فرخندہ رضوی خندہ شادی کے بعد برطانیہ منتقل ہوئیں،تو انہیں اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو باہر لانے کا بھرپور موقع ملا۔اُن کی شاعری میں زندگی کے سبھی رنگ مہکتے نظر آتے ہیں، تاہم سب سے بنیادی موضوع محبت ہے۔

محبت بھی وہ جو صلہ نہیں مانگتی، بلکہ بے لوثی کے جذبوں سے معمور ہوتی ہے۔اُن کی غزلوں میں ایک وارفتگی نظر آتی ہے، تاہم انہیں اپنے عہد کی سچائیوں اور تلخیوں سے بھی مکمل آگہی ہے،جہاں جہاں وہ لمحہ ئ موجود کی باز یافت کرتی ہیں،اُن کے شعروں میں روحِ عصر دوڑتی دکھائی دیتی ہے۔مثلاً ایک شعر ملاحظہ کیجئے:

لشکروں کو رات دن تیار بھی کرتے ہیں ہم

جنگ کرنے سے مگر انکار بھی کرتے ہیں ہم

اسی طرح یہ شعر دیکھئے:

جمع کرتے ہو خواہشیں جو تم

خرچ بھی اعتدال میں رکھنا

اُن کی نظموں کا کینوس بہت وسیع ہے۔ موضوعات کا ایک تنوع ہے،جو اُن کی نظموں میں جاگزیں نظر آتا ہے۔نظموں میں محبت کی نظمیں بھی ہیں اور عصر حاضر کے مسائل و انسانی نفسیات کی بوقلمونی کو آشکار کرتی نثری و آزاد نظمیں بھی۔ فرخندہ رضوی خندہ کی شخصیت میں چونکہ دو تہذیبوں کا رچاؤ موجود ہے،اِس لئے اُن کی سوچ دونوں انتہاؤں پر سفر کرتی ہے، تاہم اپنی جنم بھومی کی تہذیب کا عکس زیادہ نظر آتاہے۔

جہلم ایک ایسا شہر ہے،جس کے بارے میں کہا جاتا ہے فوجیوں اور جرنیلوں کا مسکن ہے۔ پاک فوج میں اس خطے کی نمائندگی بہت زیادہ ہے،تاہم ادب و فن کے حوالے سے بھی اس شہر کی اپنی ایک خاص شناخت ہے۔اسی شہر سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر مرزا سکندر بیگ کا نیا شعری مجموعہ ”خاموش صدائیں“ نظر نواز ہوا۔مرزا سکندر بیگ سے میرا بالمثافہ تعارف ملتان میں ہوا،جہاں وہ سرکاری ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔

اس وقت اُن کا پنجابی شعری مجموعہ ”دھپاں پچھلے پہر دیاں“ منظر عام پر آ چکا ہے۔پنجابی شاعری میں اپنی شناخت بنانے کے بعد مرزا سکندر بیگ، اُردو شاعری کی طرف آئے اور آتے ہی اُردو غزل میں اپنی انفرادیت کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ ”خاموش صدائیں“ میں شامل اُن کی غزلیں غزل کا تہذیبی رچاؤ لئے ہوئے ہیں، جو اوصاف غزل کو دیگر شعری اصناف سے منفرد بناتے ہیں،وہ سب اُن کی غزلوں میں نمایاں نظر آتے ہیں۔

افتخار عارف اُن کی غزل کے بارے میں لکھتے ہیں: ”سکندر بیگ مرزا کی غزلیں اُن کے دِل کی واردات کا اظہاریہ ہیں اور اِس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ جو دِل سے نکلے کلام وہ بے اثر نہیں ہے“۔…… غزل کے روایتی موضوعات کے ساتھ ساتھ مرزا سکندر بیگ کی غزلوں میں غیر روایتی موضوعات بھی ملتے ہیں:

یہی نہیں کہ امام بدلیں

چلو یہ سارا نظام بدلیں

جو اپنی تاثیر کھو چکا ہے

چلو کہ اب وہ کلام بدلیں

کون حفاظت کرتا ہے مسکینوں کی

وہ تو بیچ چوراہے مرتے رہتے ہیں

مزید :

رائے -کالم -