اعلی حکام کی لاپروائی ، ایڈیشنل لینڈ ریکارڈسنٹر زکامنصوبہ فائلوں میں” دفن“

اعلی حکام کی لاپروائی ، ایڈیشنل لینڈ ریکارڈسنٹر زکامنصوبہ فائلوں میں” دفن“

  

ملتان(سپیشل رپورٹر )پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے اعلی حکام کی روایتی سستی اور غفلت کے باعث ضلع ملتان میں ایڈیشنل لینڈ ریکارڈ سنٹر ز کا قیام گزشتہ دو سالوں سے التوا کا شکار ہے جس سے عوام کو شدید مصیبت میں مبتلا کردیا گیاہے انگریز دور کی یاد تازہ کردی گئی ہے ملتان سٹی اور صدر کے(بقیہ نمبر47صفحہ7پر )

 ڈھائی سو سے زائد مواضعات کا ریکارڈ شہر سے 20کلو میٹر دور سنٹر میں شفٹ کردیا گیا ہے جس سے ملتان کی عوام تنگ آگئی ہے سابقہ حکومت پنجاب نے ملتان سٹی اور صدر میں تین سے چار ایڈیشنل لینڈ ریکارڈ سنٹر کے فوری قیام کی منظوری دی تھی جس پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے ملتان صدر کے کسانوں کاشتکاروں اور زمینداروں کو اپنی خواتین کو متی تل میں قائم لینڈ ریکارڈ سنٹر میں لانے کے لئے کوئی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ملتی اور نہ کوئی سروس جاتی ہے بلکہ مہنگے کرائے پر رکشے اور گاڑیاں لے کرآنا پڑرہاہے جس پر شہری ذلیل وخوار ہورہے ہیں لوگوں سراپا احتجاج ہیں ملتان سٹی کا ایڈیشنل لینڈ ریکارڈ سنٹر شہرکے اندر ایم ڈی اے چوک پر قائم کیا جائے یا سرکٹ ہاوس کے ملحقہ جنگلات کمپلیکس میں قائم کیا جائے اسی طرح ملتان صدر میں چار ایڈیشنل لینڈ ریکارڈ سنٹر ز قائم کئے جائیں ایک بندبوسن قانون گوئی دوسرا شیر شاہ قانون گوئی تیسرا مخدوم رشید قانون گوئی اور چوتھا قصبہ قانون گوئی میں قائم کرکے 24لاکھ آبادی کو ریلیف فراہم کیا جائے موجودہ لینڈ ریکارڈ سنٹر میں رش کے باعث آئے روز لڑائی جھگڑے معمول بن گئے ہیں سٹاف کی قلت کے باعث افسران کوشدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے حتی کہ ضروری سامان تک نہیں ہے رمضان کے مبارک مہینے میں دور دراز علاقوں سے متی تل آنا انتہائی دشوار گزار ہے اور شدید گرمیوں میں موجودہ لینڈ ریکارڈ سنٹرمیں لوگوں کے رش کے باعث بزرگ شہریوں کو عذاب لگتا ہے سائلین نے گورنر پنجاب وزیر اعلی پنجاب وزیر مال کے علاوہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ارباب اختیار سے اپیل کی ہےکہ فوری طور پر سابقہ حکومت کے منظور شدہ ایڈیشنل لینڈ ریکارڈ سنٹرز فوری طورپر قائم کرکے عوام کو ریلف فراہم کیا جائے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -