تھیلیسمیا کی روک تھام ، آگاہی کے سلسلے  میں ابن سینا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں سیمینار

تھیلیسمیا کی روک تھام ، آگاہی کے سلسلے  میں ابن سینا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ...

  

ملتان(خبر نگار خصوصی) تھیلیسمیاکی روک تھام اورآگاہی کے سلسلے میں ابن سینا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان میں سیمینار منعقد کیا گیا ، جس میں تھیلیسمیاکی روک تھام کےلئے مختلف شعبہ زندگی(بقیہ نمبر53صفحہ12پر )

 سے تعلق رکھنے والے افراد،ڈاکٹرز، پروفیسرز،سکالرز اور طبا وطالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی ، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹرپی ٹی پی پی ڈاکٹر شبنم بشیر نے تھیلسیمیاکی بیماری اور اسکی پیچیدگیوں کے بارےمیں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 10سے 12ملین تھیلیسمیاکے کیرئیرز اور تقریباََ60ہزار تھیلسیمیا میجر کے مریض رجسٹرڈ ہیں اورہر سال اس بیماری مریضوں کا اضافہ ہورہاہے جن کا علاج پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کےلئے ناممکن ہے حکومت پنجاب نے تھیلیسمیاکے مریضوں کی شادی سے پہلے اور بعد میں( سکریننگ )تشخیص قبل از پیدائش فراہم کردی ہے، سیمینار سے خطاب کرتےہوئےپروجیکٹ ڈائریکٹرڈاکٹر حسین جعفری نے کہا کہ پاکستان میں دیگر موروثی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے تھیلیسمیاملک کی سب سے بڑی موروثی بیماری ہے اس سے بچاﺅ کے لئے آگاہی ضروری ہے،ڈاکٹر شبیر ناصر نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھیلسمیا کا مرض قابل علاج ہے،لوگوں کو تھیلسیمیا سے متعلق کونسلنگ، تشخیص اور پرہیز کے بارے میں آگاہی ضروری ہےاس موقع پر ڈاکٹرعمران رسول ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -