بجٹ میں کیمیکل انڈسٹری کی ترقی کیلئے خصوصی ریلیف پیکج شامل کیا جائے ،پی سی ایم اے

  بجٹ میں کیمیکل انڈسٹری کی ترقی کیلئے خصوصی ریلیف پیکج شامل کیا جائے ،پی سی ...

  

لاہور(کامرس ڈیسک) پاکستان کیمیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن ( پی سی ایم اے) نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ آئیندہ وفاقی بجٹ میں کیمیکل انڈسٹری کی ترقی کیلئے خصوصی ریلیف پیکیج شامل کیاجائے۔پی سی ایم اے کی سیکرٹری جنر ل سید اقبال قدوائی نے آج یہاں جاری شدہ ایک بیان میں کہا کہ مقامی کیمیکل انڈسٹری برآمدی شعبوں کو درکار اہم کیمیکلز کی فراہمی میں کلیدی کردار انجام دے رہی ہے۔ لیکن افسوس کہ ترقی کی وسیع گنجائش اور برآمدات کیلئے مصنوعات کی تیاری میں مدد کے باوجود حکومت نے سہولتوں اور ترغیبات کی فراہمی کے سلسلے میں کیمیکل انڈسٹری کی اہمیت کو تا حال تسلیم نہیں کیا۔ حالانکہ کیمیکل انڈسٹری کو انفراسٹرکچر جیسی سہولتیں فراہم کر کے اس شعبہ میں خطیر بیرونی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نیفتھا کریکر کمپلیکس کی عد م موجودگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں ہماری کیمیائی اشیاءردی کے بھاﺅخریدی جاتی ہیں۔ جبکہ علاقے میں موجود دیگر ہم پلہ ممالک میںایک سے زیادہ نیفتھا کریکر پائے جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ایران میں معاشی پابندیوں کے باوجود ۹، بھارت میں بھی ۹ اور سنگا پور میں ۸ نیفتھا کریکر کمپلیکس قائم کئے جا چکے ہیں۔پی سی ایم اے کے سیکرٹری جنرل نے مزید شکائت کی کہ انفرا سٹرکچر کی سہولتوں کی عدم فراہمی کے علاوہ کیمیکل انڈسٹری کو ٹیکس ریفنڈ کے حوالے سے بھی نظر انداز کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کیمیکل مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو کیش فلو کے حوالے سے بھی شدید بحران کا سامنا ہے ۔ انہوں نے بتا یاکہ اس وقت کیمیکل انڈسٹری کی کثیر رقوم ٹیکس ریفند کی مد میں پھنسی ہوئی ہیں۔

 حالانکہ انکے ریفنڈ کیس منظور ی کے پیچیدہ عمل سے گزر کر ادائیگی کیلئے اسلام آباد ایف بی آر میں پڑے ہوئے ہیں مگر حکومت کی طرف سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے انکی ادائیگی رکی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ چند ماہ قبل حکومت نے ٹیکس ریفنڈ کیلئے ۸ بلین روپے کی رقم ریلیز کی تھی مگر یہ ساری کی ساری رقم برآمدات پر مبنی صنعتوں کے ریفنڈ تک محدود کر دی گئی اور کیمیکل انڈسٹری سمیت دیگر کئی مستحق صنعتوں کو اس رقم میں سے ٹیکس ریفنڈ نہیں کئے گئے۔انہوں نے کہاکہ اگر کیمیکل انڈسٹری کو جلد از جلد منظور شدہ ٹیکس ریفنڈ ادا نہ کئے گئے تو اس صنعت کا مالیاتی بحران ناقابل برداشت حد کو چھو لے گا ۔ 

مزید :

کامرس -