سچے سُروں کو عصر حاضر میں تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے، شو بز شخصیات

سچے سُروں کو عصر حاضر میں تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے، شو بز شخصیات
 سچے سُروں کو عصر حاضر میں تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے، شو بز شخصیات

  

لاہور ( فلم رپورٹر)شوبزکے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ سچے سُروں کو عصر حاضر میں تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے برصغیر پاک و ہند میں بہت بڑے بڑے گائیکوں نے جنم لیا یہ دھرتی موسیقی کے حوالے سے بہت زرخیز رہی اب نامور گلوکار تو بہت ہیں لیکن سُر اور لے پر عبور رکھنے والے بہت کم تعداد میں موجود ہیں۔ 60 کی دہائی کے آخر میں پاکستان میں کلاسیکل اور لوک موسیقی کی پذیرائی نہایت کم ہو گئی تھی کیونکہ استادان موسیقی استاد عاشق علی خان ، استاد وحید خان وغیرہ ایک ہی عشرے میں یکے بعد دیگرے وفات پا گئے تھے، جبکہ شہر آفاق کلاسیکل گائیک بڑے غلام علی خاں، انڈیا ہجرت کر گئے تھے۔روشن آراءبیگم،استاد برکت علی خاں ،استاد فتح علی خاں،استاد سلامت علی خاں،استاد نزاکت علی خاں،استاد عاشق علی خاں، سائیں اختر ، ریشماں ، منیر سرحدی، عابدہ پروین، اور مصری خاں جیسے کلاسیکل اور لوک گائیک ڈھنڈے سے بھی نہیں ملتے ۔پاکستان کی لوک موسیقی عوام الناس کے سچے جذبوں ان کی محبتوں نفرتوں غموں خوشیوں اور زندگی سے بھرپور رسوم اور میلوں ٹھیلوں کی ترجمان ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ان کی روحانی وحدتوں کی ترجمان ہے۔ تمام دنیا کی طرح پاکستانی لوگ گیتوں میں بنیادی طور پر ایک ٹیپ کا مصرع ہوتا ہے۔ اسی طرح ہماری محبت بھری اور رزمیہ شاعری بھی مخصوص سروں میں گائی جاتی ہے۔ جس کا ایک اپنا جداگانہ انداز ہے۔ اس میں ہیر رانجھا، مرزا صاحباں، سوہنی مہینوال، اور سسی پنوں شامل ہیں۔خرم شیراز ریاض،شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری ،شانسید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاءصائمہ نور،میگھا،انیس حیدر،ہانی بلوچ،پرویز کلیم و دیگر نے کہا کہ موجودہ دور میں اچھی موسیقی کا تصور ناپید ہوچکا ہے ۔مسلمانوں نے موسیقی کو باقاعدہ ایک معتدل فن کے طور پر باقاعدہ استعمال کیا۔ ستار اور طبلہ جن کی ایجاد مسلمانوں کا کارنامہ ہے جوبہت جلد مقبول ہو گئے۔ مسلمانوں نے اپنا نظام موسیقی ریاضی کے اصولوں پر مرتب کیا۔ عربی کا لفظ موسیقی یونانی زبان سے اس زمانے میں مستعار لیا گیا جبکہ عرب دانشور یونانی فلسفے کا عربی زبان میں ترجمہ کر رہے تھے۔ مسلمان مفکر فارابی نے علم موسیقی پر بہت کام کیا۔ لیکن عام مفہوم میں موسیقی کو غنا کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔ اور گلوکار کو مغنی اور گلوکارہ کو مغنیہ کہتے تھے۔ عربوں نے اپنی علم موسیقی میں اضافے روم اور ایرا ن کے موسیقاروں کے تعاون سے کئے۔

شروع میں نامور مسلم موسیقاروں میں پیشہ وارانہ حیثیت سے طوپس، غرت المیا اور صاحب خاطر کے نام سے بہت مشہور ہوئے۔ ابن مسیحا باز نطینی اور ایرانی موسیقی عالم کی حیثیت سے نامور ہوا۔ اس میں ایرانی اور رومن دھنوں کو اہم بخشا۔ بعد ازاں عرب موسیقاروں نے یہ ایرانی بریط کے استعمال کے ذریعے سروں کا نیا نظام مرتب کیا۔ جو زیروہ بم کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔

مزید :

کلچر -